سی پیک صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کرے گا،ماضی کی حکومتوں نے قومی خزانے کو لوٹنے اور اپنی تجوریاں بھرنے کے سوا کچھ نہیں کیا:پرویز خٹک

پشاور

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت میرٹ اور انصاف کابول بالا کرنے کے لیے کوشاں ہے، صوبائی حکومت کی بہتر پالیسیوں سے متاثرہوکر چین ملائشیا سمیت کئی ممالک صوبے میں صنعت تجارت سمیت کئی منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کر رہےاور سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں، ہماری بہتر پالیسیوں کی بدولت صوبے میں صنعتی اور زرعی انقلا ب برپا اور عوام کو روزگار کے مواقعے ملیں گے،ماضی کی حکومتوں نے کرپشن قومی خزانے کو لوٹنے اور اپنی تجوریاں بھرنے کے سوا کچھ نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ ستر برس گزرنے کے باوجود عوام کے مسائل کم نہیں ہورہے،سی پیک صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کرے گا، چینی سرمایہ کارصوبے میں معاہدوں کوعملی جامہ پہنانے کے لئے آنا شروع ہوچکے ہیں،جس سے صوبے میں 30 بلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہوگی۔

نوشہر ہ کلاں ہوتی خیل اور بارہ بانڈہ میں بڑے شمولیتی جلسوں سے  خطاب کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پانی سے سستی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ، معلوم نہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف کیوں پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کی طرف توجہ نہیں دے رہے؟ خیبرپختونخوا حکومت نے چین کے ساتھ پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کے لیے انیس سو میگا واٹ بجلی پیداکا معاہد ہ کیا ہےجبکہ صوبائی حکومت مزید سستی بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر ازخود کام کررہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے عوام کے سروں کا سود اکیا ، اے این پی نے حکومت نہیں اتوار بازار قائم کیا ہوا تھا، ٹھیکوں پر کمیشن تقرریوں اور تبادلوں کی قیمتیں وصول کی جاتی، مولانا فضل الرحمن کواسلام سے کوئی زیادہ محبت نہیں وہ ہمیشہ اسلام آباد کی طرف نظر رکھتے ہیں، پی پی پی کے لیے ایک آصف علی زرداری ہی کافی ہے اس نے خود ہی پی پی پی کا جنازہ نکال دیا، خیبرپختونخوا کے دورے سے ان کو اپنی حیثیت کااندازہ لگ چکا ہے ،عوام تبدیلی چاہتے ہیں، عوام باشعور ہیں،جس کی گدھا گاڑی تک نہیں تھی وہ آج لینڈ کروز میں پھر رہے ہیں، جو کرائے کے گھروں میں تھے وہ آج کوٹھیوں اور جائیداوں کے مالک ہیں، یہ دولت ان کے پاس کہا ں سے آئی؟۔انھوں نے کہا کہ میں بھی صوبے کا وزیر اعلیٰ ہوں ،میں پہلے بھی کرایہ کے گھر میں تھا او روزارت اعلیٰ سے سبکدوش ہوں گا تو دوبارہ کرایہ کے مکان میں رہوں گا، مولانا فضل الرحمن، اسفندیار ولی، نوا زشریف ، آصف علی زرداری اور حیدر ہوتی قوم کوبتائیں کہ ان کی پہلی کیا حیثیت تھی اور اب کیا ہے ؟ پاکستان اب مزید کرپشن برداشت کرنے کے قابل نہیں، قوم اس ملک پر ایماندار قیادت چاہتی ہے اور ایماندر قیادت عمران خان کی صورت میں موجود ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف میں روزانہ کی بنیاد پر عوام و خواص کی شمولیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ روایتی سیاسی جماعتوں سے مایوس ہیں،عوام کو درپیش تکلیف کا احساس اور صوبے کا خیال کسی نے نہیں کیا، ہمارا صوبہ دیگر تمام صوبوں سے بہترین ہے، یہاں کسی چیز کی کمی نہیں مگر کسی نے اسکی ترقی کے لئے کوشش ہی نہیں کی، سیاسی لوگ مجرم ہیں جنہوں نے اداروں پر سیاست کی،تحریک انصاف نے چار سال کے مختصر عرصہ میں بگڑے ہوئے نظام کو درست کیا اور اداروں کو بحال کیا، سرکاری محکموں میں فرائض کی انجام دہی کا کلچر متعارف کرایا اور خدمات کی فراہمی کا ایک شفاف نظام وضع کیا،ہم غریب عوام کی آسانی کے لئے سرمایہ خرچ کر رہے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اداروں میں غریب کو عزت نہ ملے اور غریب کی مشکلات کا ازالہ نہ کر سکیں تو خوشی کا کوئی مقصد نہیں۔

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا کہ جب انہوں نے صوبے میں حکومت سنبھالی تو تعلیم ، صحت، پولیس ، پٹوار اور دیگر تمام ادارے سیاست زدہ اور تباہی کا شکار تھے،ہم نے ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات کا عمل شروع کیا، بہترین بلدیاتی نظام دیا، قانون سازی کی اور صوبے کے طول و عرض میں ترقیاتی کام شروع ہیں جو 2018تک مکمل کر لیں گے،صو بے میں بے روزگاری کے خاتمے کے لئے کارخانے شروع ہیں، سی پیک کے تحت سرمایہ کاری کے علاوہ صوبائی حکومت کی طرف سے نان سی پیک منصوبوں کی تعمیر کا سلسلہ بھی شروع ہے،جن سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہونگے۔ وزیر اعلیٰ  خیبر پختونخوا نے کہا کہ بغیر کارخانوں کے روزگار کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا کیونکہ سب کو سرکاری نوکری نہیں مل سکتی۔