جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر57

رادھا

پیازی رنگ کی ساڑھی میں وہ کافر ادا رات سے بھی کہیں زیادہ حسین نظر آرہی تھی۔ مجھے اس طرح اپنی طرف دیکھتے پا کر اسکے ہونٹوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ آگئی۔
’’پرنام مہاراج‘‘ اسنے دونوں ہاتھ جوڑ کر مجھے سلام کیا۔میں جو اس کے حسن کے ضیا پاشیوں میں کھویا ہوا تھا بے اختیار دونوں ہاتھ جوڑ دیئے۔ اس کی بڑی بڑی حسین آنکھیں مجھ پر ٹکی تھیں۔ رادھا نے سچ کہاتھا وہ حد درجہ حسین تھی۔ اسکی آنکھوں میں جیسے ستارے کوٹ کوٹ کربھرے ہوئے تھے۔ بالوں میں اس نے چمبیلی کے پھول گوندھ رکھے تھے۔ ہاتھوں میں گجر ے جھیل سی کاجل بھری آنکھیں غضب ڈھا رہی تھیں۔ مختصر بلاؤز اس کی جوانی کواپنے اندر سمونے میں ناکام ہورہا تھا۔ میری آنکھوں میں وارفتگی دیکھ کر وہ شرما گئی۔ مجھے اسکی یہ ادا بہت بھلی لگی۔ وہ دھیرے سے مسکرائی۔ موتیوں جیسے دانت میرے دل پر بجلیاں گرا رہے تھے۔ دنیا جیسے ختم ہو گئی تھی۔ اس کے سوا مجھے کچھ نظر نہ آرہا تھا۔
’’آگیا(حکم) مہاراج!‘‘ اسنے میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر56 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
’’میرے سامنے بیٹھ جاؤ‘‘ مجھے اپنی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی۔ شاخ گل کی طرح اسکاحسین بدن بل کھا کر کرسی میں سما گیا۔ اس کی آنکھوں میں اپنے لئے پسندیدگی دیکھ کرمیرا حوصلہ اور بڑھ گیا۔
’’بسنتی! تم ہر وقت میری آنکھوں کے سامے رہا کرو جیسے رادھا رہتی تھی‘‘ وہ بری طرح شرما گئی۔
’’یدی ، یہ تمری آگیا ہے تو میں اس کا پالن کروں گی‘‘ اسکے لہجے سے اندازہ ہورہا تھا وہ خود بھی یہی چاہتی ہے۔
’’بسنتی! میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں کیاتم میرے سوالوں کا جواب دوگی؟‘‘ میں نے کہا۔
’’رادھا دیوی، نے مجھے تمری ہر آگیا کاپالن کرنے کوکہا ہے پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم کچھ کہو اورمیں منع کر دوں؟‘‘ مسکراہٹ جیسے اس کی شخصیت کا حصہ تھی۔
’’اگر رادھا نہ کہتی تو تم میری باتنہ مانتیں؟‘‘ میں نے شوخی سے پوچھا۔
’’میرے بس میں ہو تو تم تمرے کارن اپنے پر ان بھی دے دوں‘‘ اس کی آنکھوں میں حسرت تھی۔
’’ٹھیک ہے رات کو میں تمہیں بلاؤں گا پھرہم باتیں کریں گے‘‘ میں نے کہا۔
’’یدی مجھے آگیا ہو تو میں جاؤں؟‘‘ اسنے پوچھا۔
’’دل تونہیں چاہتا لیکن اگر تم جانا چاہتی ہو تو میں تمہیں روکوں گا نہیں‘‘ میں نے بے دلی سے کہا۔
’’من تو میرا بھی نہیں کرتا مہاراج! پرنتو میرا جیا دہ دیریہاں ٹھہرنا ٹھیک نہیں‘‘ اس نے دل کی بات کہہ دی۔
’’کیوں۔۔۔کیوں ٹھیک نہیں؟‘‘
’’تمر بیری تم پرکوئی وار کرجائیں تو رادھا دیوی مجھے کبھی شما نہیں کرے گی۔۔۔وہ تم سے ادھیک پریم کرتی ہے ‘‘ اس نے کہا۔ میں اسکے دل کی حالت جان رہا تھا۔ اس کی آنکھیں پکار پکارکر کہہ رہی تھی‘‘ کاش میں رادھا کی جگہ ہوتی۔‘‘
’’کالی داس کسی ایسے اوسرکی تاک میں ہے کہ وہ پلید تم پر وار کرسکے‘‘ اس نے انکشاف کیا۔
’’لیکن وہ تو خود رادھا کے خوف سے کسی دائرے میں چھپا بیٹھا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’پرنتو اس سمے رادھا بھی منڈل میں بیٹھی ہے اور وہ پاپی یہ بات جانتا ہے۔‘‘ بسنتی نے بتایا۔
’’لیکن رادھا نے تو کہا تھا کہ اسکی غیر موجودگی میں تم میری حفاظت کرو گی۔۔۔کیاکالی داس تمہارے ہوتے ہوئے مجھ پر وار کر سکتا ہے؟‘‘
’’وہ پاپی ایسا نہیں کر سکتا پرنتو دھیان تو رکھنا ہی پڑے گا۔‘‘ اسنے کہا۔
’’ٹھیک ہے اگر تمہارا جانا ضروری ہے تو چلی جاؤ۔‘‘ میں نے اس پیش نظر کہا کہیں کالی داس پھر کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھے۔ وہ بڑی میٹھی نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔
’’ٹھیک ہے تم جاؤ رات کومیں تمہیں بلالوں گا۔۔۔۔آؤ گی نا؟‘‘ میں نے اس کی جھیل سی آنکھوں میں جھونکا۔
’جب بھی پکارو گے داسی چرنوں میں آجائے گی‘‘ اس کے پنکھڑی سے لبوں پر بڑی دلآویز مسکراہٹ آگئی۔ کھڑے ہو کر اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر سلام کیا اور غائب ہوگئی۔ عمران کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔ محمد شریف اب میرے کمرے میں اشد ضروری کام کے تحت آتا۔ وہ جیسے مجھ سے خفا تھا۔ میں نے بھی زیادہ پرواہ نہ کی۔ میں بالکل ہی بدل گیا تھا۔ پانچ بجے چھٹی کرکے میں حسب معمول عمران کے ساتھ اس کے گھر چلا گیا۔ کھانے کے بعد ہم کافی دیربیٹھے باتیں کرتے رہے۔
’’اوہ بارہ بج گئے مجھے چلنا چاہئے۔‘‘ اچانک میری نظر کلاک پر پڑی تو میں بری طرح چونک گیا۔ آج رات میرا پروگرام بسنتی کو اپنی خلوت میں بلانے کا تھا۔ اس کے تصور سے ہی میرے بدن میں سرور کی لہریں دوڑنے لگیں۔ گھر پہنچ کر میں نے لباس تبدیل کیا اور خوبگاہ میں چلاگیا۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ گزشتہ رات کا نشہ ابھی تک مجھ پرطاری تھا۔ بسنتی تورادھا سے زیادہ حسین اور جوان تھی۔ اس کا بدن ایک قیامت تھا۔ اس کے علاوہ میں بسنتی سے وہ راز جاننا چاہتا تھا جن سے رادھا نے آج تک پردہ نہ اٹھایا تھا۔ میں نے بیڈ پر درازہو کر بسنتی کو آواز دی۔
’’جی مہاراج‘‘ دوسرے لمحے اس کی خمار آلود آواز میرے کانوں میں آئی۔
’’بسنتی سامنے آؤ۔‘‘ میں نے بے چینی سے کہا۔
’’وہ فوراً میرے سامنے ظاہر ہوگئی۔ پھولوں کے زیورسے سجی بسنتی کے قیامت خیز بدن کی مسحور کن خوشبو سے کمرہ مہک اٹھا۔
میں بے خود سا اسے دیکھا گیا۔ تراشیدہ لبوں پر بڑی ہی دلآویز مسکراہٹ تھی۔ دعو ت آمیز مسکراہٹ جو کسی کو بھی پاگل بنا دے۔ اوپری ہونٹ پر پسینے کے قطرے ایسی شبنم کی مانندچمک رہے تھے جن پر سورج کی رو پہلی کرنیں پڑی رہی ہوں۔ ماتھے پر لگا تلک ہیرے کی طرح دمک رہا تھا۔ مجھے یوں وارفتگی سے دیکھتے پاکر اسکی نیم باز آنکھیں شراب کے پیالے بن گئے۔
’’بسنتی!‘‘ میں نے دھیرے سے کہا۔
’’جی مہاراج‘‘ اس کی سرگوشی نما آواز آئی۔
’’تم مجھے مہاراج نہ کہا کرو۔‘‘
’’پھر کیا کہا کروں؟‘‘ وہ اٹھلائی۔
’’جیسے رادھا مجھے بلاتی ہے تم بھی ایسے ہی بلایا کرو۔‘‘ میں نے مسکرا کرکہا۔
’’ہائے رام۔۔۔وہ تودیوی ہے۔ میری اتنی مجال کہاں کہ تمہیں اس شبھ نام سے پکاروں جس سے رادھا دیوی پکارتی ہے۔‘‘ اس کے انداز میں گھبراہٹ کے ساتھ ساتھ حسرت بھی تھی۔
’’رادھا تمہاری کیا لگتی ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’مہاراج ! شما کرنا کچھ ایسی باتیں ہیں جو میں رادھا دیوی کی آگیا کے بنا نہیں بتا سکتی۔ میری آشا ہے تم مجھے شما کر دو گے۔‘‘ اس نے منت بھرے لہجے میں کہا۔
’’ایک طرف تو تم کہتی ہو کہ میراحکم ماننا تمہارا فرض ہے پھر جب کوئی بات پوچھتا ہوں توکوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتی ہو‘‘ میں نے کسی قدرخفگی سے کہا۔
’’اچھا یہ بتاؤ کیا تم رادھا کی کنیز ہو؟‘‘ میں نے اپنا سوال گھماکر دوسرے طریقے سے کیا۔ اس بار وہ میرے داؤ میں آگئی۔
’’نہیں۔۔۔!‘‘ اس کالہجہ تیز ہوگیا۔
’’وہ کیول شکتی میں مجھ سے مہان ہے اور اس میں بھی میری خطا ہے‘‘
’’وہ کیا۔۔۔تم نے کیا غلطی کی؟‘‘ میری دلچسپی بڑھ گئی۔
’’جس طرح آج کل وہ سوریہ دیوتا کا جاپ کر رہی ہے اسی طرح وہ ہر ورش ادھیک جاپ کرتی رہتی ہے کبھی چندر ماکا جاپ، کبھی کسی دیوتاکا کبھی کسی دیوتا کا۔ اسی کارن دیوتاؤں نے اسے ادھیک شکتی دان کر دی ہے۔ یدی میں بھی یہ جاپ کرتی تو آج اتنی ہی شکتی مان ہوتی جتنی کہ رادھا دیوی ہے۔‘‘ اس بار بڑی تفصیل سے جواب ملا۔
’’پھر تم اسے دیوی کیوں کہتی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔
‘‘اسی کارن کہ وہ مجھ سے جیادہ شکتی مان ہے‘‘ اسنے بڑے سادہ لہجے میں بتایا۔(جاری ہے)

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر58 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں