جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 32

رادھا

وہ میرے اتنے قریب تھی کہ اس کی معطر سانسیں میری سانسوں کو مہکا رہی تھیں۔ میرا خیال تھا وہ اس تنہائی کا فائدہ ضرور اٹھائے گی لیکن وہ اس سے آگے نہ بڑھی بلکہ مجھ سے تھوڑے فاصلے پر کھڑی ہوکر کہنے لگی۔
’’میرے من مندر کے دیوتا! یدی تم آج کی رینا(رات) اپنی داسی سے دور اپنے متر کے گھر ہی ٹھہرے رہے تو کھد کو روک نہ پاؤں گی۔ میں اس سمے ایک ایسی گھاٹی میں کھڑی ہوں جہاں سے نہ آگے جا پاتی ہوں نہ پیچھے یدی تم اپنی پتنی کی اچھا کے انوساروہیں رہے تو پھر۔۔۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ہوگئی۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔۔۔ قسط نمبر31  پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔


’’پھر کیا۔۔۔؟‘‘ میں نے بے چینی سے پوچھا۔
’’پھر مجھے تمری پتنی کا کوئی اپائے کرنا پڑے گا کوئی ایسا پربند کرنا پڑے گا کہ ہمرا ملن ہو سکے‘‘ آخر کار اس نے کہہ دیا۔ میں اس کی بات سن کر لرز گیا۔
’’نن۔۔۔نہیں رادھا تم ایسا کچھ نہ کرو۔ میں وعدہ کرتا ہوں کل میں واپسی اسی گھر میں آجاؤں گا۔ مجھے آج رات کی مہلت دے دو۔‘‘ میں نے کسی قدر لجاجت سے کہا۔
’’ٹھیک ہے موہن! پرنتو تم واپس نہ آئے تو پھر مجھے دوش نہ دینا‘‘ یہ کہہ کر اس نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا۔
’’جاؤ اپنے گھر جانتی ہوں اس سمے تم اپنی پتری سے ملنے ے کارن بیاکل ہو کل میں تمرا انتجار کروں گی۔‘‘
’’رادھا میری ایک اور درخواست مان لو‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
’’مجھ سے بنتی نہ کرو مجھے آگیا دو۔۔۔داسی تمری ہر آگیا کا پالن کرے گی کیول مجھے اپنے سے دور نہ کرنا۔‘‘ وہ بڑے پیار سے بولی۔
’’تم مجھ سے بات کرنے کا کوئی اور طریقہ اختیار کرلو میں اپنی معصوم بیٹی کو اذیت میں نہیں دیکھ سکتا۔‘‘
’’بس یا کوئی کچھ اور بھی کہنا ہے۔‘‘ وہ مسکرائی۔
’’بس میری اتنی بات مان لو‘‘ میں نے اس کا نرم ونازک ہاتھ تھام لیا۔
’’ٹھیک ہے یدی تمرامن اس بات سے پرسن ہے تو میں ایسا ہی کروں گی میرے میت! تم سے ملنے کا میں کوئی اور اپائے ڈھونڈ لوں گی۔ جاؤ پریمی! کوئی تمری راہ تک رہا ہے‘‘ وہ حسرت سے بولی۔
میں گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس کے پاس سے گزرتے ہوئے میں نے ہاتھ ہلایا۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں اس میں میرے ارادے کا کوئی دخل نہ تھا اس کی وجہ یقیناً وہ احسان تھا جو رادھا نے مجھ پر کیا تھا۔ میں تیز رفتاری سے گاڑی چلاتا ہوا گھر پہنچا تو رات کے بارہ بج رہے تھے تقریبا پانچ بجے میں گھر سے نکلا تھا۔ ان چھ سات گھنٹوں میں مجھ پر جو بیتی تھی وہ الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے اس کا کرب تو وہی لوگ محسوس کر سکتے ہیں جن کا سابقہ اس قسم کے حالات سے پڑا ہو۔ میں نے عمران کے گھر پہنچ کر ہارن دیا دروازہ فوراً ہی کھل گیا۔ عمران لپک کر میرے پاس آیا۔
’’خان بھائی! آپ کہاں چلے گئے تھے۔۔۔؟‘‘
’’مومنہ کہاں ہے؟‘‘ میں نے اس کی بات کاٹ کر پوچھا۔
’’وہ تو تھوڑی دیر بعد مل گئی تھی۔ شاید کھیلتے کھیلتے باہر نکل گئی تھی بری طرح گھبرائی اور سہمی ہوئی تھی۔ ہم نے اس سے کچھ نہ پوچھا اب سو رہی ہے۔‘‘ عمران نے مجھے تفصیل سے بتایا۔ مجھے یقین تھا کہ مومنہ گھر پہنچ چکی ہوگی لیکن پھر بھی اپنی تسلی کی خاطر میں نے پوچھا تھا۔ عمران نے گیٹ کھول دیا۔ میں گاڑی اندر لے گیا سامنے برآمدے میں نازش کھڑی تھی۔ میں گاڑی سے اتر کر آیا تو انہوں نے بھی وہی سوال کیا۔
’’فاروق بھائی! آپ کہاں چلے گئے تھے؟ ہم بہت پریشان تھے۔ عمران سارے شہر میں آپ کو تلاش کرتے رہے۔ مومنہ تو تھوڑی دیر بعد آگئی تھی۔ شاید کھیلتے کھیلتے باہر نکل گئی تھی۔ ‘‘ نازش نے ایک ہی سانس میں سوال کرنے کے ساتھ مجھے تفصیل بتائی۔
’’بھابھی! میں مومنہ کی تلاش کرتے ہوئے راستہ بھول کر نہ جانے کہا نکل گیا تھا۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا پھر پوچھا۔’’صائمہ کہاں ہے؟‘‘
’’بھابی اندر کمرے میں بچوں کے پاس ہیں‘‘ عمران نے بتایا، اس کے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا جیسے وہ میرے جواب سے مطمئن نہیں ہوا لیکن موقع کی نزاکت کا احساس کرکے اس نے کچھ نہ پوچھا تھا۔ میں جلدی سے اندر آیا۔ صائمہ قرآن پاک پڑھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کی سرخی بتا رہی تھی کہ وہ روتی رہی ہے ’’جس شخص کی بیوی اتنی نیک اور پرہیز گار ہو اسے کوئی شیطانی قوت پریشان نہیں کر سکتی‘‘ میرے دل میں خیال آیا۔ صائمہ کی جگہ کوئی عام عورت ہوتی تو رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتی لیکن اس اللہ کی بندی نے قرآن پاک اٹھا کر اللہ کا ذکر کرنا شروع کر دیا تھا۔ میں اپنی سوچوں میں گم اسے دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی اس کی نظر مجھ پر پڑی اس نے قرآن پاک کو بوسہ دیا اور اسے الماری میں رکھ کر میری طرف بڑھی۔ اس کی حسین آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
’’آ۔۔۔آپ کہاں چلے گئے تھے؟ فاروق! پریشانی سے میرا برا حال تھا۔‘‘ وہ میرے سینے سے لگ کر بولی میں نے اسے اپنی بانہوں کے حصار میں قید کرتے ہوئے اس کی حسین آنکھوں کو چوم لیا۔
’’میری جان! میں تو خود پریشان تھا مومنہ کی تلاش میں نہ جانے کہاں کہاں بھٹکتا رہا۔‘‘
’’غلطی میری تھی بچے تو ادھر ادھر نکل ہی جاتے ہیں۔ میں خواہ مخواہ خود بھی پریشان ہوئی اور آپ کو بھی کیا۔‘‘ اس کے لہجے میں ندامت تھی۔
’’نہیں صائمہ! اولاد کی ذرا سی پریشانی انسان کو پاگل کر دیتی ہے۔‘‘
نازش بھابی نے کھانے کو پوچھا تو ہم باہر آگئے۔ کھانے کے بعد ہم اپنے کمرے میں آگئے بچے جلدی ہی سو گئے۔ صائمہ خاموشی سی لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔ میں جانتا تھا وہ پریشان ہے لیکن میرے پاس اس کو تسلی دینے کے لیے الفاظ نہ تھے۔ کافی دیر اسی طرح گزر گئی۔ میں نے آہستہ کروٹ لے کر صائمہ کو دیکھا اس کی آنکھیں بند تھیں سانسوں کی رفتار بتا رہی تھی وہ سو چکی ہے۔ میں نے آنکھیں موند لیں ابھی غنودگی طاری ہوئی ہی تھی کہ مجھے رادھا کی سرگوشی سنائی دی۔
’’موہں۔۔۔‘‘
میں بری طرح چونک گیا پہلے تو اسے اپنا وہم سمجھا لیکن اسی وقت آواز پھر آئی۔
’’موہن! کیا تم کچھ پل کے لیے باہر آسکتے ہو؟‘‘
’’رادھا! تم کہاں ہو نظر کیوں نہیں آرہیں؟‘‘ میں نے چاروں طرف دیکھ کر آہستہ آواز میں پوچھا۔
’’تم باہر آجاؤ میں تمہیں نجر آجاؤں گی۔‘‘ اس کی مدھر آواز آئی۔ میں آہستہ سے بیڈ سے اترا باہر نکلنے سے پہلے ایک بار پھر صائمہ کی طرف دیکھا وہ بے خبر سو رہی تھی۔ پھر دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔ مجھے یہ خطرہ بھی تھا کہیں صائمہ کی آنکھ نہ کھل جائے۔ میں نے احتیاطاً سگریٹ کا پیکٹ ساتھ لے لیا تھا۔ صائمہ میری اس عادت سے واقف تھی رات کو اگر مجھے نیند نہ آئے تو میں سگریٹ پینے باہر چلا جاتا ہوں۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ میں نے کاریڈور سے گزرتے ہوئے عمران اور نازش کے بیڈ روم کی طرف دیکھا ان کا دروازہ بند تھا۔ میں دبے پاؤں چلتا ہوا ان کے کمرے کے سامنے سے گزر گیا۔ آہستہ سے آہٹ پیدا کیے بغیر میں نے دروازہ کھولا اور باہر نکل آیا۔ میں نے گرم شال اوڑھ رکھی تھی اس کے باوجود سردی ہڈیوں میں گھسی جا رہی تھی۔ لان میں آکر میں نے چاروں طرف دیکھا۔ چاندنی رات تھی ہر چند کہ جاڑے کی چاندنی کو کوئی نہیں دیکھتا لیکن اس کا اپنا حسن ہوتا ہے۔ ہر طرف جیسے نور برس رہا تھا۔
’’پریتم۔۔۔!‘‘ میرے پیچھے بالکل کان کے پاس سرگوشی سنائی دی۔ میں بری طرح اچھل پڑا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا پھر نظریں ہٹانا بھول گیا۔ چاند کی روشنی میں چاند سے زیادہ حسین رادھا میرے پیچھے کھڑی تھی۔ سرخ رنگ کی ساڑھی میں اس کا حسن آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا۔ وجود سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو چاروں طرف بکھر رہی تھی۔ وہ بے خود ہو کر میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھ۔ ہم دونوں ہر بات سے بے نیاز ایک دوسرے کی آنکھوں میں ڈوب گئے۔ بقول رادھا کے اسے مجھ سے عشق تھا لیکن اس کا سامنا ہوتے ہی نہ جانے مجھے کیا ہو جاتا تھا؟ سحر طاری تھا مجھ پر۔ اس کا فسوں پوری طرح مجھ پر چل چکا تھا۔ دیوانہ بنانے میں اگر اس کی پراسرار قوتوں کا دخل تھا تو اس کا حسن اسے دو آتشہ کر دیا کرتا۔ میری حالت اس نوجوان لڑکے سے مختلف نہ تھی جسے پہلی پہلی بار عشق ہوا ہو۔ ’’من کرتا ہے تمرے ہر دے میں سما جاؤں پرنتو۔۔۔‘‘ اس کے لہجے میں حسرت بول رہی تھی۔ میں اس کی بات کا مطلب سمجھ رہا تھا کہ وہ کیا چاہتی ہے؟ اس لئے میں نے بات کا رخ فوری طور پر بدل دیا۔
’’کیا تمہیں یاد ہے رادھا؟! تم نے میرے ساتھ ایک وعدہ کیا تھا‘‘
’’تمہیں دیکھ کر تو میں سب کچھ بھول جاتی ہوں ساجن! یدی رادھا نے تمہیں کوئی وچن دیا تھا تو وہ اپنے وچن کا پالن اوش کرے گی‘‘ اس کی آواز خمار سے بوجھل تھی۔
’’تم نے کہا تھا اپنی زندگی کی کہانی مجھے سناؤ گی۔ تمہارے خاوند موہن کو کس نے اور کیوں مار دیا تھا؟ اس کے علاوہ میں یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ تم کون ہو؟ کیا تم میری یہ الجھن دور کر سکتی ہو؟‘‘
’’ہاں مجھے یاد ہے میں نے کہا تھا پرنتو یہ بھی تو کہا تھا سمے آنے پر‘‘ اس نے کہا۔
’’اور وہ وقت کب آئے گا؟‘‘ میں نے جلدی سے پوچھا۔
’’بہت جلد آنے والا ہے وہ سمے‘‘ اس کی آنکھوں میں جیسے خواب اتر آئے۔’’تم اس بات کی چنتا چھوڑو میں سب تمہیں بتا دوں گی ۔پرنتو اس سمے تو میں اپنے پاپی من کو شانت کرنے آئی ہوں‘‘ چاندنی میں نہایا اس کا مرمریں بدن وہ کسی اور ہی دنیا کی مخلوق نظر آرہی تھی اس کی معطر سانسیں میرے ہوش و حواس چھین رہی تھیں۔ مجھے کسی شاعر کا شعر یاد آیا جو غالباً ایسے ہی موقع کے لئے کہا گیا تھا۔
’’گلاب لب، غزال آنکھیں ابرو
ہوش و حواس چھن گئے ہوئے جب روبرو‘‘
اس کے قیامت خیز حسن، پراسرار قوتوں اور احسانات۔۔۔سب نے مل کر میرا جھکاؤ اس کی طرف کر دیا تھا۔ اسے دیکھ کر میں سب کچھ بھول گیا تھا۔ حتیٰ کہ اب مجھے سردی بھی محسوس نہ ہو رہی تھی۔
’’پرتیم۔۔۔!‘‘اس نے دھیرے سے مجھے پکارا۔
’’ہوں‘‘ اب مین ان القابات کا عادی ہو چلا تھا۔ وہ مجھے اکثر اسی طرح پکاراکرتی ہے۔
’’تم نے بھی ایک وچن مجھے دیا تھا یاد ہے یا۔۔۔بھول گئے؟‘‘
’’مجھے نہ صرف یاد ہے بلکہ اپنا وعدہ پورا کرنے کے لئے میں کل دوبارہ اسی مکان میں رہنے کے لے جا رہا ہوں۔‘‘ میں نے اسے خوش کرنے کی خاطر کہا۔’’دھن واد موہن! تم نے میرا مان رکھ لیا۔ پرنتو میں اس وچن کے بارے میں کہہ رہی ہوں جو تم نے مجھ سے کیا تھا کہ تم اپنی پتنی سے کہو گے وہ جو جاپ وہ کرتی اسے کھتم کر دے‘‘ آخر وہ لمحہ آہی گیا جس سے میں بچنا چاہ رہا تھا۔
’’رادھا! سب کچھ ایک دم تو نہیں ہو جاتا۔ آج ایک بات پوری ہوئی ہے کل یہ بھی ہو جائے گی‘‘ میں نے بڑے آرام سے اسے سمجھایا۔
’’چاہے تمری داسی کے پران ہی نکل جائیں‘‘ اسکی حسرت و یاس میں ڈوبی آواز آئی۔
’’تمہیں مجھ پر بھروسہ کرنا چاہئے رادھا! میں بھی تم سے ملنے کے لیے بے قرار ہوں۔‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا مجھے خود پر اختیار ہی کب رہا تھا؟
’’جانتی ہوں تم کیول میرا من پرسن کرنے کے کارن کہہ رہ ہو پرنتو میرے لیے یہی بہت ہے کہ تمہیں میرا اتنا دھیان ہے‘‘ اس بار اسکی آواز میں اطمینان تھا۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے ضد نہیں کی ورنہ وہ یہ بھی کہہ سکتی تھی ابھی یہ کام ہونا چاہئے تومیں کچھ بھی نہ کر سکتا۔
’’موہن۔۔۔!‘‘ اس نے مجھے خیالوں میں ڈوبا پا کر پکارا۔ میں نیا س کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’اپنی پتنی سے کہہ دو میں اس کی اور سے اتنی بے کھبر نہیں ہوں جتنا وہ وچار کر ریہ ہے۔ جانتی ہوں وہ تمہیں مجھ سے دور کرنے کے کارن کیا کر رہی ہے؟ پرنتو میں ہر بار اسے شما کر دیتی ہوں اسے کہہ دینا یدی اس نے چھل کپٹ سے کام لیا تو رادھا سب کچھ کھتم کر دے گی‘‘ اس کی آواز سرد ہوگئی۔ میرے ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر گزرتی چلی گئی۔ حیرت مجھے اس بات پر تھی کہ صائمہ ایسا کیا کر رہی ہے؟ کیونکہ اس کے بعد رادھا کو سلسلے میں کوئی بات نہ ہوئی تھی۔
’’رادھا! کیا تم مجھے نہیں بتاؤ گی کہ صائمہ نے کیا کیا ہے؟‘‘
’’سمے آنے پر سب معلوم ہو جائے گا۔‘‘ اس نے گول مول سا جواب دیا۔ پھر کہنے لگی’’یہ جو پاپی کالی داس ہے نا۔۔۔کالی ماتا کا بہت بڑا بھگت ہے اس نے سارا جیون کالی کی بھگتی میں بتایا ہے۔ کالی اس کا کہا نہیں ٹال سکتی۔ پرنتو میں نے اسے کس طرح دھرتی چاٹنے پر لگا دیا تھا۔ سنسار میں کالی داس جیسے مہاپرش کم ہی ہوں گے۔ لاکھوں بیر(جنات کی وہ قسم جو شیطان کے پیروکار اور جادوگروں کے حکم کی پابند ہوتی ہے) اس کی آگیا کا پالن کرنے ہر پل تیار رہتے ہیں۔ اورمیری سکھیوں خو تم نے دیکھا ہی ہے وہ میری آگیا کاپالن کرتے ہوئے کسی بھی منش کا ماس کھا جاتی ہیں شکتی میں وہ کسی سے کم نہیں پرنتو تم نے دیکھا۔۔۔کالی داس نے کس طرح ان کوبے بس کردیا تھا؟‘‘ اس نے بڑے طریقے سے مجھے اپنی طاقت کے بارے میں بتا کر اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ اگر صائمہ اس کے خلاف کچھ کرنے کی سوچ رہی ہے تو میں اسے اس بات سے باز رکھ سکوں۔
’’جانتا ہوں رادھا۔۔۔! سب کچھ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں اسی وجہ سے تومیں تمہارے بارے میں سب کچھ جاننے کے لیے بے قرار ہوں۔ ‘‘ میں نے جلدی سے کہا۔ مجھے ڈر تھا کہیں وہ اپنی ضد پر اڑ نہ جائے ۔
’’بہت تھوڑا سمے رہ گیا ہے پھر میں تمرے ہر پرشن کا اتر اوش دوں گی۔ اسی کارن تو کہہ رہی ہوں اپنی پتنی سے کہو وہ جاب چھوڑ دے نہیں تو کالی داس کسی بھی سمے تمری سنتان یا پتنی پر وار کر سکتا ہے۔ یدی تمری پتنی جاپ بند کر دے تو میں اسی استھان پر رہ کر تمری رکھشا کر سکتی ہوں میرے ہوتے وہ یا اس کے پلید بیر وہاں نہیں آسکتے جہاں تم رہتے ہو۔‘‘ اس نے تفصیل سے بتا کر مجھے فکر مند کر دیا۔
کالی داس کمینہ شخص تھا جس طرح رادھا نے اسے ذلیل کرکے بھگایا تھا وہ کسی بھی وقت اپنی ذلت کا بدلہ صائمہ اور بچوں کو نقصان پہنچا کر لے سکتا تھا۔میرے چہرے فکر تر دو دیکھ کر رادھا سبک خرامی سے چلتی میرے پاس آگئی۔ پھر اپنے کومل ہاتھوں میں میرا چہرہ تھام کر بولی’’میرے پریتم! تم چنتا کیوں کرتے ہو؟ میرے ہوتے وہ پاپی تمہیں کچھ نہ کہہ سکتا۔۔۔تم اپنی رادھا پر وشواس رکھو۔‘‘
’’کیا تم اس کے بغیر کوئی ایسا بندوبست نہیں کر سکتیں کہ کالی داس مجھے اور میری بیوی بچوں کوکوئی نقصان نہ پہنچا سکے؟‘‘ میں نے جلدی سے پوچھا۔
’’ابھی بہت ساری باتیں تمری بدھی میں نہیں آئیں گی ساجن! دیکھو سمے کتنا سندر ہے۔ چند رما اپنی سندرتا چاروں اور بکھیر رہا ایسے میں میرے سنگ پریم کی باتیں کرو پریتم!‘‘ وہ اپنے پیار کا رس میرے کانوں میں گھولتی رہی۔ میں نے ہنس کراسے چھیڑا۔
’’تھانے دار بیچارہ بھی تو تمہارے ساتھ پیار کی باتیں کرناچ اہتا تھا تم نے اسے موقع ہی نہیں دیا کیسے بے چین ہو رہا تھا؟‘‘ اس کی نقرئی ہنسی نے فضا میں جلترنگ بکھیر دیا۔
’’پرتیم! ایک وہی کیا سارا سنسار رادھا کارن بیاکل ہے پرنتو رادھا تمری داسی بن گئی ہے اسے تمرے بن کچھ نجر ہی نہ آوے۔‘‘ وہ اٹھلا کر بولی۔ رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
’’پریتم!‘‘
’’ہوں‘‘
’’چندرما کتنا سندر ہے؟ پرنتو تم سے جیادہ نہیں‘‘ اس پر نشہ چھانے لگا۔
’’بس میری اتنی زیادہ تعریف نہ کرو میں جانتا ہوں میں کیا ہوں؟‘‘ میں خجل ہوگیا۔
’’تم اپنی سندرتا سے بے کھبر ہومیرے پران(میری روح) یہ تو کیول میں جانتی ہوں تم کیا ہو؟‘‘ اس نے پیار سے میرا ہاتھ تھام لیا۔ نرم و نازک ہاتھ حدت سے تپ رہا تھا۔(جاری ہے)

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 33 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں