وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔پانچویں قسط

رادھا

صائمہ کبھی بھی میری جھوٹی قسم نہیں کھا سکتی تھی۔
’’رات آپ نے کوئی خواب تو نہیں دیکھا؟‘‘ اس نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔
’’اگر میں نے خواب دیکھا ہے تو یہ گلاب کا تازہ پھول کہاں سے آیا؟‘‘
’’واقعی بات تو آپ کی صحیح ہے‘‘ ہم دونوں کچھ دیر بیٹھے یہی سوچتے رہے پھر اٹھ کر ہاتھ منہ دھو کر ناشتے کے ٹیبل پر پہنچ گیا۔ اس واقعے نے مجھے بری طرح الجھا دیا تھا۔ اگر وہ صائمہ نہیں تو پھر کون تھی؟ یہ سوال بار بار میرے ذہن میں ڈنک مار رہا تھا۔ میں اسے خواب ماننے کے لیے بالکل تیار نہیں تھا۔ ایک تو خواب اتنا واضح نہیں ہوتا پھر وہ گلاب کا تازہ پھول؟ یوں تو صائمہ کے انداز میں ہمیشہ میرے لیے پیار ہوتا تھا لیکن گزشتہ رات اس کے انداز میں ایسی وارفتگی تھی جو پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی۔ صائمہ کا اس بات سے سختی سے انکار کرنا کہ کل رات وہ میرے کمرے میں آئی ہی نہیں یہ سب کیا ہے؟ میں جتنا سوچتا اتنا ہی الجھتا گیا۔

وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔چوتھی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
’’صائمہ! تمہیں نیند میں چلنے کی بیماری تو نہیں؟‘‘ میں نے ناشتہ کرتے ہوئے پوچھا۔ اس کی آنکھوں میں الجھن تھی۔
’’ایسا کیوں کہہ رہے ہیں آپ؟‘‘
’’بعض اوقات انسان نیند میں وہ کام کر گزرتا ہے جس کا اسے جاگنے پر احساس بھی نہیں ہوتا۔‘‘ میں نے اسے سمجھایا۔
’’اگر آپ کی بات کو سچ بھی مان لیا جائے تو گلاب کا پھول کہاں سے آیا؟‘‘ اس کی دلیل کافی مضبوط تھی۔ میں نے کندھے اچکائے۔
’’ایسے سر کھپانے سے کوئی فائدہ نہیں پھر کسی وقت بات کریں گے۔‘‘
جب میں بینک کے لیے روانہ ہونے لگا تو صائمہ نے مجھے یاد دلایا۔
’’آج ضرور آپ احد اور مومنہ کے ایڈمیشن کے لئے کسی اچھے سے سکول کے بارے میں معلوم کریں۔‘‘
’’ٹھیک ہے آج ضرور یہ کام کر لوں گا۔‘‘ صائمہ نے مجھے مسکراتے ہوئے رخصتکیا۔ اس دن میں بینک جا کر کچھ ایسا مصروف ہوا کہ سر کھجانے کی فرصت نہ ملی۔
’’خان صاحب! کیا سارے سال کا کام آج ہی ختم کرنا ہے؟‘‘ عمران نے اندر داخل ہو کر کلاک کی طرف اشارہ کیا۔ ’’دیکھیں کیا ٹائم ہوگیا ہے؟‘‘
میں نے دونوں ہاتھوں کو سر سے بلند کرکے انگڑائی لی اور دکھتے ہوئے سر کو کرسی کی پشت سے ٹکا دیا۔ سارا سٹاف جا چکا تھا۔
’’یار! آج تو وقت گزرنے کا احساس ہوا اور نہ لنچ کا ہوش رہا۔ لیکن اب اس وقت کیا کھائیں؟ گھر چل کر ہی رات کا کھانا کھا لیں گے۔ ایسا کرو اسلم (چپراسی) سے کہو جلدی سے دو کپ چائے بنا دے۔‘‘
’’میں نے چائے بھی بنو الی ہے اور ساتھ ہلکا پھلکا کھانے کا انتظام بھی کر لیا ہے۔‘‘اس نے ملازم کو آواز دی۔ ’’جلدی سے چائے لے آؤ۔‘‘ تھوڑی دیر بعد اسلم ٹرالی دھکیتا ہوا اندر آگیا۔
چائے کے ساتھ بسکٹ اور سموسے بھی تھے۔ چائے پی کر عمران نے پوچھا’’چلیں خان صاحب؟ دراصل آج ہوم گورنمنٹ(نازش) کا آرڈر تھا کہ میں ٹھیک پانچ بجے گھر آجاؤں اسے کسی سہیلی کے بیٹھنے کی سالگرہ میں جانا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے تم جاؤ تھوڑا سا کام باقی ہے سوچتا ہوں ختم کرکے ہی اٹھوں‘‘ میں نے سامنے پڑی فائلوں کی طرف دیکھا۔
’’اشرف(سکیورٹی گارڈ) بیٹھا ہے آپ کے جانے کے بعد لاک کر دے گا۔‘‘ اس نے جاتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے تم جاؤ۔‘‘ اس کے جانے کے بعد میں دوبارہ کام میں مصروف ہوگیا۔ اچانک مجھے احساس ہوا جیسے سامنے کوئی کھڑا ہے میں نے چونک کر دیکھا تو ششدر رہ گیا۔
میرے سامنے ایک ہٹا کٹا طویل القامت شخص کھڑا تھا۔ ا سکے جسم پر سوائے ایک دھوتی کے کچھ نہ تھا۔ گلے میں اس نے کئی قسم کی مالائیں پہنی ہوئی تھیں۔ ایک موٹی سی مالا اس کے ہاتھ میں بھی تھی۔ سر انڈے کے چھلکے کی طرح صاف اور درمیان میں ایک موٹی سی چوٹی جسے اس نے سینے پر ڈال رکھا تھا۔ وہ معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھا رہا تھا۔ موٹے بھدے ہونٹ ہل رہے تھے اور انگلیاں مالا کے دانوں پر تیزی سے متحرک۔ ننگے جسم پر زرد رنگ ملا ہوا تھا۔ ماتھے پر تلک کا نشان اسے ہندو ظاہر کر رہا تھا۔ وہ کب آیا مجھے مطلق خبر نہ ہوئی سب سے اہم بات یہ تھی کہ بینک ٹائم ختم ہونے کے بعد اسے اندرکیوں آنے دیا گیا؟ پہلا خیال جو میرے ذہن میں آیا کہیں بینک میں ڈاکو تو نہیں گھس آئے۔ لیکن اس کا حلیہ اس بات کی نفی کر رہا تھا۔ میں چونکہ اس علاقہ میں نیا تھا اس لئے مجھے معلوم نہ تھا یہان ہندو بھی رہتے ہیں۔ میں نے اس کی طرف سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’کون ہو تم ، اندر کیسے آئے؟‘‘وہ کچھ نہ بولا یک ٹک میری طرف دیکھتا رہا۔ اس کے ہونٹ مسلسل ہل رہے تھے بڑی بڑی آنکھوں میں میرے لئے بیک وقت غصہ، نفرت اور عقیدت نظر آرہی تھی۔ میں نے ڈپٹ کر کہا۔
’’میں پوچھ رہا ہوں تم کون ہو اور اندر کیسے آئے؟‘‘ وہ اب بھی خاموش رہا۔ میرا پارہ ہائی ہونے لگا۔ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اشرف کو بلا کر اس سے پوچھوں کون ہے یہ شخص اور اسے اندرکیوں آنے دیا گیا؟ کہ اس گونج دار آواز کمرے میں ابھری۔
’’مہاشے! اس مورکھ کو کیوں کشٹ(تکلیف) دیتا ہے؟ اس کا کوئی دوش(غلطی ) نہیں۔ وہ مہاپجاریوں کے آگے روک نہیں بن سکتا۔‘‘
کمرے میں ناگوار بو پھیلی ہوئی تھی جس کا منبہ شاید وہ سادھو نما شخص تھا۔
’’میں پوچھتا ہوں کون ہو تم اور اندر کیسے آئے؟‘‘ میں نے اپنا سوال دہرایا۔
’’مہاپرشوں سے اس طرح بات نہیں کرتے‘‘ اس کے کشادہ ماتھے پر بل پڑ گئے۔
’’بند کرو اپنی بکواس اور نکلو یہاں سے‘‘ اس مرتبہ میں نے غصے سے کہا’’تمہارے جیسے جعلی پیر فقیر اور سادھو۔۔۔لوگوں کو جھوٹی باتیں بتا کر ان پر رعب ڈالتے اور رقم بٹورتے ہیں‘‘ میں نے اسے بری طرح جھڑک دیا۔ اس کی آنکھوں میں یک دم قہر اتر آیا۔ اس بار وہ بولا تو اس کی آواز غصے اور نفرت سے پر تھی۔
’’یدی دیوی کا دھیان نہ ہوتا تو تم کھد دیکھ لیتے ہم کتنے شکتی مان ہیں؟ پرنتو ہم کسی کارن چپ ہیں۔۔۔مہان ہے دیوی‘‘ اس نے عقیدت سے آنکھیں بند کر لیں۔ میں نے غصے سے بیل بجائی لیکن یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ بیل بجانے کے باوجود اس میں سے آواز نہ نکلی۔ میں نے دوبارہ بٹن پر ہاتھ رکھا لیکن وہی نتیجہ نکلا۔ بار بار بٹن پر ہاتھ مارنے کے باوجود جب کوئی آواز نہ آئی تو میں جھنجھلا گیا۔ وہ مضحکہ خیز نظروں سے میری ناکام کوششوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے کے تاثرات نے مجھے سیخ پا کر دیا۔ ’’دفع ہو جاؤ یہاں سے نہیں تو ابھی پولیس کو بلواتاہوں۔‘‘
اس کی آنکھوں میں قہر اتر آیا’’مجھے یہاں تیری سہائتا کے کارن(مدد کے لئے) بھیجا گیا تھا پرنتو۔۔۔تو مورکھ ہے۔ تجھے تو اتنی جانکاری بھی نہیں کہ پنڈتوں اور بجاریوں سنگ کس طرح بات کرتے ہیں؟‘‘ غصے سے اس کے منہ سے جھاگ اڑنے لگا۔ اس کی آواز گونج دار اور کافی بلند تھی۔ میں حیران تھا کہ سکیورٹی گارڈ کہاں مر گیا؟ کیا اس نے آواز نہیں سنی ہوگی؟ جب کہ اس کو یہ حکم تھا اگر کوئی شخص ذرا سی بدتمیزی سے پیش آئے تو فوراً پولیس کو فون کرے۔ میں نے شیشے کی کھڑکی سے باہر دیکھا۔ سامنے دروازے پر سکیورٹی گارڈ گن پکڑے بدستور بیٹھا۔ سادھو نے میری طرف دیکھا اس کے بھدے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی۔
’’تو واقعی مورکھ ہے اتنی سی بات تیری بدھی(عقل) میں نہیں آئی کہ وہ میری آواج نہیں سن سکتا۔ یدی ایسا ہوتا تو وہ اب تک اندر نہ آجاتا؟ میں حیران تھا کہ یہ سب کیا ہے؟ بالاخر میں نے کہا۔
’’بہتر ہے تم خود یہاں سے چلے جاؤ ورنہ مجھے کوئی دوسرا طریقہ اپنانان پڑے گا۔ تم جیسے بہروپیوں کو میں اچھی طرح جانتا ہوں؟‘‘
’’تو واقعی مورکھ ہے۔۔۔جانے دیوی کو تجھ میں کیا دکھائی دیا جو مجھ جیسے مہان پنڈت کو تیرے پاس بھیج دیا۔‘‘
اس نے اپنہ ہر زہ سرائی جاری رکھی۔’’دیوی کے بھید دیوی ہی جانے۔۔۔وہ مہان ہے‘‘ وہ دوبارہ اپنی کسی دیوی کی تعریف میں لگ گیا۔
’’تم کون ہو اورکیا چاہتے ہو تم؟ اس بار میں نے ذرا نرم لہجے میں پوچھا۔ کسئی سوال میرے ذہن میں کلبلا رہے تھے یہ شخص کون ہے؟ اندر کیسے آیا؟ اسے مجھ سے کیا کام ہے؟ دیوی کون ہے؟ میرے سوالوں کے جواب اگر دے سکتا تھا تو وہ یہی منحوس صورت سادھو تھا۔ اس لیے میں نے لہجہ بدلتے ہوئے پوچھا۔
’’اب تیری بدھی نے کام کرنا شروع کیا ہے۔‘‘ اس کی آنکھوں میں میرے لیے تمسخر تھا۔ مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن ضبط کیے بیٹھا رہا۔
’’سن مورکھ! بہت بری پرکشا(آزمائش) سے گزرنے والا ہے تو۔ تیری پتنی ہمرے کریہ میں روک بنے گی اور دیوی ایسا نہیں چاہتی۔ اس سمے تجھے کچھ بتانے آیا ہوں۔‘‘ اس کاایک لفظ میرے پلے نہ پڑا۔
’’مجھے توتمہاری ایک بات بھی سمجھ نہیں آرہی۔ دیوی۔۔۔پرکشا۔۔۔یہ سب کیا بکواس ہے؟ میں اس قسم کی باتوں میں آنے والا نہیں۔ جا کر کسی اور کو بیوقوف بناؤ۔‘‘ میں نے اسے جھڑک دیا۔ غصے سے اس کا چہرہ سیاہ پڑ گیا۔
’’دیوی کی سوگند، یدی اس کا دھیان نہ ہوتا تو میں تجھے ابی بتاتا کہ میں کون ہوں اور کیا کر سکتا ہوں؟ پرنتو۔۔۔‘‘ وہ غصے سے بل کھا کر رہ گیا۔ اس کی آنکوں سے بیک وقت غصے اور بے بسی کے ملے جلے تاثرات کا اظہار ہو رہا تھا۔
’’تم جاتے ہو یا میں پولیس کو بلاؤں؟‘‘ میں نے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
’’تو بڑا بھاگی شالی ہے جو اتنی بڑی شکتی تجھے بیٹھے بٹھائے مل گئی جسے پراپت کرنے کے کارن کئی سادھو اور پنڈت پرلوک سدھار گئے۔ اس سمے دیوی نے ہی مجھے یہاں بھیجا ہے کہ تجھ جیسے مورکھ کو سمجھاؤں کہ جن کٹھنائیوں میں تو پڑنے والا ہے ان سے بچ جائے‘‘ وہ خلا میں گھورتے ہوئے بڑے پراسرار انداز سے بولا۔
’’تیری اس دیوی کو مجھ سے کیا ہمدردی ہے جومجھے بچانا چاہتی ہے اور تو مجھے کیا سمجھانے آیا ہے؟‘ میں اس کی فضول بکواس سے بیزار ہوگیا تھا۔
’’تو اپنی دھرم پتنی کو طلاق دے دے‘‘ وہ بولا۔
’’بکواس بند کر حرامزادے۔۔۔‘‘ میں نے غصے میں سامنے پڑی پتھر کی وزنی ایش ٹرے اٹھا کر اسے دے ماری۔ صائمہ کے بارے میں اس کی بات سن کر میں غصے سے پاگل ہوگیا۔ ایش ٹرے گولی کی طرح اس کے سر کی طرف گئی لیکن اگلہ لمحہ مجھے حیران کر گیا۔ ایش ٹرے اس کے سر سے ٹکرا کر یوں پاش پاش ہوگئی جیسے اس کا سر نہیں چٹان ہو۔ اس کی آنکھیں لال انگارہ ہوگئیں۔ ان میں بجلیاں سی کوندنے لگیں۔
’’تونے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ہے مہاراج امر کمار پر۔۔۔؟‘‘ وہ غصے سے کانپنے لگا۔ اسنے اپنا دایاں ہاتھ میری طرف اٹھایا اس کے ہونٹ تیزی سے ہلنے لگے۔ وہ کچھ پڑھ رہا تھا۔ اچانک اس نے چونک کر چھت کی طرف دیکھا کچھ دیر وہ اسی حالت میں کھڑا رہا پھر کسی نادیدہ وجود سے مخاطب ہوا۔
’’دیوی! مجھے مت روک۔۔۔تو جانتی ہے اس مسلے نے مجھ پر وار کیا ہے مہاراج امرکمار پر۔۔۔میں اسی سمے اسے بھسم کر دوں گا۔‘‘ کچھ دیر وہ تذبذب کی حالت میں کھڑا رہا۔ پھر میری طرف دیکھ کر بولا۔
’’دھن ہوں دیوی کے جس نے اس سمے تجھے میرے شراپ سے بچا لیا۔ پرنتو جو حرکت تو نے کی ہے اس کا بدلہ تجھے اوش ملے گا۔ وہ سمے دور نہیں جب تو میرے چرنوں(قدموں) میں پڑا جیون بھکشا مانگ رہا ہوگا۔ میں تجھے ایسا شراپ دوں گا کہ تو جیون بھر یاد رکھے گا۔ یہ ایک مہمان سادھو کا تجھ سے وچن ہے‘‘ وہ غصے سے کانپ رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا۔ وہ مڑا اور تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا باہر نکل گیا۔ میں فوراً اس کے پیچھے لپکا باہر کوئی بھی نہ تھا۔ ایک لمحے میں وہ غائب ہوگیا تھا۔ میں تیز قدموں سے چلتا ہوا مین دروازے تک گیا۔ اشرف مستعدی سے اپنی ڈیوٹی دے رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ کھڑا ہوگیا۔
’’کدھر گیا وہ خبیث؟‘‘ میں نے اس کے قریب جا کر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے غصے سے پوچھا۔ بینک ایک بڑے ہال اورمیرے کیبن پر مشتمل تھا۔ ہال خالی پڑا تھا۔
’’کس کو ڈھونڈ رہے ہیں صاحب؟‘‘ اشرف نے حیرت سے مجھے دیکھا۔
’’تم کس طرح اپنی ڈیوٹی دیتے ہو؟ میری اجازت کے بغیر تم نے اس ہند وکو اندر کیسے آنے دیا؟‘‘ میں نے اس کی طرف گہری نظروں سے دیکھا۔
’’کون ہندو صاحب جی! کس کی بات کر رہے ہیں؟میں تو اس وقت سے یہیں بیٹھاہوں میں نے تو کسی کو نہیں دیکھا‘‘ وہ بری طرح بوکھلا گیا۔
’’جھوٹ مت بولو ابھی ایک ہندو اندر آیا تھا۔ کافی دیر وہ میرے کمرے میں کھڑا باتیں کرتا رہا اور تم کہہ رہے ہو کوئی نہیں آیا۔‘‘
وہ قسمیں کھانے لگا اس نے کسی کو نہیں دیکھا۔میں تھوڑی دیر وہیں کھڑا رہا پھر اسے سختی سے تاکید کی اگر دوبارہ ایسا ہوا تو میں اس کے خلاف شکایت لکھ بھیجوں گا۔ سارے واقعے پر مجھے سخت حیرت تھی ’’کہیں بیٹھے بیٹھے میری آنکھ تو نہیں لگ گئی میں نے کوئی خواب تو نہیں دیکھا؟‘‘ میں بڑبڑایا لیکن کمرے میں ٹوٹی ہوئی ایش ٹرے کے ٹکڑے اس بات کی نفی کر رہے تھے۔ کافی دیر میں بیٹھا الجھتا رہا پھر سر جھٹک کر ان خیالات سے پیچھا چھڑایا اور بینک اپنی نگرانی میں بند کروا کر گھر آگیا۔ سارا راستہ میں سوچ میں گم رہا۔ سادھو کی باتیں میری سمجھ میں نہیں آئی تھیں۔ وہ کس شکتی کی بات کررہا تھا۔۔۔؟ دیوی کون تھی۔۔۔؟ وہ صائمہ کو مجھ سے علیحدہ کیوں کرانا چاہتا تھا۔۔۔؟ ان سوالوں کے جواب کون دیتا؟ سوچ سوچ کر میرا سر دکھنے لگا۔ گھر میں داخل ہوا تو صائمہ نے حسب معمول مسکراتے ہوئے میرا استقبال کیا۔
’’آج اتنی دیر کہاں لگا دی؟ روزانہ تو آپ ساڑھے پانچ بجے تک آجاتے ہیں۔ میں نے کی بار بینک فون کیا لیکن گھنٹی بجتی رہی کسی نے فون ریسیو نہ کیا تو میں سمجھی آپ بینک سے نکل چکے ہیں۔ عمران بھائی کی طرف چلے گئے تھے کیا؟‘‘ صائمہ نے بریف کیس میرے ہاتھ سے لیتے ہوئے پوچھا۔ میں زبردستی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے بولا۔
’’سانس تولینے دو یک دم اتنے سوالات؟ میں تو کمرہ امتحان میں بھی کبھی اتنے سوالات کا جواب نہ دے سکا تھا۔‘‘
’’اس کا مطلب ہے آپ لائق شاگرد نہیں ہیں؟‘‘ گلابی لب مسکرانے لگے۔
’’تم کھانا گرم کرو میں فریش ہو کر آتا ہوں۔‘‘ میں نے باتھ روم کی طرف جاتے ہوئے کہا۔
بچے سو چکے تھے ہم نے کھانا کھایا کچھ دیر باتیں کیں کام کی زیادتی کی وجہ سے تھکن ہو جایا کرتی اس لیے میں جلد ہی سو گیا۔ (جاری ہے)

وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔چھٹی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں