مسجد نبوی ﷺ میں کتنے مرد و خواتین اعتکاف کی سعادت حاصل کر رہے ہیں اور سعودی حکومت کی جانب سے ان معتکفین کو کیا ہدایات جاری کی گئیں ہیں؟ایمان افروز تفصیلات سامنے آ گئیں

Ramadan News

مدینہ منورہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسجد نبوی ﷺ میں عبادت اور روضہ رسول ﷺ کی زیارت دنیا میں رہنے والے ہر مسلمان کے دل کی خواہش ہو تی ہے ، دنیا بھر سے لاکھوں افراد عمرے کی ادائیگی کے ارض حرم کا رخ کرتے ہیں تو دوسری طرف رمضان کی آمد کے ساتھ ہی یہ تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے ،اکثر مسلمان ایسے بھی ہیں جو عرصہ دراز سے رمضان کی مقدس ساعتیں مسجد نبوی ﷺ میں گذارنا اپنی زندگی کا معمول بنائے ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں مسلمانوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ  اس ماہ مقدس کا  آخری عشرے میں مسجد نبوی ﷺ میں اعتکاف کی سعادت حاصل کرنے میں کامیاب ہوں ،لیکن کسی خوش نصیب کو ہی یہ سعادت نصیب ہوتی ہے ،رواں ماہ بھی دنیا بھر میں لاکھوں افراد رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کے لئے مساجد میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور رات دن عبادات اور ذکر و اذکار کے ذریعے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی کے خواستگار ہیں ۔

رواں ماہ مسجد نبویﷺ میں ماہ صیام کے اس آخری عشرے میں کتنے افراد اعتکاف کی سعادت حاصل کر رہے ہیں ؟ ان معتکفین کے لئے سعودی حکومت کیا خدمات فراہم کر رہی ہے اور  معتکفین کو کن امور سے بچنے کی واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں ؟کے بارے میں مسجد نبویﷺ کے نگران ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ مسجد میں اس بار ماہ صیام کے آخری عشرے میں 13 ہزار 575 روزہ دار اعتکاف کی سعادت حاصل کررہےہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد نبویﷺ  میں معتکفین کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ مسجد نبویﷺ کے امور کی نگران ایجنسی کے شعبہ ابواب کے ڈائریکٹر سعود الصاعدی نے بتایا کہ رواں ماہ صیام کے آخری عشرے میں مسجد نبویﷺ  میں 11 ہزار 432 مرد اور 2143 خواتین اعتکاف کررہی ہیں جن کی مجموعی تعداد 13 ہزار 575 ہے۔

سعود الصاعدی کا کہنا ہے کہ مسجد نبویﷺ  میں اعتکاف کے لیے تین مقامات مختص کیے گئے ہیں جبکہ معتکفین حضرات کی مسجد میں آمد ورفت کے لیے باب العقیق، باب عمربن خطابؓ اورمشرق کی سمت میں باب ابی ارقم اور خواتین کے لیے مغرب کی سمت میں باب 13 مختص کیے گئے ہیں۔اعتکاف کی رجسٹریشن کے لیے آن لائن رجسٹریشن کی سہولت بھی مہیا کی گئی تھی۔ تمام معتکفین کے لیے نو نکاتی ضابطہ اخلاق مقرر کیا گیا ہے جس میں مسجد نبویﷺ  کی صفائیکا خیال رکھا، نمازیوں کو پریشان نہ کرنا، عید کی رات نماز عشاء کے فوری بعد اعتکاف ختم کرنا، قرآن کے لیے مختص الماریوں پر کپڑے نہ لٹکانا، کھڑکیوں پر جوتے اور دیگر سامان رکھنے سے گریز کرنا، جوتوں کے بکس صفوں کے درمیان نہ رکھنا، نماز تہجد کے دوران صفوں کے درمیان سونے یا بیٹھنے سے گریز کرنا اور متعلقہ حکام کی طرف سے دی جانے والی ہدایات پر من وعن عمل کرنا جیسے ضوابط شامل ہیں۔

ویسے تو حرم میں بھی ہزاروں افراد اعتکاف کی سعادت حاصل کرتے ہیں لیکن روضہ رسولﷺ کی قربت میں اپنے گناہوں کی معافی کے لئے گڑاگڑانے اور گریہ و زاری کا عمل معتکفین کو بڑا محبوب لگتا ہے ،مسجد نبویﷺ میں ویسے تو پورا سال ہی دنیا بھر سے مسلمان انتہائی محبت و عقیدت سے حاضری اور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں نذرانہ درود و سلام کے لئے آتے ہیں لیکن رمضان کے اس عشرے میں عقیدت مندوں کی اپنے آقا ﷺ سے محبت کا مظاہرہ قابل دیدنی ہوتا ہے۔