سراج الحق لال حویلی پہنچ گئے ، شیخ رشید سے ملاقات میں پاناما فیصلے ،اپوزیشن اتحاد اور دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال

راولپنڈی

راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی راولپنڈی میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد سے ملاقات ،پاناما فیصلے کے بعد  ملکی سیاسی  صورتحال اور 2 طرفہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹر سراج الحق نے لال حویلی میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد سے تفصیلی ملاقات کی اور پاناما کیس کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال اور اپوزیشن جماعتوں کے حوالے سے گفتگو کی گئی ،ملاقات کے بعد  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان میں سیاست تجارت بن چکی ہے ،پانامہ بنچ کے سربراہ اور آئندہ بننے والے چیف جسٹس دونوں نے وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا ہے، اخلاق کا تقاضا یہی تھا کہ فیصلے آنے کے بعد وزیر اعظم  اپنے عہدے سے ہٹ جاتے اور اعلان کرتے کہ اگر سپریم کورٹ نے مجھے کلیئر قرار دیا تو میں دوبارہ وزیر اعظم بنوں گا، لیکن ہمیں افسوس ہے کہ وہ کام نہیں کر سکے،  آج اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ آزادانہ تحقیق کے لیے ضروری ہے کہ وزیر اعظم استعفٰی دے دیں تا کہ ان کی غیر موجودگی میں انصاف کے ساتھ تحقیقات مکمل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کیس کی پیروی کے لیے مشورے کر رہے ہیں آج مجھ سے کئی صحافیوں نے سوال پوچھا کہ کیا اپوزیشن کا ایک اتحاد ممکن ہے یا نہیں؟ میرا یہ خیال ہے کہ اگر اپوزیشن کے درمیان کم از کم ایجنڈے پر اتفاق ہو جائے تو یہ قوم کے لیے بہتر ہے،  الیکشن اصلاحات کے بغیر الیکشن کروڑوں کا کام ہے اور ممکن ہے کہ شیخ صاحب نے کچھ جمع کیا ہو مگر ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں تو پھر ہمارے جیسے عام لوگوں کے لیے اس الیکشن میں جانا مشکل ہے ، ہم نے عزم کرنا ہے کہ الیکشن اصلاحات لائیں گے، کیونکہ ہم ایک ایسا الیکشن نظام چاہتے ہیں کہ جس میں غریبوں کے لیے بھی ایوانوں کے دروازے کھلے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کو مایوس نہیں کریں گے ، ہمارے دامن بالکل صاف ہیں اور ہم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پیسے کی بنیاد پر جو بھی الیکشن لڑتا ہے اسے نااہل قرار دے۔
اس موقع پر شیخ رشید نے کہا کہ ہمارے لئے عزت کا مقام ہے کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق لال حویلی تشریف لائے ، ہم نے ہمیشہ قال قال رسول اللہﷺ  کا علم بلند کیا،  راولپنڈی نے سات مرتبہ  مجھے اسمبلی رکن اور وزیر بنایا، ہم کرپشن،  ظالموں اور چوروں کے خلاف جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں ، خواہش ہے کہ جس طرح عمران خان کے ساتھ چل رہے ہیں ، ویسے ہی سراج الحق کے ساتھ چلیں۔شیخ رشید نے کہا کہ جے آئی ٹی کے کام کرنے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کی رائے ہے کہ وزیر اعظم استعفیٰ دیں،  اصل اتحاد عوام کا ہے کہ عوام آپس میں مل جائیں ۔ کرپشن کے خلاف ان کا کہنا تھا کہ حکومتی وزرا فیصلے کی غلط تشریح کر رہے ہیں ، ہم ریفرنس کیلے جا سکتے ہیں،  نواز شریف کی موجودگی میں جے آئی ٹی کام نہیں کر سکتی۔قبل ازیں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی قیادت جماعت اسلامی کا وفد لال حویلی پہنچا تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا بعدازاں سینیٹر سراج الحق اور شیخ رشید کی وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی جس میں پانامہ کے فیصلے اور آئندہ کی سیاسی صورتحال ،اپوزیشن کو یکجا کرنے سمیت دیگر عام امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔