سندھ حکومت نے شہدا خاندانوں کیلئے 8500 ایکڑ اراضی فوج کو منتقل کر دی

رئیل سٹیٹ

کراچی (ویب ڈیسک) حکومت سندھ نے پاک فوج کے شہیدوں کے خاندانوں کیلئے مختص 8500 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ ریگولرائز کرنے کا 17 برس پرانا مسئلہ حل کر دیا ہے۔ اعلیٰ حکومتی حلقے حکومت سندھ کے اس جذبہ خیر سگالی کو پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کے حوالے سے اہم قدم قرار دے رہے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی منظوری سے محکمہ ریونیو سندھ نے ضلع جامشورو کے تھانہ بولا خان کے علاقے کی 8500 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ ریگولرائز کرنے کا آرڈر جاری کردیا ہے ، کراچی حیدرآباد سپر ہائی وے سے صرف دو کلومیٹر اندر موجود یہ بارانی زرعی زمین سابق گورنر محمد میاں سومرو نے 25 نومبر 2000 کو پاک آرمی کے ادارے ملٹری فیملی ری سیٹلمنٹ آرگنائزیشن کو ایک سو روپے فی ایکڑ قیمت پر گرانٹ کی تھی۔

روزنامہ دنیا کے مطابق فوجی ادارے کو یہ زمین ضلع نوابشاہ میں پاک آرمی کے لئے مختص کردہ زرعی زمین کے چوٹیاریوں ڈیم منصوبے میں آجانے کے بدلے میں دی گئی تھی، لیکن 17 برس گزرنے کے باوجود ریونیو ریکارڈ میں زمین متعلقہ فوجی ادارے کے نام پر منتقل نہیں ہوسکی تھی۔ تقریباً ڈیڑھ برس پہلے فروری 2016 میں سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ بھی سابق آرمی چیف کی درخواست پر جذبہ خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضلع شکارپور میں ساڑھے 9 ہزار ایکڑ سرکاری زمین فوجی شہداء کے لواحقین کے لئے مفت الاٹ کر چکے ہیں ۔ تازہ کیس کی تفصیلات کے مطابق پاک آرمی کے ڈائریکٹر جنرل لینڈ میجر جنرل نوید صفدر کی جانب سے 20 ستمبر 2016 کو لکھے گئے خط پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 14 دسمبر 2016 کو محکمہ ریونیو کو یہ مسئلہ حل کرنے کی ہدایت دی تھی ، وزیر اعلیٰ کو لکھے گئے خط میں بتایا گیا تھا کہ فوجی ادارے کی جانب سے بار بار رابطہ کرنے کے باوجود محکمہ ریونیو سندھ کی انتظامیہ نہ زمین کی طے کردہ قیمت وصول کر رہی ہے اور نہ زمین فوجی ادارے کے نام پر منتقل کرنے کے لئے تیار ہے جبکہ فوجی ادارہ اپنے ریکارڈ میں زمین کا بڑا حصہ کئی فوجی مرحومین کے خاندانوں کے نام مختص کرچکا ہے ، لیکن زمین کا سرکاری کھاتہ منتقل نہ ہونے کے باعث زمین کو زیر استعمال نہیں لایا جاسکا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سے درخواست کی گئی کہ طے شدہ قیمت وصول کر کے زمین متعلقہ فوجی ادارے کے نام منتقل کی جائے۔

محکمہ ریونیو نے 13 جولائی 2017 کو وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کردہ ایک سمری میں بتایا کہ سندھ لینڈ کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر جامشورو کی تازہ رپورٹ کی بنیاد پر مذکورہ زمین کی الاٹمنٹ 15000 روپے فی ایکڑ قیمت پر فوجی ادارے کے نام پر ریگولرائز کرنے کی منظوری دیدی ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ لینڈ کمیٹی کے قیام کے جاری شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق لینڈ کمیٹی کو صرف رہائشی، صنعتی اور تجارتی مقاصد والی زمینوں کی منسوخ شدہ الاٹمنٹ بحال کرنے کا اختیار تھا ، زرعی زمین کے معاملات لینڈ کمیٹی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے ، لیکن کمیٹی نے اس زمین کی ریگولرائزیشن کی اسپیشل کیس کے طور پر منظوری دی ہے ، ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے 11 ستمبر 2017 کو سمری منظور کر کے عملدر آمد کے لئے چیف سیکریٹری کو بھیج دی جبکہ محکمہ ریونیو نے زمین کی نئی طے کردہ قیمت وصول کرنے کے لئے ڈائریکٹر جنرل لینڈ پاک آرمی کے نام 12 کروڑ 75 لاکھ روپے کا چالان جاری کر دیا ہے۔