مردم شماری ، پاکستان میں موجود ہرشخص کی گنتی کرنی ہے، آصف باجوہ

علاقائی


اسلام آباد(صباح نیوز)چیف کمشنر مردم شماری آصف باجوہ نے کہا ہے کہ جو بھی شخص مردم شماری کے دوران پاکستان میں موجود اور زندہ ہے ہم نے اس کی گنتی کرنی ہے غیر ملکیوں کی گنتی ہم نے اس لیے کرنی ہے کہ وہ ہمارے ملک کے وسائل استعمال کر رہے ہیں، مردم شماری کے بعد پتہ چلے گا کہ شہری اور دیہی آبادی کتنی ہے۔مردم شماری کے دوران شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ہم پوری کوشش کررہے ہیں ، اس مقصد کے لیے پونے دو لاکھ فوجی جوانوں کی تعیناتی کی گئی ہے۔ سرکاری ٹی وی سے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ 1998ء کی مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 13 کروڑ تھی ،حکومتی اندازوں کے مطابق اس وقت آبادی 196 یا 197 ملین ہے، مردم شماری کے عمل میں شفافیت بہت اہم ہے ا 2008ء میں ہم نے پھر مردم شماری کرانے کی تیاری شروع کی اور ہم نے کہا کہ 1998ء والے ماڈل پر عمل کریں مگر ہمیں فوج دستیاب نہیں ہوئی 2011ء میں بھی ہم نے کوشش کی پھر بھی ہمیں فوج دستیاب نہیں ہوئی 2015ء پھر مشترکہ مفادات کونسل نے فیصلہ کیا کہ مردم شماری کرائی جائے ہم فوج کے پاس گئے کہ بندیے دے دیں تب بھی نہیں ملے پھر 2016ء میں فیصلہ ہوا پھر بندے نہیں ملے اب فوج جب اپنے دوسرے کام سے فارغ ہوئی تو پھر انہوں نے بندے دیئے، مشترکہ مفادات کونسل کے تمام فیصلوں میں لکھا ہے کہ پاک فوج کے اہلکاروں نے سکیورٹی،شفافیت اور کریڈبیلٹی کو یقینی بنانا ہے ۔دونوں کام ان کے ذمہ ہیں ۔
مردم شماری