اراضی ریکارڈ سینٹر میں وراثت کی تصدیق وبال جان بن گئی

علاقائی


لاہور(عامر بٹ سے)پنجا ب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے زیر نگرانی اراضی ریکارڈ سینٹر میں وراثت کی تصدیق وبال جان بن گئی ہے۔صوبے بھر کے عوام پٹوارخانوں اور اراضی ریکارڈ سنٹر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں، فوت شدہ افراد کے وارث اپنے شجرہ نسب کو ریونیو ریکارڈ میں قائم کرانے اور وراثت کے حقوق کے حصول کے لئے استعمال کی جانے والی پریکٹس سے تنگ آگئے ہیں ۔پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹرجنرل سے نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ صوبے بھر کے عوام پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے قائم کردہ اراضی سنٹر میں وراثت کے حصول کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں ،روزنامہ پاکستا ن کی جانب سے کئے جانے والے سروے کے دوران شہری محمد سہیل ،محمدیوسف سجاد احمد اور رانا یاسر نے کہا کہ ہم چھ ماہ سے ملکیتی وراثت کے لئے اراضی ریکارڈ سنٹر کے چکر لگا رہے ہیں لیکن سنٹر کا عملہ جان بوجھ کر اپنے مفادات کی خاطر ہمیں پٹوارخانے بھیج دیتا ہے کہ ادھر سے رپورٹ لائیں پھر اندراج ہو گا ،پٹوار خانے جاتے ہیں تو پٹواری صاحب نہیں ملتے پرائیویٹ منشی بھی مسلسل ٹال مٹول سے کام لیتے اور حیلے بہانوں سے پیسوں کی ڈیمانڈ کرتے ہیں بحالت مجبور ی مانگی گئی رقم دے کر رپورٹ تو مل جاتی ہے لیکن پھر دوبارہ عملہ اراضی ریکارڈ سنٹر اس رپورٹ میں کوئی نہ کوئی خامی نکال کردوبارہ پٹوارخانہ کی راہ دکھادیتا ہے ہم دوبارہ اسی چکر میں لگ جاتے ہیں ،شہری محمد عامر ،صداقت علی ملک ،محسن علی اور عقیل حید ر نے کہا کہ مرحوم والد اور دادا کی وراثت اپنے نام منتقل کرانے ااسے ریونیو ریکارڈ رمیں شامل کرانے کے لئے جتنی ذلت ہم اٹھا چکے ہیں ا سے دیکھ کر لگتا ہے کہ شائد دنیا میں ا س سے مشکل کام کوئی نہیں ،ہمیں اسلام اور پاکستانی قانون کے مطابق وراثت کے حصول کے لئے ناجائز ذرائع استعمال کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے ،ریونیو ریکارڈ میں شجرہ نسب کی منتقلی اور اندراج کے عملہ ریونیو نے جتنے سقم رکھ دیئے ہیں وہ سب اپنے مفادات کو پورا کرنے کے لئے رکھے گئے ہیں حالانکہ اگر قانونی پوائنٹ سے دیکھا جائے تو سیدھا کیس ہے لیکن اراضی ریکارڈ سنٹر پٹوارخانہ جات اور پھر ریونیو عملہ صرف بدعنوانی کے لئے جائز اور سہل کام بھی رکاوٹ ڈالتا ہے اس ساری پریکٹس میں ساری کی ساری ہمیں اٹھانا پڑ رہی ہے ہماری ڈائریکٹر جنر ل پنجاب لینڈ ریکارڈ کیپٹن(ر)ظفر اقبال سے اپیل ہے کہ ا س غیرقانونی پریکٹس کا فوری نوٹس لے کر عملہ اراضی ریکارڈ سنٹر کو پابند بنایا جائے کہ شہریوں کو جان بوجھ کر تنگ کرنے اور اپنے مفادات کے لئے بار بار چکر لگانے کی پریکٹس ختم کرکے میرٹ کے مطابق کام کو کیا جائے۔پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ روزنامہ پاکستان کی نشاندہی پر اس پریکٹس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا اگر ا س معاملے میں کسی بھی اراضی ریکارڈ سنٹر اہلکار کی ملی بھگت پائی گئی تو سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔