شفیق آباد ، جرائم کے اعتبار سے سٹی ڈویژن کے 22تھانوں میں سرفہرست ، ڈاکے ، چوریاں کنٹرول سے باہر

علاقائی

لاہور( لیاقت کھرل) تھانہ شفیق آباد جو کہ سٹی ڈویژن کے 22 تھانوں میں کرائم کے اعتبار سے ٹاپ اور اس تھانہ میں کرائم فائٹر سمجھے جانے والے انسپکٹروں کو بھی ایس ایچ او تعینات کرنے کے باوجود اس تھانہ کی حدود میں چھینا جھپٹی اور راہزنی کی وارداتیں عام، نقب زنی میں بھی سرفہرست جبکہ معمولی بات پر قتل و غارت کے بڑھتے ہوئے واقعات دیرینہ دشمنی میں تبدیل جو کہ پولیس کیلئے آمدنی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ ’’پاکستان‘‘ کی جانب سے اس تھانہ کی آبادیوں قصور پورہ، مالی پورہ اور کھوکھر ٹاؤن کا سروئے کرنے اور تھانہ میں آئے ہوئے سائلین کی شکایت سنیں تو اس موقع پر اس بات کا انکشاف سامنے آیا کہ اس تھانے کی حدود میں دیگر تھانوں کے اشتہاری ملزمان نے بھی خفیہ طور پر ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ اس موقع پر تھانے آنے والے سائلین غلام رسول، نیک محمد، بابا عنایت فوجی، اکرام خان، غوث عالم بھٹی، نگہت بی بی، مرتضیٰ بلوچ، مشتاق بٹ، خالد بٹ اور حق نواز بٹ نے بتایا کہ چند روز قبل 55 سالہ شہری علاؤالدین کو قتل کر دیا گیا۔ آپریشن پولیس ، انویسٹی گیشن جبکہ انویسٹی گیشن پولیس ھومی سائیڈ پولیس کے پاس اور اس طرح کئی چکر لگوا رہے ہیں اور تاحال پولیس اصل حقائق اور ملزمان کا سراغ نہیں لگا سکی ہے۔ اس موقع پر تھانہ میں درج مقدمات کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ اس تھانہ کی حدود میں چھینا جھپٹی کی وارداتوں نے جہاں علاقہ کے مکینوں کی زندگیاں اجیرن بنا کر رکھ دی ہے وہاں پولیس بھی چکرا کر رہ گئی ہے ۔ پولیس مین راوی روڈ، گول باغ اور کریم پارک میں مسلسل ناکہ بندی کرتی ہے اورڈولفن فورس اور پیروسکواڈ کا گشت بھی ہو رہا ہے ۔ اس کے باوجود ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتیں عام ہیں اور پولیس چھینا جھپٹی کی وارداتوں کو نوسر بازی میں تبدیل کر کے ’’خانہ پری‘‘ پر لگی ہوئی ہے۔ اس موقع پر تھانہ کا ریکارڈ چیک کرنے پر پتہ چلا کہ تھانہ میں ایس ایچ او سمیت 130 ملازمین کو تعینات کرنے کی منظوری ہے جبکہ اس تھانہ میں 40 ملازمین کی کئی سالوں سے کمی ہے جبکہ تھانہ کے ریکارڈ کے مطابق 88 ایسے اشتہاری ہیں جو کہ کئی سالوں سے تھانہ کی پولیس اور مکینوں کے لئے سردرد بنے ہوئے ہی جس سے بدامنی نے جنم لے رکھا ہے۔ جس کے باعث آئے روز لڑائی جھگڑے کے معمولی واقعات سے قتل و غارت کے واقعات بڑھ کر رہ گئے ہیں۔ اس موقع پر خاتون سکینہ بی بی نے بتایا کہ تھانہ سے چند گز کے فاصلے پر سکائی وے روڈ کے قریب موبائل فون سن رہی تھی کہ موٹر سائیکل سوار دو لڑکوں نے موبائل فون چھین لیا۔ تین روز سے تھانہ کے چکر لگا رہی ہوں۔ عمر رسیدہ افضل اور اکرام الحق نے بتایا کہ گھر میں نقب زنی کی واردات ہو گی۔ چور موٹر سائیکل بھی لے گئے۔ تاحال پولیس مقدمہ درج نہیں کر رہی ہے۔ محمد اسلم، مشتاق خان، رانا ارقم، اصغر طور، ملک خرم علی نے بھی پولیس کے خلاف شکایات سنائیں۔ اس موقع پر تھانہ کا ریکارڈ چیک کرنے پر اس بات کا انکشاف سامنے آیا کہ تھانہ کی حدود چھینا جھپٹی کی وارداتوں کے ساتھ ساتھ سال 2016ء میں اس تھانہ کی حدود میں معمولی رنجش اور دیرینہ عداوت پر 11 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، جبکہ 35 شہریوں کو فائرنگ اور چھریوں کے وار کر کے زخمی کیا گیا۔ اسی طرح ڈکیتی کے 52 واقعات ہوئے اور پولیس نے صرف ڈکیتی کے 30 واقعات کے مقدمات درج کیے۔ جبکہ رواں سال کے پہلے دو ماہ 16 دنوں میں قتل و غارت ، ڈکیتی ، راہزنی اور نقب زنی سمیت دیگر واقعات پر 979 شہری فریاد لے کر تھانہ آئے اور پولیس نے صرف 259 مقدمات درج کیے، جس میں ڈکیتی اور راہزنی کے دس واقعات رونما ہوئے پولیس نے ڈکیتی کے صرف 4 مقدمات درج کیے۔ اسی طرح موٹر سائیکل چوری کے واقعات میں بھی نئے سال 2017ء کے شروع ہوتے ہی تیزی ریکارڈ میں دیکھی گئی ہے، جبکہ نقب زنی کے واقعات بھی کنٹرول سے باہر ہیں اور پولیس ناکہ بندی اور ڈولفن فورس سمیت پیروسکواڈ کا گشت تمام تر پولیس کی حکمت عملی اور منصوبہ بندی ناکام ہے۔ اس موقع پر شہریوں نے وزیر اعلیٰ سے نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔