رشوت کے مقدمہ میں ملوث کانسٹیبل سرفراز کی درخواست ضمانت خارج

علاقائی

لاہور(نامہ نگار)سپیشل جج اینٹی کرپشن محمد قاسم نے 23ہزارروپے رشوت کے مقدمہ میں ملوث کانسٹیبل سرفراز کی درخواست ضمانت خارج کردی تاہم پیٹی بھائیوں نے ملزم کو پکڑنے کی زحمت نہ کی جس کے باعث وہ عدالت کے احاطے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا،علاوہ ازیں عدالت نے رشوت لینے کے مقدمات میں ملوث ایک انسپکٹر اور2سب انسپکٹرز پر فرد جرم عائد کردی ہے ۔اینٹی کرپشن میں کانسٹیبل سرفراز کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی، ملزم ستوکتلہ میں تعینات تھا، اس نے دوران ڈیوٹی بلقیس نامی خاتون کے بیٹے سہیل کو پکڑ ا بعد میں اس کو چھوڑنے کے لئے30ہزارروپے کی رقم وصول کی ،اینٹی کرپشن نے بلقیس کی درخواست پر انکوائری کی اور کانسٹیبل پر الزام ثابت ہونے پر مقدمہ درج کیا،مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزم نے عدالت سے ضمانت کرانے کی کوشش کی جو عدالت نے وکلا کے دلائل کے بعد خارج کردی جس کے بعد ملزم پولیس کی موجودگی کے باجود فرار ہوگیا،علاوہ ازیں عدالت نے ڈیرھ لاکھ روپے رشوت کیس میں ملوث ملزم سابق انسپکٹرشاہدرہ طیب اشرف فرد جرم عائد کردی ہے، ملزم نے شاہدرہ کے رانا زاہد کو اس کا کام کرنے کے لئے ڈیرھ لاکھ روپے رشوت مانگی تھی ،عدالت نے فرد جرم کے بعد اینٹی کرپشن کو 2اپریل کو گواہ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، اسی طرح عدالت نے دو سب انسپکٹرزذوالفقار اور کاشف یوسف کو 20ہزارروپے رشوت کے علاوہ موبائل فون چھیننے کے کیس میں فرد جرم عائد کردی ہے۔