رزق کی کشادگی کا سب سے مجرب وظیفہ

روشن کرنیں

اللہ تعالیٰ ہی شکور ہے کیونکہ وہ اپنے بندوں کا شکر قبول کرکے ان پر راضی ہو جاتا ہے ۔اس شکر کی توفیق بھی وہ خود عطاء کرتا ہے اور نہ صرف توفیق دینے کے بعد انسان کو شکر ادا کرنے کا موقع دیتا ہے بلکہ اس کا شکر اس طرح سے قبول کرتا ہے کہ اس کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں ایسا درجہ پاتا ہے کہ بعض اوقات انسان کے تمام گناہ دھل جاتے ہیں اور وہ یوں ہو جاتا ہے جیسے کہ ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔وہ چاہتا ہے کہ انسان اس کا شکر ادا کرے اس کی نعمتوں پر اپنا سر تسلیم خم کرے تاکہ وہ ان کو خیر کثیر عطا کر سکے۔وہ انسانوں کو اپنی نعمتیں عطا کرنا چاہتا ہے اور اس کی خواہش اور منشاء ہے کہ انسان اس کا شکر گزار ہو جائے تاکہ وہ اسے نواز سکے اکثر دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو حاصل کرنے کے بعد اور ان سے فائدہ اٹھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے۔یہی وہ غلطی ہے جو انسان کی نعمتوں کو کم کر دیتی ہے لیکن جب مشکل پڑتی ہے تو اسے اللہ یاد آتا ہے ۔مجھے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی وہ بات یاد آتی ہے کہ جس طرح کا اللہ میں نے چاہا تھا اس طرح کا اللہ تو مجھے مل گیا لیکن جس طرح اللہ مجھے دیکھنا چاہتا ہے مجھے ویسا بنا دے ۔مزید فرماتے ہیں کہ دکھ میں سکھ میں بھوک میں ،فراخی رزق میں ہر حال میں مجھے اپنا شکر ادا کرنے والوں میں سے بنا دے انسان دکھوں میں تو قدیر کا رونا روتا ہے مگر سکھ میں وہ قطعاً بھول جایا کرتا ہے کہ یہ سکھ بھی اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی کا مرہون منت ہے۔مگر وہ اس سکھ کو اپنی محنت کا صلہ سمجھتا ہے اس لیے اس کا دھیان شکر کی طرف نہیں جاتا بلکہ وہ اپنی آسودگی کو اپنا کمال سمجھ کر اپنی ہی تعریفیں لوگوں کے سامنے کیے جاتا ہے حالانکہ یہاں پر اسے یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ رزق یا کوئی مہربانی ہو تو وہ کسی انسانی کمال کی وجہ سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حاصل ہوتی ہے ایسے میں جو لوگ اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ان کی نعمتوں میں راضی کر دیتا ہے ان کی نعمتیں بڑھا دیتا ہے اورجو شخص شکوہ کرتا ہے اس سے اس کی نعمت چھین لی جاتی ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ جل شانہ کی صفت سے یَا شَکُوْرُ
سے یاد کرے گا اور اس کو یا شکور کے نام سے پکارے گا اور وہ صالحین اور عابدین میں شمار ہو جائے گا ۔جو شخص کھانا کھاتے وقت شروع میں بسم اللہ پڑھے اور ہر لقمہ کھاتے وقت یا شکور پڑھے اور ایسے ہی زندگی بسر کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ اس شخص سے راضی ہو جائے گا اس کے رزق میں اضافہ ہو گا اور مالی طورپر کبھی تنگی نہ ہو گی۔

مزید پڑھیں: ہچکی کا روحانی علاج
۔۔
ْ پیر ابو نعمان رضوی سیفی فی سبیل للہ روحانی رہ نمائی کرتے اور دینی علوم کی تدریس کرتے ہیں ۔ان سے اس ای میل پررابطہ کیا جاسکتا ہے۔peerabunauman@gmail.com