” اسلام لانے کے لئے کشتی لڑنے کی دعوت“ رسول اللہ ﷺ نے عرب دنیاکے نامی گرامی پہلوان باپ بیٹے کو کتنی بار چت کیا؟ جان کرآپ بھی بے اختیارسبحان اللہ کہ اٹھیں گے

روشن کرنیں

رسول کریم ﷺ کی رحم دلی اورنرمی و شفقت کے بے پناہ واقعات آپ نے سنے ہوں گے لیکن یہ بھی جان لیجئے کہ اللہ کے محبوب نبیﷺ کی شجاعت و بہادری کا چرچا بھی عام تھا ۔آپﷺ نے عرب کے مشہور باپ بیٹے کو پانچ بار کشتی میں چت کیا تھا ۔رکانہ نامی اس پہلوان کی جسمانی طاقت کے بارے کہا جاتا تھا کہ وہ اکیلا دوسو آدمیوں کا مقابلہ کرکے انہیں پچھاڑ سکتا تھا۔سنن ترمذی میں بیان کیا جاتا ہے ”ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے کسی کوہستانی علاقہ سے گزررہے تھے کہ رکانہ سے ملاقات ہوگئی۔سرور عالمﷺ کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ جو شخص بھی ملاقات کرتا حضورﷺ اس کو اسلام قبول کرنے کی دعوت ضروردیتے۔چنانچہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ کوبھی دعوت دی ”اے رکانہ تم بت پرستی سے توبہ کرو اوراللہ تعالیٰ جو وحدہ لاشریک ہے اس پر ایمان لے آﺅ“
اس نے کہا”میں ایک شرط پر آپﷺ کی اس دعوت کو قبول کرنے کو تیار ہوں، اگرآپ ﷺ مجھے پچھاڑدیں تو میں ایمان لے آﺅں گا“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کے دن اکثر فاقہ کشی سے گزرتے تھے۔کئی کئی ماہ تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کاشانہ رحمت میں چولہے میں آگ تک نہیں جلائی جاتی تھی، کھجور کا ایک دانہ منہ میں ڈال کر پانی پی لیا اورشب وروز گزارلئے ، رکانہ توہر روز معلوم نہیں کتنی مقدار گوشت گھی اوردودھ کی استعمال کرتا ہوگا۔
سرکارﷺنے رکانہ پہلوان کی اس شرط کو قبول کیا، فرمایا” اے رکانہ! اگر تم اس شرط پر ایمان لانے کا وعدہ کرتے ہوتو میں وہ شرط پوری کرنے کو تیار ہوں“
حضور اکرم ﷺتیار ہو گئے اور اس سے کشتی لڑ کر اس کو پچھاڑ دیا۔وہ اس شکست پر حیران تھا ۔ دوبارہ کشتی لڑنے کی دعوت دی ۔سرکار دوجہاںﷺ نے دوسری مرتبہ بھی اپنی پیغمبرانہ طاقت سے اس کو اس زور کے ساتھ زمین پر پٹخ دیا کہ وہ دیر تک اٹھ نہ سکا اور حیران ہو کر کہنے لگا ” اے محمد ﷺ خدا کی قسم ! آپ کی عجیب شان ہے کہ آج تک عرب کا کوئی پہلوان میری پیٹھ زمین پر نہیں لگا سکا مگر آپﷺنے مجھے دو مرتبہ زمین پر پچھاڑ دیا“ مو ¿رخین کا قول ہے کہ رکانہ فوراً ہی مسلمان ہو گیا مگر بعض مو ¿رخین نے لکھا ہے کہ رکانہ نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا۔
باپ کی شکست کے بعد اس کا بیٹا یزید بن رکانہ بھی جو کہ مانا ہوا پہلوان تھاوہ تین سو بکریاں لے کر بارگاہ نبوت ﷺ میں حاضر ہوا اور کہا ” اے محمد ﷺ آپ مجھ سے بھی کشتی لڑیئے۔سرکارﷺ نے تبسم فرمایا”اے ابن رکانہ اگر میں نے تمہیں پچھاڑ دیا تو تم کتنی بکریاں مجھے انعام میں دو گے“
اس نے کہا ” ایک سو بکریاں میں آپ کو دے دوں گا“
حضور ﷺ تیار ہو گئے اور اس سے ہاتھ ملاتے ہی اس کو زمین پر پٹخ کر چت کردیا اور وہ حیرت سے آپﷺ کاچہرہ مبارک دیکھتا رہ گیا۔تاہم اس نے پھر دوبارہ کشتی لڑنے کے لئے چیلنج دیا توآپﷺ نے دوسری مرتبہ بھی اس کی پیٹھ زمین پر لگا دی اس نے پھر ایک سو بکریاں آپ کو دے دیں۔ پھر تیسری بار اس نے کشتی کے لئے للکارا تو اللہ کے نبیﷺ نے اسکو تیسری بار بھی چت کردیا تو اس نے باقی ایک سو بکریا ں سرکارﷺ کی خدمت میں پیش کر دیںاور کہنے لگا ” اے محمدﷺسارا عرب گواہ ہے کہ آج تک کوئی پہلوان مجھ پر غالب نہیں آ سکا، مگر آپﷺ نے تین بار جس طرح مجھے کشتی میں پچھاڑا ہے اس سے میرا دل مان گیا کہ یقیناً آپ ﷺخدا عزوجل کے نبی ہیں“ یہ کہا اور کلمہ پڑھ کر دامن اسلام میں آ گیا۔ حضورﷺاس کے مسلمان ہو جانے سے بے حد خوش ہوئے اور اس کی تین سو بکریاں واپس کر دیں۔