سانگھڑ: ہندو خاندان نے بیٹی کو قبول اسلام اور مسلمان نوجوان سے شادی کی اجازت دیدی

سانگھڑ

 سانگھڑ (آئی این پی )سانگھڑ میں ہندو خاندان نے اپنی بیٹی کو اسلام قبول کرکے مسلمان سے شادی کرنے کی نہ صرف اجازت دی بلکہ اس کے نکاح میں بھی شرکت کی۔

لڑکی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر گوردھن کھتری اور محمد یوسف قائم خانی سانگھڑ سے 70 کلو میٹر دور کھپرو کے قریب واقع ہاتھونگو ٹاؤن میں پڑوسی تھے اور دونوں خاندانوں کے درمیان دہائیوں سے دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ جب ڈاکٹر گوردھن کو معلوم ہوا کہ ان کی بیٹی دوست کے بیٹے بلال قائم خانی کو پسند کرتی ہے تو انہوں نے اس فیصلے کے خلاف مزاحمت کرنے کے بجائے اپنی بیٹی کو مذہب تبدیل کرکے بلال سے شادی کرنے کی اجازت دے دی۔

دو نوجوان لڑکیوں کو قتل کرکے لاشیں بیچ دی گئیں تاکہ۔۔۔  لاشوں کا ایسا استعمال جس کے بارے میں آپ نے کبھی سنا ہوگا نہ ایسا ہوتا دیکھا ہوگا

انہوں نے لڑکے کے گھر والوں کو میرپور خاص میں اپنے گھر مدعو کیا اور وہیں دونوں کا نکاح طے کردیا گیا۔ لڑکی نے مولوی عبدالغفار سے اسلام قبول کیا اور بعد ازاں انہوں نے ہی نکاح بھی پڑھایا جس میں لڑکے اور لڑکی کے خاندان کے ارکان بھی شریک تھے۔ لڑکے کے والد محمد یوسف کا کہنا ہے کہ وہ ڈاکٹر گوردھن کے وسعت قلب کے معترف ہیں اور تصدیق کی کہ لڑکی نے اپنی اور گھر والوں کی مرضی سے اسلام قبول کیا اور پھر دونوں خاندانوں کی رضامندی سے نکاح ہوا۔