صرف چند سیکنڈز میں کسی بھی موبائل فون کا لاک کھولنے کا آسان ترین طریقہ سامنے آگیا، چوروں کے وارے نیارے ہوگئے

سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک)موبائل فون صارفین کو ہیکروں اور سائبر کرمنلز کی جانب سے لاحق خطرات پہلے بھی کچھ کم نہ تھے کہ اب تھرمل کیمرے کی مدد سے پن کوڈ چوری کرنے کی نئی تکنیک سامنے آ گئی ہے۔
دی مرر کی رپورٹ کے مطابق ہیکر موبائل فون صارفین کے پن کوڈ تھرمل کیمرے کی مدد سے سیکنڈوں میں چوری کرسکتے ہیں، اور اینڈرائیڈ صارفین کے لئے یہ خطرہ سب سے زیادہ ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ موبائل فون کی سکرین پر آپ کے ہاتھوں کے لمس کی وجہ سے حرارت کے نشانات موجود رہتے ہیں، جنہیں ریکارڈ کرکے تھرمل کیمرہ پن کوڈ کی تصویر تخلیق کر سکتا ہے۔ یہ پریشان کن انکشاف سٹٹگارٹ یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے حال ہی میں پیش کئے گئے ایک مقالے میں کیا ہے۔

ریلیز سے پہلے ہی گلیکسی S8 کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈی پر لیک ہو گئیں، سوشل میڈیا پر دھوم مچ گئی، دلکش ڈیزائن اور بہترین سکرین نے ایپل کو بھی پریشان کر دیا
تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ موبائل فون کی سکرین پر پن کوڈ ٹائپ کرنے کے نصف منٹ بعد تک بھی تھرمل کیمرہ ٹائپ کئے گئے اعداد کا پتہ چلاسکتا ہے۔ تھرمل کیمرہ جب سکرین کی تصویر لیتا ہے تو اس کے مختلف حصوں پر درجہ حرارت کے فرق کو نوٹ کرسکتا ہے۔ جب آپ چار اعداد پر مشتمل پن کوڈ ٹائپ کرتے ہیں تو کیمرہ بخوبی اندازہ لگاسکتا ہے کہ آپ نے سکرین کے کس حصے کو چھوا ہے۔ یہ تکنیک پن کوڈ ہی نہیں بلکہ سکیورٹی کوڈ کے طور پر استعمال ہونے والے پیٹرن کا بھی پتہ چلاسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پن کوڈ لگانے کے 15 سیکنڈ کے دوران لی گئی تھرمل تصویر کی مدد سے پن کوڈ کامیابی سے چوری ہونے کا تناسب 90 فیصد تک ہوتا ہے۔ پن کوڈ کی چوری کے لئے تھرمل کیمرے کا استعمال کرنے والے چور کو کچھ زیادہ مشکل کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔ سکرین کے سامنے کیمرہ لاکر بس ایک تھرمل تصویر بنانا ہوتی ہے اور پن کوڈ چوری ہوجاتا ہے۔ تاحال اس خطرے کا کوئی توڑ سامنے نہیں آ سکا۔