چار سال سے سربمہر ادویات ساز فیکٹری میں رات کے وقت بچوں اور خواتین کے ذریعے غیر رجسٹرڈ ادویات کی تیاری پکڑی گئی

شیخوپورہ

مریدکے، شیخوپورہ(آن لائن)صوبائی وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر کی قیادت میں محکمہ صحت کے حکام نے چار سال سے سربمہر ادویات ساز فیکٹری میں چھاپہ مار کر رات کے وقت بچوں اور خواتین کے ذریعے غیر رجسٹرڈ ادویات کی تیاری پکڑ لی۔ فیکٹری سپروائزر سمیت دو افراد کو گرفتار کرکے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ محکمہ صحت کی صوبائی اور ضلعی ٹاسک فورس نے تیار شدہ ادویات قبضہ میں لے لیں۔

تفصیل کے مطابق محکمہ صحت ضلع شیخوپورہ کی ٹاسک فورس نے اعلی حکام کو اطلاع دی کہ شیخوپورہ روڈ پر ڈرگ فارم کے نا م سے کاروبار کرنے والی ادویہ ساز فیکٹری چار سال قبل سربمہر ہونے کے با وجود رات کے وقت خفیہ طور پر غیر قانونی طریقے سے ادویات تیار کر رہی ہے جس پر صوبائی وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے سی ای او ہیلتھ اتھارٹی ضلع شیخوپورہ ڈاکٹر جاوید گورایا، اسسٹنٹ کمشنر شیخوپورہ، صوبائی اور ضلعی ٹاسک فورس کے اراکین ڈرگ انسپکٹر بلال یاسین اور ڈرگ انسپکٹر عمران انور کے ہمراہ رات کے وقت فیکٹری پر چھاپہ مارا تو فیکٹر ی مالکان نے2013میں سر بمہر کی جانی والی فیکٹری کو غیر قانونی طور پر کھول کر اس کے اندر خواتین اور بچوں کے ذریعے غیر رجسٹرڈ گولیاں اور پیرا سیٹا مول شربت وغیرہ تیار کروا کر گاڑیوں پر لوڈ کرایا جا رہا تھا۔ چھاپہ مار ٹیم نے تیار شدید ادویات کو قبضہ میں لے کر سپروائزر سمیت دو افراد کو گرفتار کر ادیا جبکہ مالکان کے خلاف مقدمہ درج کر ا دیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر صحت کے مطابق ہم نے فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں کو کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے بتایا کہ فیکٹری کو سربمہر کرنے کے بعد یہاں تیار کی جانے والی ادویات کو بھی ان رجسٹرڈ کر دیا گیا تھا جس کے با وجود انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر ادویات کی تیاری کا سلسلہ جاری رکھا ۔ فیکٹری سے برآمد ہونے والی ادویات پر تاریخ اجراء کی فروری 2013لکھا جا رہا تھا۔ صوبائی وزیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خادم اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کا پنجاب بھر میں جعلی ادوایات بنانے والوں کے خلاف سخت اورآہنی ہاتھوں سے نبٹنے کا عزم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پنجاب ڈرگ ایکٹ کے تحت کسی کو بھی انسانی جانوں سے کھیلنے کا لائسنس نہیں دے سکتی ۔ پنجاب بھر میں بھر پور کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے جس میں بہت سی ایسی جعلی فیکٹریوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور ان کے مالکان جیلوں میں قید ہیں ۔ صوبائی وزیر صحت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے بتایا کہ اس فیکٹری میں بنائی جانے والی تمام ادوایات کو مارکیٹ سے اٹھا لیا جائے گا اور انہوں نے فیکٹری کے خلاف کاروائی کرنے والی ٹیم کو شاباش بھی دی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سارے عمل میں میڈیا کا احسن کردار ہے اور میں یقین رکھتا ہوں ہمارا میڈیااور عوام دونوں کو اب شعور آگیا ہے اور وہ کسی بھی علاقے ،محلے، گلی میں ایسی کو ئی بھی جعل ساز فیکٹری ، کارخانہ کے بارے میں متعلقہ حکام کو بتانے میں ہرگز نہیں گھبراتے ہیں ۔ آخر میں صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ صوبہ بھر میں عطائی ڈاکٹروں اور حکیموں کے خلاف بھی سخت کا روائی عمل میں لائی جارہی ہے اور میں عوام اور میڈیا سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنے علاقوں میں ان کالی بھیڑوں کے بارے میں حکومت کی مددفرمائیں تا کہ صوبہ میں عوام کو معیاری اور صحت مند انہ ادویات اور علاج معالجے کی سہولت کو یقینی بنایا جا سکے ۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق فیکٹری میں غیر قانونی ادویات کی تیاری کے ساتھ ساتھ چائلڈ لیبر ایکٹ کی بھی خلاف ورزی کی جا ری تھی۔