کرکٹ کے معاملات کیلئے نان کرکٹرز کا قبضہ کیوں: عبدالقادر


اسلام آباد (آن لائن ) سابق کرکٹر عبدالقاد ر نے کہا ہے کہ ایک پی ایس ایل کرا کر ہمارے حکمران ملک کو محفوظ ملک قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں ، ملک میں اصل مسئلہ پی ایس ایل کرانے کا نہیں بلکہ انٹرنیشنل کی کرکٹ کی بحالی کا ہے ، ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ تب بحال ہوگا جب دوسرے ممالک کی ٹیمیں یہاں ونڈے اور ٹیسٹ کھیلنے آئیں گی ، ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانا ناگزیر ہے ، تاکہ بین الاقوامی کرکٹرز کو پاکستان آنے میں کوئی ہچکچا ہٹ محسوس نہ ہو ، ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ میں ایک بہت چھوٹے گھرانے میں پیدا ہوا ہوں جہاں ایک وقت کا کھانا کھاتا تھا دوسرے کا پتہ نہیں ہوتا تھا کہ ملے گا یا نہیں ، لیکن ہماری تربیت اور اثاثہ یہی رہا ہے کہ ہمشیہ اخلاص سے چلو ،میرے باپ دادا نے کھبی کرکٹ نہیں کھیلی لیکن اللہ پاک نے احسان فرمایا اور مجھ میں کرکٹ کی صلاحیت رکھ دی غریب کا بچپن کیا ہوتا ہے وہ مٹی سے کھیلتے کھیلتے جوان ہو جاتا ہے ، ایک سوال کے جواب میں عبدالقادر نے کہا کہ میں دلیل سے بات کرتا ہوں میرا سوال ہے یہ ہے کہ کرکٹ کے معاملات چلانے کیلے نان کرکٹرز کا قبضہ کیوں ہے ، ڈاکٹر کا شعبہ ہے تو اسے ڈاکٹر ہی بہتر چلا سکتے ہیں ،فوج پر اگر کوئی سویلین بٹھا دو تو وہ ترقی نہیں کرے گی ،ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ سب سے پہلے اس ملک میں امن او امان کی صورتحال کو بہتربنانا ہوگا۔
، سکیورٹی اداروں اور حکومت کو ملکر پاکستان کو محفوظ بنانا چاہیے تاکہ غیر ملکی کھلاڑی یہاں آنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں ۔، انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران ایک پی ایس ایل کرا کر ملک کو محفوظ قرار دے رہے ہیں ، اصل مسئلہ پی ایس ایل کرانے کا نہیں بلکہ ملک میں ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی کا ہے ۔