مقامی صحافی کے قتل کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کرلی

صوابی

اسلام آباد /صوابی(صباح نیوز) صوابی میں مقامی صحافی کو قتل کر نے کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کرلی۔

ٹی ٹی پی کے ترجمان کے مطابق مقتول کا تعلق پاکستانی خفیہ ادارے سے تھا۔صوابی کے ضلعی پولیس سربراہ شعیب اشرف نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقامی صحافی ہارون خان گھر کے اندر داخل ہو رہے تھے کہ اس دوران گھات لگائے مسلح افراد نے ان پر خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے وہ موقعے ہی پر جاںبحق ہو گئے۔ مقتول صحافی کے بھائی منظور علی کی طرف سے صوابی صدر تھانے میں واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جس میں مقتول کے سوتیلے بھائیوں پر قتل کا دعوی دائر کیا گیا ہے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے ہر زاویے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ملک بھر کی صحافتی تنظیموں نے صوابی کے صحافی ہارون خان کے قتل پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور پولیس سربراہ سے اس واقعے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔خیبر پختونخوا میں صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم خیبر یونین آف جرنلسٹس نے ایک بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقتول صحافی کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے انھیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔