سری لنکا کی ٹیم پر حملے کے وقت پنجاب میں گورنرراج تھا ، سلمان تاثیر گورنر تھے


تجزیہ: قدرت اللہ چودھری
ٹی وی چینلوں پر ریٹنگ کی جو دوڑ لگی ہے اس میں الزام تراشی کا ایک طوفان بدتمیزی تو برپا ہے ہی، حقائق کا قتل عام اتنی بیدردی سے ہو رہا ہے کہ حیرت ہوتی ہے، بسا اوقات تو ایسے لگتا ہے کہ لاعلمی اور جہالت کے ڈانڈے آپس میں اتنے مل جاتے ہیں کہ معلوم ہی نہیں ہوتاکہ لاعلمی کہاں ختم ہوئی اور جہالت کا آغاز کہاں سے ہوگیا۔ جہاں ٹی وی اینکر اپنے مخالفوں کو زچ کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہاں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مخالفین کے کھاتے میں کردہ گناہ ضرور ڈالے جائیں لیکن اگر کسی مخالف کو اس جرم کا بھی قصور وار ٹھہرا دیا جائے جو اس بے چارے سے سرزد ہی نہیں ہوا تو اسے کیا کہا جائے گا؟ لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کرانے کی تجویز تو کافی عرصے سے زیر غور تھی جب سپر لیگ کے میچ دبئی میں شروع ہوئے تو بھی کہا گیا تھا کہ فائنل لاہور میں کرانے کی کوشش کی جائے گی اس وقت تک یہ قطعی طور پر طے نہیں تھا کہ فائنل لاہور میں ہی ہوسکے گا تاہم کرکٹ کے شائقین یہ مطالبہ بڑی شدومد سے کر رہے تھے کہ فائنل لاہور میں ہونا چاہئے۔ نجم سیٹھی کا بھی خیال تھا کہ اس بات کا انحصار حالات پر ہے، حالات نے اجازت دی تو عوام کے اس مطالبے کو پذیرائی بخشی جائے گی۔ یہ بحث ابھی جاری تھی کہ لاہور میں خودکش دھماکہ ہوگیا تو فوری طور پر دھیان اس طرف منتقل ہوگئے کہ کہیں یہ خودکش دھماکہ پی ایس ایل کے فائنل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش تو نہیں۔ ایک رائے یہ بھی سامنے آئی کہ اگر دھماکے کا مقصد فائنل کو سبوتاژ کرنا ہے تو اب بہت ضروری ہوگیا ہے کہ فائنل لاہور ہی میں کرایا جائے اور مخالفین کو یہ پیغام دیا جائے کہ دھماکوں میں ہونے والے قیمتی جانی نقصان کے باوجود اہل لاہور ان سے خوفزدہ نہیں ہیں اور وہ دہشت گردی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی 21 فروری کو واضح بیان دیا کہ فائنل لاہور ہی میں ہونا چاہئے۔ ان کی یہ رائے اس وقت سامنے آئی جب یہ بحث جاری تھی کہ فائنل دبئی میں ہو یا لاہور میں اور حتمی فیصلہ باقی تھا، اس دوران دہشت گردی کے واقعات پشاور، سیہون شریف اور دوسرے مقامات پر بھی ہوگئے خصوصاً سیہون کے واقعے نے تو دہلا کر رکھ دیا تاہم مزار پر دھمال کے معمول میں فرق نہیں آنے دیا گیا۔ اس طرح بھی یہ پیغام دیا گیا کہ جانی نقصان کے باوجود عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے، اس دوران بہت کم لوگوں نے میچ کے لاہور میں انعقاد کی مخالفت کی البتہ جب پیر کے روز اس فیصلے کا اعلان ہوگیا تو عمران خان کا یہ موقف سامنے آیا کہ لاہور میں فائنل کا انعقاد پاگل پن ہے۔ جاوید میاں داد سمیت کرکٹ کے بعض دوسرے کھلاڑیوں کی بھی یہ رائے سامنے آئی کہ فائنل لاہور میں نہیں ہونا چاہئے۔ تحریک انصاف کے بعض خواتین و حضرات بھی اپنے چیئرمین کی حمایت میں بولے، اسی دوران میچ کراچی میں کرائے جانے کی تجویز بھی سامنے آگئی حالانکہ اس تمام عرصے میں کسی نے نہیں کہا تھا کہ فائنل کراچی میں کرالیا جائے صرف دو مقامات کے نام سامنے تھے دبئی یا لاہور۔ اپنی رائے کے اظہار کا حق ہر کسی کو ہے، وہ میڈیا پر چاہے جیسے دلائل دے، الٹے سیدھے جو نتائج چاہے اخذ کرے لیکن اپنے مؤقف کے حق میں اگر کوئی واقعہ بیان کیا جائے تو اس کے بنیادی حقائق تو درست ہونے چاہئیں۔ ایک بڑے ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں ایئر فورس سے ریٹائر ہونے والے ایک افسر جب لاہور میں فائنل کے انعقاد کی مخالف کر رہے تھے تو اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے یہ تک کہہ گئے کہ جب لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر حملہ ہوا تو انہی لوگوں کی حکومت تھی مطلب یہ کہ شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے۔ اب معلوم نہیں ان صاحب نے یہ بات اپنے مؤقف کو مضبوط کرنے کیلئے کہی، شہباز شریف کی مذمت کیلئے کہی یا عمران خان کی حمایت کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالنے کیلئے، ایئر فورس کے یہ لائق احترام ریٹائرڈ افسر اکثر و بیشتر ٹی وی ٹاک شوز میں تشریف لاتے ہیں اور اپنی دانش سے سننے اور دیکھنے والوں کو مستفید کرتے ہیں۔ کئی لوگوں کو اُن کی دانش پر سر دھنتے دیکھا، انہیں بڑی تعداد میں لوگ سنتے اور دیکھتے ہوں گے ان میں سے زیادہ تر نے نوٹ کیا ہوگا کہ پروگرام کے قوی الجثہ اینکر نے بھی یہ بات سن کر کسی حیرت کا اظہار نہیں کیا گویا وہ مطمئن تھے کہ دانشور ریٹائرڈ افسر جو کچھ فرما رہے ہیں درست فرما رہے ہیں ورنہ وہ دوران پروگرام اصلاح کرسکتے تھے یا پروگرام کے بعد اس کی تصحیح کردیتے کیونکہ لاہور میں جب سری لنکا کی ٹیم پر حملہ ہوا اس وقت پنجاب میں گورنر راج لگا ہوا تھا اور سلمان تاثیر پنجاب کے گورنر کے منصب پر فائز تھے۔ وفاق میں یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے اور آصف علی زرداری صدر تھے، عین ممکن ہے جوشِ مخالفت میں اینکر کی نظر بھی ان حقائق کی جانب نہ گئی ہو یا پھر انہوں نے اس بات کو دانستہ نظرانداز کردیا ہو کہ اس طرح یہ بات ثابت کرنا مقصود تھا کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کرانے کا فیصلہ درست نہیں ہے۔ حقائق اگر اس کی تصدیق نہیں کر رہے تھے تو بھی اس پر تیلی رے تیلی تیرے سر پر کولہو کا محاورہ تو صادق آتا ہے۔
گورنر راج