پی ایس ایل فائنل،اثرات شروع،’’برطانوی بہادر‘‘ بھگوڑے!

تجزیہ:چودھری خادم حسین:

پی ایس ایل کا فائنل میچ لاہور منتقل کرنے کے اثرات واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ یہاں سیکیورٹی ایجنسیوں نے بہت ہی بہتر انداز میں حفاظتی انتظامات شروع کئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی چیکنگ کا جو سلسلہ شروع کیا اس میں بھی تیزی آ گئی ہے، نتیجے میں مشکوک افراد حراست میں لے کر تحقیق کا سلسلہ بھی وسیع ہو گیا ہے۔ اب تک سینکڑوں افراد کے کوائف کی تصدیق کی گئی اور بیسیوں افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، ان میں بعض افراد سہولت کار نکلے جو مختلف نوعیت کا تعاون کر رہے تھے، اِس دوران اسلحہ کی برآمدگی کا بھی سلسلہ شروع کیا گیا ہے، ہر ایک معاملے میں انٹیلی جنس ایجنسیاں بھرپور تعاون کر رہی ہیں۔اِدھر یہ کام ہو رہا ہے تو اُدھر دبئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ’’برطانوی گوروں‘‘ نے سب سے پہلے ہتھیار ڈالے ہیں اور براڈ کاسٹنگ سے متعلق تکنیک کاروں کے علاوہ برطانوی کمنٹیٹر بھی لندن روانہ ہو رہے ہیں اور بعض چلے گئے، جہاں تک بعض کھلاڑیوں اور آفیشلز کا تعلق ہے تو وہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے شیڈول کی وجہ سے پہلے ہی اطلاع دے چکے تھے تاہم براڈ کاسٹروں نے اچانک فیصلہ کیا کہ لاہور نہ آنا پڑے، ان کی جگہ متبادل انتظام کیا گیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان اور پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی کے مطابق سب متبادل موجود ہیں اور فائنل میں آنے والی ٹیموں کے چار چار کھلاڑی غیر ملکی ہوں گے تاکہ کھیل میں جوش برقرار رہے۔ اس سلسلے میں ہم نے گزارش کی تھی کہ آ جائیں تو بہتر اور اگر نہیں آتے تو پاکستانی نوجوانوں کے ساتھ کھیل لینا چاہئے۔ اگرچہ مایوسی کی کوئی بات نہیں جو انکار کریں یا کرا رہے ہیں ان کو شاید موت پر یقین نہیں کہ بقول حضرت علیؓ ’’موت تو خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے‘‘ ہمیں یقین ہے کہ یہ کوشش ضرور کامیاب ہو گی اور عوامی جذبہ دہشت گردوں پر اپنی دہشت ضرور طاری کرے گا۔ اِس سلسلے میں زیادہ توقعات ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں ہی سے وابستہ ہیں، ممکن ہے شین واٹسن جیسا کوئی کھلاڑی ہمت کر کے اور سنگاکارا سمیت جے وردھنے بھی آئے۔ اگرچہ یہ دونوں سری لنکن ٹیم کا حصہ تھے جس پر حملہ ہوا تھا۔
ایک خبر کے مطابق پولیس نے ’’ہوٹل آئی‘‘ کے تعاون سے سی سی ٹی وی سے ایک ہزار اور بہتر مشکوک لوگوں کی شناخت مکمل کر لی ہے، جبکہ فیصل چوک مال روڈ پر خود کش حملے کے سہولت کار کی نشاندہی ’’سیف سٹی پروگرام‘‘ کے فعال کیمروں سے ہوئی تھی۔ اس پروگرام کے تحت پورے لاہور میں 44ہزار کیمرے لگائے جانا مقصود ہیں اور فیصل چوک دھماکے کے بعد کام بھی تیزی سے شروع ہوا تاہم اب پھر کچھ سست ہوگیا ہے۔ یوں بھی اس کام کی تکمیل کے لئے کھدائی سے قباحت بھی سامنے آئی کہ کھدائی کے بعد بھرائی اور بحالی نہیں ہو رہی اور شہری اپنی مدد آپ کے تحت مٹی دباتے ہیں۔ یوں شہر کی فضا میں پھر سے گرد بھر گئی ہے، جو حالیہ بارشوں سے صاف ہوئی تھی۔معلوم نہیں نگرانی کرنے والوں کا معیار کیا ہے کہ کھدائی کر کے پائپ ڈالے جاتے ہیں،لیکن بحالی کا کام نہیں ہوتا،اب اس منصوبے پر کام زیادہ ہو چکا اِس لئے کسی کو اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔ اگرچہ وائی فائی نظام سے بھی استفادہ کیا جا سکتا تھا۔
ادھر یہ سلسلہ جاری، عوامی جوش اور حمایت موجود ہے ادھر محترم وزیر خزانہ اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں اور ان کی طرف سے پٹرول کے نرخ ایک روپیہ71پیسے اور ڈیزل کے ایک روپیہ 52پیسے فی لیٹر بڑھا دیئے گئے ہیں۔یوں دوماہ کے اندر چار مرتبہ اضافہ کر کے آٹھ روپے فی لیٹر سے زیادہ قیمت بڑھائی گئی اس بار عوام چیخ اُٹھے کہ پندرہ روزہ نظام لایا ہی اِس لئے گیا تھا کہ جلد نرخ بڑھائے جائیں اور ایک ہی بار8روپے فی لیٹر اضافہ کی بجائے پندرہ پندرہ روز بعد تھوڑا تھوڑا اضافہ کر کے یہ ہدف پورا کیا جائے تو احتجاج نہیں ہو گا۔ یہ توقع ایک حدتک پوری رہی،لیکن اِس بار عوام نے احتجاج کیا،لیکن ان کا رخ اپوزیشن کی طرف ہے، وہ پوچھتے ہیں اپوزیشن اس کا نوٹس کیوں نہیں لیتی؟ اکثر حضرات نے پوچھا کہ کیا عمران خان اور اُن کی تحریک انصاف کے نزدیک مہگائی کوئی مسئلہ نہیں،کیوں نہیں، مہنگائی کے حوالے سے تحریک چلائی جاتی؟ آئندہ یہ مسئلہ یقیناًایشو بنے گا کہ عوام مہنگائی سے بہت تنگ ہیں، جس شے کی جو قیمت بڑھتی ہے وہ واپس نہیں ہوتی، اب تو فروٹ عام آدمی کی قوتِ خرید میں شامل ہی نہیں!حکومت کو موقع ملا ہوا ہے وہ دہشت گردی کے انسداد کے حوالے سے قوم کو سب کچھ بھلا دینے کی حکمت عملی پر عمل پیرا اور حزب اختلاف بھی جال میں پھنس کر انہی ایشوز پر احتجاج کر رہی ہے۔ عوام کے حقیقی مسائل سے کسی کو کوئی واسطہ یا تعلق نہیں۔