لاہوریو ں کا جوش جنوں ’’اگر خواہی حیات اندر خطرزی ‘‘ کی عملی تصویر

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری
عمران خان نے تو لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل کو پاگل پن قرار دے دیا تھا، یہ الگ بات ہے کہ 21 فروری کو وہ خود فائنل لاہور میں کرانے کا مطالبہ کرچکے تھے لیکن اس پاگل پن کی رو میں تو اب سارا لاہور ہی بہہ گیا ہے۔ دیکھئے ناں جو لوگ صبح چھ بجے ٹکٹ خریدنے کے لئے لائنوں میں لگ گئے اور جب انہیں سارے ٹکٹ فروخت ہونے کا مژدہ سنایا گیا تو بھی انہیں زیادہ مایوسی نہیں ہوئی، وہ خوش تھے کہ اتنے عرصے کے بعد لاہور میں کرکٹ کا ایونٹ ہو رہا ہے۔ چند منٹ میں سارے ٹکٹ فروخت ہوگئے، سستے بھی اور مہنگے بھی۔ آن لائن بھی تمام ٹکٹ بک گئے، 16 کروڑ کے ٹکٹوں کی چند منٹ میں فروخت کو آپ معمول کی سرگرمی تو نہیں کہہ سکتے۔ اس میں کہیں نہ کہیں جنون کے آثار تو ہیں۔ لیگ کا فائنل کوئی انٹرنیشنل میچ بھی نہیں ہے، یہ بھی یقینی نہیں کہ غیر ملکی کھلاڑی آئیں گے یا نہیں۔ لیکن 16 کروڑ روپے کے ٹکٹ خریدنے والے ضرور سٹیڈیم میں موجود ہوں گے، جن لوگوں نے گھنٹوں لائن میں لگ کر اور ہزاروں روپے خرچ کرکے ٹکٹ خریدے ہیں، انہیں اتنا تو معلوم ہے کہ یہ ڈومیسٹک کھیل ہے۔ چند ایک کے سوا سارے کھلاڑی پاکستانی ہوں گے، لیکن ان کا جوش و جذبہ تو بین الاقوامی میچوں سے بھی زیادہ ہے۔ غالباً ان میں سے بہت سے وہ ہوں گے جنہوں نے عمران خان کے بیان کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ انہیں ٹکٹ خرید کر میچ دیکھنے کے لئے جانا چاہئے۔
جہاں تک سیکیورٹی کی بات ہے یہ اب جدید دور کی ضرورت ہوگئی ہے۔ ایسے علاقوں میں جہاں سیکیورٹی خدشات موجود ہوتے ہیں، سیکیورٹی سے متعلقہ معلومات کی فروخت بھی ایک کاروبار بن جاتی ہے۔ افغانستان میں جو غیر ملکی کاروبار کے لئے جاتے ہیں انہوں نے سیکیورٹی ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی ہوتی ہیں، جو انہیں پل پل کی صورت حال سے باخبر رکھتی ہیں۔ 2009ء میں ان سطور کا راقم بھی ایک وفد کے ساتھ افغان دارالحکومت میں تھا، اس روز اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ وفد کی ملاقات طے تھی کہ اچانک یہ اطلاع آئی کہ سیکیورٹی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ تمام غیر ملکی اپنی اپنی قیام گاہوں (ہوٹلوں/ مہمان خانوں وغیرہ) میں رہیں اور باہر نکلنے کا رسک نہ لیں۔ وفد کی میزبان ایجنسی کو خبردار کر دیا گیا کہ وہ اپنے مہمانوں کو ہوٹل کے اندر رہنے کی ہدایت کریں۔ لامحالہ حامد کرزئی کے ساتھ طے شدہ ملاقات بھی منسوخ کر دی گئی۔ اس کے باوجود وفد کے ایک دو ارکان نے جو حامد کرزئی سے مراسم رکھتے تھے، صدر سے رابطہ کرلیا جنہوں نے ملاقات کی اجازت دے دی۔ چنانچہ اسی وفد میں سے چند حضرات نے سیکیورٹی ایجنسیوں کی رائے کے علی الرغم ہوٹل سے باہر نکل کر ایوان صدر کا رخ کیا۔ صدر سے ملاقات کی اور خیریت سے واپس بھی آگئے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت جن خطوں میں دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی ہیں، وہاں سیکیورٹی کے نہ صرف انتظامات ہوتے ہیں بلکہ یہ ایک باقاعدہ کاروبار بن چکا ہے۔ امریکی ماہرین جو پاکستان آتے ہیں ان کے لئے بھی غیر معمولی انتظامات کئے جاتے ہیں اور انہیں محتاط رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ اس لئے اب اگر لاہور میں کرکٹ میچ کے لئے سیکیورٹی کے انتظامات کئے جا رہے ہیں تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ دہشت گرد تو مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں انہیں موقع ملتا ہے، وہ واردات کر گزرتے ہیں اور مجموعی طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ واردات وہیں ہوتی ہے جہاں سیکیورٹی میں کہیں نہ کہیں رخنہ ہو۔ لاہور میں اگر فول پروف سیکیورٹی حصار بنایا جا رہا ہے اور اس محفوظ حصار کے اندر کھلاڑیوں کو کھلایا اور تماشائیوں کو کھیل سے محظوظ ہونے اور چند گھنٹے غم جاناں اور غم دوراں کو بھلانے کے مواقع میسر آرہے ہیں تو یہ ایسا کام ہے جس کی کھل کر تحسین کی جانی چاہئے۔ یہ درست ہے کہ لاہور کے انتظامات غیر معمولی ہیں اب وہ وقت تو لد گیا جب چند پولیس والے سٹیڈیم کے اندر بے فکری سے ٹہل رہے ہوتے تھے اور لوگ اطمینان کے ساتھ سٹیڈیم کے اندر اور باہر کھیل سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے تھے، دہشت گردوں نے جو چلن اختیار کر رکھا ہے اس کا مقابلہ ضروری ہے۔ اگر ڈر کر گھر بیٹھ جایا جائے تو پھر زندگی کی گاڑی کا پہیہ رک جائے گا۔ جہاں تک خوف کے عنصر کا تعلق ہے یہ کوئی کرکٹ اور کھیل کے میدان تک تو محدود نہیں، سکولوں پر حملے ہو رہے ہیں تو کیا سکول مستقل طور پر بند کرنا ان سے بچاؤ کا کوئی حل ہے؟ پارکوں میں حملے ہو رہے ہیں تو کیا پارکوں کو تالے لگا دئے جائیں، ہسپتالوں میں حملے ہو رہے ہیں تو کیا ڈاکٹروں اور مریضوں کو گھر بھیج دیا جائے۔ ریل گاڑیوں کے حادثے ہوتے ہیں تو کیا ریل کی پٹڑیاں اکھاڑ دی جائیں، ٹریفک کے حادثات سے ڈر کر لوگ اپنی گاڑیوں کے ٹائروں کی ہوا نکال کر گھر میں تو نہیں بیٹھ گئے۔ ڈیڑھ کروڑ سے زائد کی آبادی والے شہر میں اگر دہشت گردوں نے خودکش دھماکہ کر دیا تو کیا سب بوڑھے، جوان اور بچے دبک کر گھروں میں بیٹھ رہیں اور ہر قسم کی سرگرمیاں معطل کرکے یہ انتظار کرنے لگیں کہ جب حالات بہتر ہوں گے تو گھروں سے نکلیں گے، ایسا دنیا میں کبھی ہوا ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔ زندگی خطرات سے کھیلنے کا نام ہے۔ ’’اگر خواہی حیات اندر خطرزی‘‘ (اگر تجھے زندگی کی آرزو ہے تو خطرات کے اندر جینا سیکھ) اس لئے سیکیورٹی کے انتظامات کرکے کھیل کا انعقاد کوئی غلط فیصلہ نہیں ہے۔ سیکیورٹی تو دہشت گردوں کا جواب ہے، رات اندھیری ہو تو چراغ جلانا دانش مندی کی علامت ہے۔ روشنیاں گل کرکے بیٹھ رہنا تو کوئی زندگی نہیں ہے۔
16کروڑ کے ٹکٹ خرید کر لاہوریوں نے ثابت کر دیا کہ وہ خطرات کو اہمیت نہیں دیتے، خطرات کا دانش مندی سے مقابلہ کرنا حوصلے کی علامت ہے اور خطرات سے دبک جانا بزدلی ہے۔
پی سی بی کے سربراہ شہریار خان نے بالکل واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ فائنل لاہور میں ہونا ہے، جو کھلاڑی نہیں آنا چاہتے وہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں۔ اتنے بڑے ایونٹ کے حق میں اگر جوش جنون امڈ کر آرہا ہے تو لامحالہ اس کے خلاف رائے دینے والے بھی ہیں۔ انہیں جو خطرات لاحق نظر آتے ہیں وہ ان کا اظہار کرکے بھی اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ ہر قسم کی آرا کو سامنے رکھ کر ایسے سیکیورٹی انتظامات کی ضرورت ہے کہ کسی کو شرارت کا موقع نہ ملے۔