آصف علی زرداری، کراچی کے بعد اسلام آباد، اے پی سی کی صدارت کریں گے

تجزیہ:چودھری خادم حسین:

سابق صدرِ مملکت اور پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر آصف علی زرداری اسلام آباد میں ہیں، یہاں بھی وہ کراچی کی طرح ملاقاتیں کر رہے ہیں، تاہم کسی شخصیت کی پیپلزپارٹی میں شمولیت کی کوئی اطلاع نہیں۔البتہ وہ پیپلزپارٹی کی طرف سے فوجی عدالتوں کے مسئلے پر بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس کی صدارت ضرور کریں گے جس کا رنگ ایک حد تک پھیکا پڑ گیا ہے اور اگر وزیراعظم نے تھوڑی بھی توجہ دی تو یہ کانفرنس مزید بے معنی ہو کر رہ جائے گی کہ ایم کیو ایم کو ملاقات کے لئے بُلا لیا جائے،ان کے تحفظات سُن کر ان کی تسلی کرا دی جائے تو متحدہ بھی فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع پر صاد کر دے گی۔ حکمران جماعت کو ترمیمی مسودہ بل کو سینیٹ سے منظور کرانے کے لئے جو دو تہائی اکثریت چاہئے۔ وہ اس کے پاس نہیں ہے اور اس کے لئے حکومت کو پیپلزپارٹی سمیت متحدہ کی حمایت چاہئے،کیونکہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں طے طے پا چکا ہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت دو سال کے لئے بڑھائی جائے گی اور قومی ایکشن پلان کی نگرانی کے لئے مشترکہ کمیٹی بنائی جائے۔ اس اجلاس میں پیپلز پارٹی نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی نے شرکت نہیں کی تھی، اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ کل جماعتی کانفرنس ہی تھی، جو ابھی تک تصدیقی عمل سے نہیں گزری، جبکہ متحدہ کی طرف سے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ وزیراعظم ان کے وفد سے ملاقات کر کے ان کی بات سنیں اور تحفظات دور کریں۔
ابھی تک تو یہ ملاقات طے نہیں پائی، حکومت بھی شاید پیپلزپارٹی کی گول میز کانفرنس کا انتظار کرنا چاہتی تھی، چنانچہ ترمیمی بل کی منظوری کے لئے سینیٹ کا اجلاس پہلے اور قومی اسمبلی کا اس سے اگلے دن بلایا گیا ہے۔ ترمیمی مسودہ بھی پہلے سینیٹ میں پیش کر کے منظور کرانا مقصود ہے کہ قومی اسمبلی میں حزب اقتدار کے پاس مطلوبہ تعداد موجود ہے، پیپلزپارٹی کی اے پی سی میں شرکت کے بارے میں شاہ محمود قریشی نے تو مثبت اشارے دیئے،لیکن عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ تحریک انصاف شرکت نہیں کرے گی، جماعت اسلامی نے بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا اور مشاورت کر کے فیصلہ کرنے کا اعلان کیا، ایسی صورت میں اس کل جماعتی کانفرنس کا تاثر کیا اُبھرے گا؟ اس میں شریک جماعتوں ہی سے اندازہ ہو گا، تاہم آصف علی زرداری اسلام آباد میں سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب تو یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ وہ فوجی عدالتوں کی توسیع میں رکاوٹ پیدا نہیں کریں گے۔ آصف علی زرداری کی اپنی اولاد کے ساتھ ملاقات اور بات چیت تو ہو گئی ہے اور عرفان مروت کا راستہ بھی رک گیا ہے، تاہم شیشے میں بال ضرور آ گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے حلقے باپ اور اولاد میں اختلاف کو داستان گوئی قرار دے رہے ہیں۔ قمر زمان کائرہ کہتے ہیں، اعتراض بھی جمہوری عمل کا حصہ ہے اور بچے والد سے ناخوش نہیں ہیں،جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے واضح طور پر اپنی بہنوں کے موقف کی حمایت کر دی ہے۔یوں بھس میں چنگاری والی بات تو ہے جو سلگتی تو رہے گی۔
یوں بھی ’’چاہنے‘‘ والے بڑی عجیب شے ہیں جو اولاد کو باپ کے سامنے لانے کی سعی کر رہے ہیں۔اس میں شاید ان عناصر کو کامیابی نہ مل سکے کہ باپ اور بیٹے کے درمیان موقف اور طریقہ کار میں مکمل اتفاق نہ ہونے کے باوجود جماعتی سلسلہ تو موجود ہے اور بلاول نے والد کی پالیسی کے برعکس مہم جوئی بھی کی،لیکن یہ وہ رشتہ ہے جو ٹوٹ نہیں سکے گا۔ وزیراعظم محمد نواز شریف اپنی ٹیم کے ساتھ اپنے پروگرام پر عمل پیرا ہیں اور وہ ایسی سیاسی سرگرمیوں اور حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہدایات بھی جاری کرتے رہتے ہیں، ان کی اپنی مصروفیات بھی ہیں، جیسے حال ہی میں ایکو کانفرنس تھی، اس میں حکومت کو کامیابی بھی ملی ہے اور بھارت کی حکمت عملی ناکام ہوئی، کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کے سوا سب نے شرکت کی اور کسی اثر و رسوخ کو قبول نہیں کی۔ یوں عملی طور پر اس سے حکومت کو فائدہ ہوا۔ آصف علی زرداری مفاہمت ہی چاہتے ہیں،ان کی حکمت عملی سے تو یہی ظاہر ہوا کہ وہ آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے ’’الیکٹ ایبل‘‘ جمع کر رہے ہیں اور فی الحال محاذ آرائی نہیں چاہتے۔بہرحال فقرے بازی کرتے ہیں، وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا تازہ ترین جواب زرداری کے مُنہ کا مزہ ضرور خراب کر چکا ہو گا، اور پھر سے مولانا بخش چانڈیو کی ضرورت محسوس ہو گی۔