صدر ٹرمپ ابھی تک صدارتی مہم کی جذباتی فضا سے باہر نہیں نکل سکے


تجزیہ : قدرت اللہ چودھری
اندرون امریکہ اور بیرون امریکہ ’’ٹرمپائزیشن‘‘ پورے دھوم دھڑکے سے جاری ہے، صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز بیک وقت ایک صدر اور ایک وزیراعظم کو دھمکا ڈالا، میکسیکو کے صدر سے کہہ دیا کہ اگر میکسیکو کے بدمعاشوں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو امریکہ ان کے ملک میں فوج اتار دے گا اور آسٹریلوی وزیراعظم کو ڈانٹ پلا دی کہ وہ امریکہ میں پناہ گزینوں کے پردے میں دہشت گرد بھیجنے سے باز رہیں۔ آسٹریلوی وزیراعظم کے ساتھ تو انہوں نے بدتمیزی کا رویہ اختیار کیا اور ایک گھنٹے کی طے شدہ کال 25 منٹ میں ہی ختم کر دی۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے اس کے رہنماؤں کے ساتھ چونکہ صدر ٹرمپ کی ’’بے تکلفی‘‘ نہیں ہے، اس لئے ان میں سے کسی کے صدر سے ٹیلی فونک رابطہ تو نہیں ہوا، البتہ سفارتی ذرائع سے خبردار کیا گیا ہے کہ بیلسٹک میزائل کے تجربے سے جوہری معاہدہ خطرے میں پڑگیا ہے۔ یاد رہے کہ دونوں ملکوں میں سفارتی تعلقات نہیں، دراصل امریکہ کا لاڈلا بچہ اسرائیل شروع ہی سے ایران ڈیل کے خلاف تھا۔ اسرائیلی موقف یہ تھا کہ اس معاہدے کے بعد بھی ایران اپنے جوہری پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور ڈیل کے پردے میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کرتا رہے گا جبکہ ایران کا واضح موقف یہ ہے کہ وہ اس معاہدے پر پوری طرح عمل کر رہا ہے اور اس نے ایسے یورینیم کی افزودگی ترک کر دی ہے جسے کام میں لاکر ایٹم بم بنایا جاسکتا ہے، تاہم جب یہ معاہدہ زیر تشکیل تھا اس وقت بھی امریکہ کے اندر مضبوط اسرائیلی لابی پوری کوشش کر رہی تھی کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور پانچ یورپی ملکوں (1+5) کا معاہدہ نہ ہوسکے، طویل مذاکرات کے دوران بار بار ایسی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جن کا بدیہی طور پر مقصد یہی تھا کہ معاہدہ نہ ہوسکے، پھر اس لابی نے صدر اوباما کو دھمکی دی کہ وہ ایران کے ساتھ نیو کلیئر ڈیل سے باز رہیں۔ بصورت دیگر کانگرس اس کی منظوری نہیں دے گی، تاہم اوباما بھی ڈٹ گئے اور انہوں نے کہا کہ کانگرس نے اس معاہدے کی منظوری نہ دی تو وہ صدارتی ویٹو کا حق استعمال کریں گے، یہ دھمکی کارگر ثابت ہوئی اور کانگرس نے معاہدے کی منظوری دیدی۔ البتہ اس دوران اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو کانگرس سے خطاب کی خصوصی دعوت دی گئی جنہوں نے اوباما کے خوب لتے لئے اور انہیں معاہدے کے مضمرات سے خبردار بھی کیا۔ 57 ارکان کانگرس نے ایرانی صدر حسن روحانی کو خط بھی لکھ مارا کہ خود ایران اس معاہدے سے پیچھے ہٹ جائے ورنہ آنے والا صدر یہ معاہدہ منسوخ کر دے گا۔ اس پس منظر میں اگر صدر ٹرمپ ایران کو دھمکیاں دے رہے ہیں تو یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے اور اسرائیلی لابی کی پوری کوشش ہے کہ یہ معاہدہ منسوخ کر دیا جائے۔ البتہ صدر اوباما نے جاتے جاتے الوداعی ملاقات میں صدر ٹرمپ کو خبردار کر دیا تھا کہ ایران کے ساتھ ڈیل بڑی محنت سے کی گئی تھی اور اس کے نتیجے میں ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دیا گیا ہے اس لئے امریکہ معاہدہ منسوخ کرنے کی حماقت نہ کرے۔ اب امریکی صدر کی وارننگ کے جواب میں ایران نے موقف اختیار کیا ہے کہ ایران کے میزائل تجربے پر امریکہ کا بیان ’’اشتعال انگیز‘‘ ہے۔ امریکہ نے ایران کو نوٹس دیتے ہوئے کہا ہے کہ میزائل کا تجربہ سیکیورٹی کونسل کی قرار داد نمبر 2231 کے خلاف ہے جس میں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے میزائلوں کے تجربات نہ کرے جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کے جواب میں ایران کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر نے جو دعوے کئے ہیں وہ بے بنیاد ہیں، پہلے بھی ایسی باتیں کی جاتی رہی ہیں جو باعث اشتعال بھی ہیں۔ بیرون ملک اگر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ روئیے ہیں تو اندرون ملک بھی ان کی دھمکیاں جاری ہیں، تازہ ترین دھمکی انہوں نے برکلے یونیورسٹی کو دی ہے اور کہا ہے کہ اگر ’’بریٹ بارٹ‘‘ ویب سائٹ کے معاملے پر یونیورسٹی نے مخالفانہ آوازوں کو دبانے کی کوشش کی تو یونیورسٹی کے لئے وفاقی فنڈ بند کر دئیے جائیں گے۔ یہ بات انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہی، ٹرمپ کے اعلیٰ ترین سیاسی مشیر سٹیفن بینن بریٹ بارٹ ویب سائٹ کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔
برکلے یونیورسٹی امریکہ کی اعلیٰ ترین سرکاری یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے اخراجات ریاست کیلیفورنیا کی جانب سے ملنے والے فنڈز، ٹیوشن فیسوں اور گرانٹس وغیرہ سے پورے ہوتے ہیں۔ برکلے یونیورسٹی میں تقریباً نصف ریسرچ پراجیکٹس کی گرانٹ وفاقی حکومت دیتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں یونیورسٹی مالی بحران کا شکار رہی اور اسے بجٹ خسارے کا سامنا رہا، اس ویب سائٹ کے ٹیکنالوجی ایڈیٹر ییعان پولوس برطانوی صحافی ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے زبردست حامی مانے جاتے ہیں۔ ان کے متنازعہ خیالات کی وجہ سے گزشتہ جولائی میں انہیں ٹویٹر پر ممنوع قرار دے دیا گیا تھا جس کے حق میں یونیورسٹی میں پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں، وہ صدارتی مہم کے دوران ڈونلڈ کو ’’ڈیڈی‘‘ کے نک نیم سے پکارتے رہے، اور انہیں امریکہ میں دائیں بازو مخالف مہم کا چہرہ سمجھا جانے لگا ہے۔ گزشتہ ماہ کیلیفورنیا میں ڈیوس میں بھی ایسے ہی مظاہرے ہوئے تھے اور ییعان پولوس کی تقریر ملتوی کرنا پڑی تھی۔
ایسے محسوس ہوتا ہے کہ صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی ڈونلڈ ٹرمپ ابھی صدارتی مہم کی اس جذباتی فضا میں رہ رہے ہیں، جب وہ کبھی تو یہ کہہ دیتے تھے کہ وہ صرف وہی انتخابی نتائج تسلیم کریں گے جن میں ان کے صدر منتخب ہونے کا اعلان کیا جائیگا۔ انتخابی دھاندلی کے خدشات بھی انہوں نے ظاہر کئے اب روس کی طرف سے نتائج ہائی جیک کرنے کی خبر پر بھی وہ سیخ اپ ہیں۔ اب وہ ایران سے نپٹنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور بھرپور جواب دینے کی باتیں کر رہے ہیں، لگتا ہے وہ ابھی تک اس متوازن طرز عمل سے محروم ہیں جن کا صدارتی منصب متقاضی ہے۔