چودھری نثار علی خان کا الزام، نام لئے بغیر اپنے پرائے کو ملک دشمن کہہ دیا

تجزیہ:چودھری خادم حسین

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اپنی بے باکی کی وجہ سے مشہور ہیں وہ کبھی تو کافی دیر خاموش رہتے ہیں اور کبھی بولتے ہیں تو پھر بہت کچھ کہہ جاتے ہیں جو بعض حلقوں کے نزدیک برمحل یا باموقع نہیں ہوتا، ایک فوجی اجتماع میں انہوں نے عسکری اور سیاسی قیادت کے ایک صفحہ پر ہونے کی بات کرتے ہوئے بہت ہی کھلے انداز میں تنقید کردی بلکہ الزام لگا دیا ، انہوں نے کسی کا نام تو نہیں لیا لیکن یہ ضرورکہا کہ کچھ ملک دشمن عسکری اور سیاسی قیادت کو ایک صفحہ پر نہیں دیکھنا چاہئے ان میں کچھ دوست بھی ہیں، اب اگر ان کے انہی الفاظ پر غور کیا جائے تو یہی کہا جائے گا کہ انہوں نے مخالف سیاسی عناصر پر الزام لگانے کے ساتھ ہی اپنی بغل کے چوروں کا بھی ذکر کردیا ہے اور ان کا مطلب یہ ہے کہ ان کی جماعت یا مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں بھی ایسے حضرات ہیں، ان کی طرف سے نام نہ لینے اور اشارہ بھی نہ کرنے سے ابہام اور شکوک کا پیدا ہونا لازمی ہے ان کو موجودہ حالات میں یہ بات نہیں کرنا چاہئے تھی یا پھر وہ اس کی اشاعت روکتے کہ اس سے خود ان کی اپنی جماعت کے اندر بھی تنقید ہوگی اور جس طرح انہوں نے نام نہیں لیا، اسی طرح چور کی داڑھی میں شہتیر والے محاورے کے تحت جماعت میں ان کے مخالف تنقید کے لئے کوئی اور طریقہ اختیار کرلیں گے، رہ گئی بات مخالف جماعتوں کی تو ان میں عمران خان اورآصف علی زرداری ہی سامنے آتے ہیں، عمران تو ہم جماعت ہونے کا ’’فائدہ‘‘ دیتے، جبکہ آصف علی زرداری اور ان کی جماعت سے چودھری نثار کی چپقلیش ڈھکی چھپی نہیں ہے، چودھری نثار اپنے عقائد اور نظریات کے حوالے سے راسخ ہیں تو پھر بھی وہ سیاست دان ہیں ان کو موقع کی نزاکت تو دیکھنا چاہئے، یہ وقت محاذ آرائی کم کرنے کا ہے، لیکن ایسے بیانات سے یہ ممکن نہیں ہوگا اور الزام جواب الزام کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جائے گا۔
جہاں تک تحریک انصاف کے چیئرمین کا تعلق ہے تو وہ پی ایس ایل کے فائنل پر اپنی رائے پر مصر ہیں اور نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ ان کے بیان کی وجہ سے کیون پیٹرسن سمیت دو غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستان آنے سے انکار کیا، دوسرے معنوں میں وہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو غیر ملکی کھلاڑی نہیں آئیں گے وہ عمران خان کے ایسے بیانات کا بھی سہارا لیں گے، حالانکہ حقیقت ذرا مختلف بھی ہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹر تو فائنل کے لئے کوالیفائی کرچکی اس میں شامل کھلاڑیوں کو آنا چاہئے تھا جبکہ کوئی کھلاڑی نہیں آیا ، اب آج (جمعہ) کراچی کنگز اور پشاور زلمی کا میچ فیصلہ کن ہے، اس تحریر کے شائع ہونے تک فیصلہ ہو چکا ہوگا کہ دونوں میں سے کون سی ٹیم فائنل کھیلے گی اب اگر کراچی جیت کرآتی ہے تو اس میں شامل غیر ملکیوں کو پہلے فیصلہ کرنا ہوگا، ویون رچرڈ رضا مندی دے چکے ہوئے ہیں کراچی میں شامل سنگاکارا اور جے وردھنے بھی ممکنہ کھلاڑیوں میں ہو سکتے ہیں، چنانچہ اس کے لئے محترم نجم سیٹھی نے آج (ہفتہ) کا دن نئی ڈرافٹنگ کے لئے رکھا ہے کہ جو کھلاڑی آنے پر رضا مند ہوں ان میں سے کم از کم آٹھ کو دونوں (فائنل والی) ٹیموں کے لئے منتخب کرلیا جائے، اور یہ زرخیز دماغ کی حکمت عملی ہے، جس کی داد دینا چاہئے، سرکار کی طرف سے فائنل کے تمام انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں اور انشاء اللہ یہ پُر امن طور پر ہوگا، ہم بھی دہشت گردوں کو ایسے جواب کے ہی حامی ہیں اور لاہور کے زندہ دلوں کے ساتھ پورے پاکستان کے عوام نے بھی بہت جرأت اور بہادری کا ثبوت دیا ہے، ٹکٹوں اور بعض دوسرے امور کے حوالے سے جو شکایات ہیں وہ کوئی بڑی بات نہیں ایسے مسئلہ میں تو ایسا ہوتا ہی ہے، جب فیصلہ کرلیا تو پھر اسے حوصلے سے نبھانا بھی ہوگا،تاہم اس سلسلے میں ہم نے ایک بات عرض کی تھی کہ حوصلہ قوم کا، فیصلہ حکومت کا اور انتظامات تمام مشینری کے لیکن داد نجم سیٹھی کی، انہوں نے بہت ہی ’’ہوشیاری‘‘ سے اس فائنل کو قومی مسئلہ بنایا اور سب کو جذباتی کردیا، کہ بم دھماکوں کا ہدف فائنل کو قرار دے دیا حالانکہ تب تک یہ تجویز اور کوشش تھی لیکن فیصل چوک کا دھماکہ ہوتے ہی محترم نے ’’آپس کی بات‘‘ کے نشری پروگرام کا فائدہ اٹھایا اور براہ راست کہہ دیا کہ فیصل چوک والا خود کش حملہ فائنل رکوانے کی کوشش ہے بس پھر کیا تھا قوم جذباتی ہوگئی اور اب جوش و خروش سنبھالا نہیں جاتا، اللہ مسّبب الاسباب ہے، انشا ء اللہ یہ موثر جواب ہوگا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سیاسی راہنماؤں، وزرا اعلیٰ اور اعلیٰ حکام کے لئے وی،آئی،پی انکلوژر میں انتظام کیا ہے، اور دعوت نامے بھی بھیجے ہیں، ہمارے محترم ’’فرزند راولپنڈی‘‘ شیخ رشید نے دو ٹکٹ خرید لئے، ایک عوامی انکلوژر اور ایک 8ہزار روپے والا، اسی طرح جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی عوامی ٹکٹ حاصل کیا ہے اور دونوں راہنماؤں نے ارادہ ظاہر کیا کہ وہ عوام کے ساتھ میچ دیکھیں گے جبکہ بورڈ انتظامیہ نے ان سے درخواست کی کہ وی،آئی،پی انکلوژر میں آئیں لیکن وہ مزہ لے رہے ہیں، ہماری بھی ان دونوں راہنماؤں سے اپیل ہے کہ وہ اب اس ایونٹ کو سیاست کا رنگ نہ دیں کہ پوری قوم جوش و خروش کے ساتھ کامیابی کے لئے کوشاں ہے، کہ اس سے جہاں عالمی سطح پر تاثر ہو گا وہاں دہشت گردوں کو بھی پیغام جائے گا کہ ان سے خوف نہیں اور ’’ہم تیار ہیں‘‘۔
الزام