افغان سرحد کی طرف سے دہشت گردی، پانچ اہل کار شہید دس دہشت گرد مارے گئے

تجزیہ:چودھری خادم حسین

افغانستان کی طرف سے دہشت گردوں نے پھر پاکستانی چوکی پر حملہ کیا اور فائرنگ کے تبادلے میں پانچ اہلکار شہید ہو گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے موثر طور پر جواب دیا اور مقابلے میں دس دہشت گرد مارے گئے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا کہ انہوں نے مادر وطن کی حفاظت کے لئے جانیں قربان کیں اس کا اجر ان کو اللہ کی طرف سے بھی ملے گا۔ چیف آف آرمی سٹاف نے جوانوں کی جرأت، ہمت اور بہادری کی تعریف کی کہ انہوں نے منہ توڑ جواب دیا اور دشمنان وطن و دین کو بھاری نقصان پہنچایا۔
یہ سلسلہ جاری ہے اور پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے پھر احتجاج کیا گیا ہے کہ افغان حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی جو شمالی اور جنوبی وزیرستان سے بری طرح پسپا ہوئے اور انہوں نے سرحد کے پار افغانستان کی حدود میں اپنے ٹھکانے بنا لئے ہیں۔ ان حالات میں سابق صدر حامد کرزئی کہتے ہیں کہ افغانستان ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرے گا پاکستان کی طرف سے مداخلت کے خلاف حفاظتی انتظامات کئے جا رہے ہیں اور سرحدی علاقے کو بھی محفوظ بنایا جا رہا ہے یہ چوکیاں بھی ایسے ہی انتظامات کا حصہ ہیں۔
ایک طرف یہ صورت حال ہے تو دوسری طرف حکومت کے حلیف بدرجہ وزیر کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن فاٹا کے حوالے سے حکومتی فیصلے کے خلاف ہیں اور اب ان کی طرف سے فاٹا میں گرینڈ جرگے کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا،اس کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ پشاور میں ہونے والے جرگہ کے ایک اجلاس میں حکومتی تجاویز مسترد کر دی گئیں اور فاٹا کے خیبرپختون خوا میں انضمام کی مخالفت کر دی گئی۔ کہا گیا ہے کہ جرگے نے ریفرنڈم کا جو مطالبہ کیا تھا اسے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اب یہ جرگہ اسلام آباد میں دھرنا دے گا۔ ابھی اس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ شاید مولانا فضل الرحمن سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں سیاسی حلقوں کو حیرت ہے کہ مولانا فضل الرحمن ایک طرف تو حکومت کے حلیف ہیں اور حصہ بقدر جثہ سے بڑھ کر حکومت میں حصہ لے چکے ہوئے ہیں اور دوسری طرف وہ حکومتی فیصلوں کے خلاف ایسے عملی اقدامات بھی کر رہے ہیں اس سے تاثر ملتا ہے کہ فاٹا کے مسئلے پر اتفاق نہیں حالانکہ ماسواے مولانا فضل الرحمن اور اب ان کے متعین اس جرگے کے سب نے حکومتی فیصلے کی تائید و حمایت کی ہوئی ہے جس کے تحت ادغام کے لئے انتظامات شروع کر دیئے گئے جو پانچ سال کے اندر آئینی، قانونی اور ریاستی سطح پر مکمل کر لئے جائیں گے۔ یوں مجموعی طور پر بہت بڑی اکثریت حامی ہے۔
مولانا فضل الرحمن ان دنوں اپنی سیاسی قوت کے مظاہرے میں بھی مصروف ہیں انہوں نے کوئٹہ میں علماء کنونشن سے خطاب کیا اور یہ الزام لگایا کہ ان (ملک) کے مدارس (جن کو دینی کہا گیا) پر الزام لگایا گیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ مدارس دہشت گردوں کی نرسری ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے یہاں ترقی پسندانہ پروگرام کا ذکر اور فلسفہ بیان کیا کہ قیام پاکستان سے اب تک ملک پر حکومت مولویوں نے تو نہیں کی۔ یہاں سرمایہ دار اور جاگیر دار حکمران رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے بہت بڑی پیش کش کی کہ وہ کرپشن کا مکمل خاتمہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کرپشن ختم کرنی ہے تو حکومت ہمارے حوالے کر دو، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پارلیمانی جمہوریت کے اس نظام میں حکومت کس طرح ان کے حوالے کی جائے ویسے عوام نے اس تجویز اور مطالبے کا مزہ لیا کہ مولانا فضل الرحمن نے کرپشن ختم کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا ہے جو اس دیوانے کے مطابق ہے جو اینٹیں اٹھا کر لوگوں کو ڈراتا اور اینٹیں اپنے گھر میں پھینکتا جاتا تھا۔ وزیر اعظم کو غور کرنا ہوگا کہ یہ بات آگے بڑھے گی تو خرابی پیدا ہو گی۔ فاٹا کے مسئلے پر اختلاف ختم کرنا ہوگا۔ ورنہ مولانا فضل الرحمن اسے بھی ’’کالا باغ ڈیم‘‘ بنا دیں گے۔ وزیر اعظم مولانا کو ایک ملاقات کا موقع دے چکے ہیں اب پھر ان کو بلا لیں تاکہ جو ہونا ہے ہو جائے۔ مولانا خوشی خوشی باہر آئیں۔ اس سے پہلے یہاں دہشت گردی کے خلاف کومبنگ آپریشن کی آڑ میں لسانی مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ا ور پنجاب میں پوچھ گچھ اور گرفتاریوں کے حوالے سے الزام لگا دیا گیا کہ پختونوں کی پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے۔ پنجاب اور وفاقی حکومت وضاحت کرنے پر مجبور ہوئیں حالانکہ آپریشن جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہے اور اس میں پنجابی بھی گرفت میں آئے ہیں یوں یہ بلا لحاظ جاری ہے۔ یوں بھی زیر حراست لوگوں کو تفتیش کے بعد بے گناہی ثابت کرنے پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہر پہلو سے احتیاط کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کو ڈائیلاگ کا سلسلہ پھر سے شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ سولو فلائٹ سے گریز کریں۔
افغان سرحد