احتساب بل اور نیا احتسابی ادارہ، کیا واقعی اتفاق رائے ہو گیا؟

تجزیہ:چودھری خادم حسین:

اللہ اللہ کرکے یہاں تک تو پہنچے کہ پارلیمانی کمیٹی نے احتساب بل کی مزید دو تین شقوں پر اتفاق کرلیا ہے، ایک شق کے مطابق بد عنوانی کا الزام ثابت ہونے پر عوامی نمائندہ نہ صرف عمر بھر کے لئے نا اہل ہوگا بلکہ اس جرم کی سزا عمر قید تک ہو سکتی ہے جبکہ جرمانہ الگ ہوگا، کمیٹ ینے رضا کارانہ طور پر خورد برد کی گئی رقم کی واپسی والی شق جوں کی توں رہنے دی تاہم وزیر قانون نے یہ نہیں بتایا کہ رضا کارانہ طور پر غبن کی رقم واپس کرنے والے کو رعائت کیا ملے گی؟ کہ موجودہ نیب آرڈیننس کے مطابق تو ’’پلی بار گینگ ‘‘ کی شق موجود ہے کہ رضا کارانہ طور پر رقم واپس کرنے کے لئے سودے بازی ہوتی ہے اور تصفیہ ہو جانے کے بعد ریفرنس واپس لے لیا جاتا ہے، اس شق پر تو عدالت عظمیٰ نے بھی برہمی کا اظہار کیا اور سخت تنقید کی ہے بہر حال اب شاید یہ طویل سفر اختتام کو پہنچنے کے قریب ہو کہ احتساب بل کو قومی اسمبلی میں پیش ہوئے دوسری حکومت کے بھی تین سال سے زیادہ پورے ہوگئے ہیں یہ بل پیپلز پارٹی کے حالیہ (گزشتہ) دور حکومت میں پیش ہو کر کمیٹی کے سپرد ہوا تھا، تب مسلم لیگ (ن) حزب اختلاف میں تھی اور کمیٹی میں فریقین کے درمیان سمجھوتہ نہیں ہو سکا تھا، مقصد اس قانون کا موجودہ نیب آرڈیننس کی جگہ لینا ہے، اعتراض و مقاصد میں تو یہی کہا گیا کہ احتساب کا ادارہ غیر جانبدار، آزاد اور خودمختار ہوگا کہ کرپشن کے خلاف منصفانہ کارروائی ہوسکے، کرپشن کے خاتمے کا عزم دہراتے ہوئے بھی اس قانونی مسودہ پر اتفاق کرکے اسے منظور کرانا مشکل ہو رہا ہے، سب سے زیادہ مسئلہ تو نئے احتسابی ادارے کے سربراہ کا تقرر ہے کہ اس پر پہلے بھی اتفاق نہیں ہوا تھا اب تو وزیر قانون نے نیک تمنا ظاہر کی لیکن یہ نہیں بتایا کہ احتساب بیوار کے امکان کی اہلیت اور تقرر کی شقوں پر بھی اتفاق رائے ہوا یا نہیں ؟ بہر حال یہ مسودہ قانون پارلیمنٹ میں موجود حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے خلوص کا بھی امتحان تھا اور یہ امتحان عرصہ سے جاری و ساری ہے، اب کہا جارہا ہے کہ جلد ہی مسودہ قانون قومی اسمبلی میں پیش کردیا جائے گا۔
پارلیمنٹ کی بالا دستی اور اس کی توقیر کے قائل ہمارے راہنما ابھی تک فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کا مسئلہ بھی حل نہیں کر پائے۔ پیپلز پارٹی کے بغیر مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں توسیع کا فیصلہ ہو گیا تھا کہ حزب اقتدار نے تین سال کی توسیع کی بات کرکے دو سال کا فیصلہ کرلیا تھا پیپلز پارٹی نے اس کے بجائے خود کل جماعتی کانفرنس منعقد کی، اور اس میں ایم کیو ایم اور تحریک انصاف نے شرکت نہیں کی جو حزب اختلاف کی اہم جماعتیں ہیں، یہ دونوں مشروط طور پر توسیع پر رضا مند ہیں، چنانچہ پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے اپنی اور جماعتی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے جماعتی کانفرنس منعقد کرڈالی اور اب نونکاتی تجویز پیش کردی ہے اس میں توسیع کی مدت ایک سال کرنے کو کہا ہے وزیر خزانہ اسحق ڈار نے موقف اختیار کیا کہ پیپلز پارٹی کی تجاویز پارلیمانی کمیٹی میں پیش کی جائیں گی، اس سے بعض حلقوں نے تاثر لیا ہے کہ توسیع میں تاخیر دونوں جماعتوں کی ملی بھگت سے ہو رہی ہے اور اب ان تجاویز کوزیر غور لاکر دو تین سے اتفاق کر کے توسیع کا فیصلہ کرلیا جائے گا اور یہ سب ملی بھگت سے ہو رہا ہے، اور اب جلد ہی اسی سیشن کے دوران تو سیع کی منظوری دے دی جائے گی، اگرچہ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کی پیپلز پارٹی سے الگ رائے کی بدولت مسلم لیگ (ن) سینٹ میں بھی سادہ اکثریت سے توسیعی بل منظورکراسکتی ہے تاہم آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت مشکل ترین مرحلہ ہے جو تعاون کے بغیر طے نہیں ہو سکتا، اس لئے سب کو ایک دوسرے کی مان کر ہی کسی نتیجے پر پہنچنا ہوگا۔