’’پھٹیچر‘‘کھلاڑیوں کے میچ ہی سے ورلڈ الیون کے دورے کی راہ ہموار ہوئی

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

ابھی عمران خان کے اس بیان پر لے دے ختم نہیں ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کرانا پاگل پن ہے، اگرچہ اس سے پہلے وہ خود لاہور میں فائنل کرانے کا مطالبہ کرچکے تھے لیکن جب فیصلہ ہوگیا تو انہوں نے حسب روایت یو ٹرن لے لیا، اب کرکٹ میلے کے کامیاب انعقاد پر انہوں نے بظاہر جل بھن کر کہہ دیا کہ جو غیر ملکی کھلاڑی پی ایس ایل کا فائنل کھیلنے کیلئے آئے تھے وہ ’’پھٹیچر‘‘ تھے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک چینل پر وضاحت کی کہ ’’پھٹیچر‘‘ کوئی برا لفظ نہیں ہے نہ انہوں نے اسے برے معنوں میں استعمال کیا تھا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے کلب کرکٹ کے زمانے کی بعض دلچسپ اصطلاحات بھی بتائیں مثلاً ’’ریلو کٹا‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ریلو کٹا‘‘ اس کھلاڑی کو کہا جاتا تھا جو باؤلر بھی ہو اور بیٹنگ بھی کرتا ہو لیکن دونوں اچھی نہ ہوں۔ ایک اور اصطلاح انہوں نے ’’فوکر‘‘ استعمال کی جو سلو ٹیک آف کرنے والے کھلاڑی کیلئے استعمال ہوتی تھی، آپ کو یاد ہوگا ایک زمانے میں انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن میں (2013ء) سپریم کورٹ کا کردار شرمناک تھا، پھر یہ معاملہ عدالت تک پہنچا تو اس لفظ کی بال کی کھال اتاری گئی، غالباً بات معافی مانگنے پر ختم ہوئی تھی لیکن ’’پھٹیچر‘‘ کا لفظ انہوں نے جن غیر ملکی کھلاڑیوں کیلئے استعمال کیا ان کے بارے میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں تو ان کے ناموں کا بھی پتہ نہیں اور وہ کھلاڑی ٹیسٹ میچ کے درجے کے کھلاڑی بھی نہیں تھے۔ یہ تو بعض غیر ملکی کھلاڑیوں کے بارے میں عمران خان کے خیالات ہیں لیکن جو فائنل لاہور میں ہو رہا تھا وہ بذات خود نہ تو کوئی ٹیسٹ میچ تھا اور نہ ہی اس میں وہ تمام کھلاڑی کھیل رہے تھے جو ٹیسٹ میچ کھیلنے کے اہل ہوں۔ یہ تو ڈومیسٹک میچ تھا البتہ جو غیر ملکی ’’پھٹیچر‘‘ کھلاڑی کھیلنے کیلئے آگئے، ان کے بارے میں عمران خان کی اطلاعات مکمل نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا فائنل دنیا بھر میں 6 کروڑ لوگوں نے دیکھا، اس میں وہ ناظرین بھی شامل ہیں جنہوں نے ٹی وی سکرینوں کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر بھی میچ دیکھا۔ سب سے زیادہ ناظرین کا تعلق بھارت سے ہے حالانکہ بھارت کی کرکٹ ٹیم کا اپنا ٹیسٹ میچ آسٹریلیا کے ساتھ ہو رہا تھا، یہ میچ دیکھنے والے بہرحال چھ کروڑ سے بہت کم تھے اسی طرح بنگلہ دیش اور سری لنکا میچ بھی ہو رہا تھا یہ میچ بھی دیکھنے والے کم تھے۔ اتوار 5 مارچ کو دنیا بھر میں جو پروگرام سب سے زیادہ دیکھا گیا وہ پی ایس ایل کا میچ تھا، دوسرے الفاظ میں بہترین یا اچھے کھلاڑیوں کے میچ چھوڑ کر لوگ ’’پھٹیچروں‘‘ کا میچ دیکھنے میں مصروف تھے۔ اس میچ کی دلچسپی کی وجوہ بھی مختلف تھیں چونکہ پاکستان میں مارچ 2009ء کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہوئی ماسوا زمبابوے کے، اس لئے تماشائی کھیل اور کھلاڑیوں سے ماورا ہوکر بھی ایونٹ سے مجموعی طور پر لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ایک اور پہلو بہت دلچسپ ہے، پی ایس ایل کے اگلے ہی روز یہ اطلاع آگئی کہ اب پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بھی کھلنے لگے ہیں۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کلب کے چیئرمین جائلز کلارک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ ستمبر میں ورلڈ الیون کی ٹیم پاکستان بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ پاکستان کا حق ہے پاکستان آخر کتنی دیر تک اپنی ہوم سیریز بھی یو اے ای میں کھیلتا رہے گا؟ اب اگر ورلڈ الیون ستمبر میں پاکستان آتی ہے تو کیا اسے اسی پی سی ایل فائنل کا اعجاز قرار نہیں دیا جائے گا جس میں ’’پھٹیچر غیر ملکی کھلاڑی‘‘ شامل تھے؟ اگر عمران خان کے حکیمانہ مشورے پر عمل کرتے ہوئے لاہور میں پی ایس ایل کے انعقاد کے پاگل پن کا اظہار نہ کیا جاتا تو کیا ورلڈ الیون پاکستان آنے کیلئے غور بھی کرتی؟ عمران خان کو خدشہ تھا کہ اگر کوئی واقعہ ہوگیا تو کرکٹ دس سال کیلئے پاکستان سے دور ہو جائے گی حالانکہ کرکٹ پہلے ہی پاکستانی گراؤنڈوں سے روٹھی ہوئی ہے، اس کی واپسی کیلئے ہی تو جتن کئے جا رہے ہیں۔ چلئے اب اگر فائنل لاہور میں نہ ہوتا تو پھر کب ہوتا؟ کیا اگلے سال (یا اگلے برسوں) کا انتظار کیا جاتا؟ اور جس طرح کرکٹ بائی چانس ہے اگر اسی طرح اچانک کوئی اور افتاد آ پڑتی تو پھر مزید کتنے سال کیلئے کرکٹ کا انتظار کیا جاتا کسی نہ کسی وقت تو یہ فیصلہ ہونا تھا ۔سر ویون رچرڈز اور جائلز کلارک جیسے کرکٹروں اور کرکٹ منتظمین کی بدولت پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کامیابی بذات خود اپنی کامیابی کی دلیل ہے اس لئے اگر لاہور کا ایونٹ کامیابی کے ساتھ انعقاد پذیر ہوگیا ہے تو پھر اس کا تقاضا ہے کہ اسے مثبت پہلو سے دیکھا جائے۔ جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا جب وہ برسر زمین غلط ثابت ہوگئے تو اب ان اندیشہ ہائے دور دراز کو ذہنوں سے جھٹک دینا چاہئے۔ فائنل کا انعقاد پاگل پن تھا یا اس میں آنے والے کھلاڑی ’’پھٹیچر‘‘ تھے، ان کے کھیل کو دیکھنے والے چھ کروڑ لوگ بہرحال ’’پھٹیچر‘‘ نہیں تھے اس لئے بہتر ہے اب پی ایس ایل فائنل کا روشن پہلو دیکھا جائے۔ میچ نہ ہوتا تو وزیراعلیٰ پرویز خٹک دو کروڑ روپیہ کس پر نچھاور کرتے؟