کراچی شہر کے لئے جدید خطوط پر تربیت یافتہ پولیس فورس کی ضرورت ہے


تجزیہ : قدرت اللہ چودھری
 سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس اللہ ڈنو خواجہ (اے ڈی خواجہ) نے کراچی چیمبر سے خطاب کرتے ہوئے جو باتیں کہی ہیں، وہ غور و فکر کے کئی دروا کرتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ تسلیم کرنا پڑے گی کہ کراچی کے حالات اب اتنے بہتر ہوگئے ہیں کہ اس میں اس قسم کی ’’فوڈ فار تھاٹ‘‘ پیش کی جاسکتی ہے ورنہ جن حالات کا تذکرہ اے ڈی خواجہ نے کیا ہے ان کا ذکر بھی اس انداز میں نہیں ہوسکتا تھا۔ چند ماہ پہلے انہیں رخصت پر بھیج دیا گیا تھا اور عین ممکن تھا کہ وہ دوبارہ اس عہدے پر نہ آتے اور کہیں اور خدمات انجام دے رہے ہوتے لیکن ہائی کورٹ کے حکم پر وہ دوبارہ بطور سندھ پولیس کے سربراہ کے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے سب سے زیادہ کرب کا اظہار 1996ء کے آپریشن کے بارے میں کیا ہے جس کے اثرات زائل ہوگئے اور ان میں جتنے پولیس افسروں نے حصہ لیا ان سب کو ایک ایک کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، صرف وہی بچ سکے جو سندھ سے باہر تعینات ہوگئے تھے۔ اے ڈی خواجہ نے یہ بروقت سوال اٹھایا ہے کہ صوبے کو کب تک رینجرز کی مدد سے چلایا جائیگا؟ اس معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اختلافات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ رواں آپریشن میں رینجرز کو پولیس کے اختیارات دئیے گئے ہیں اور ہر چند ماہ بعد جب ان میں توسیع کی ضرورت پیش آتی ہے تو اختلافات ابھر کر سامنے آجاتے ہیں، حالانکہ اگر امن و امان کے لئے رینجرز کی خدمات درکار تھیں تو یہ مختصر مدت کے لئے ہونی چاہئیں تھیں، لیکن اب تو رینجرز کو شہر میں امن و امان کی ذمے داریاں سنبھالے ربع صدی سے زیادہ عرصہ بیت گیا۔ اس دوران ضرورت تھی کہ کراچی کے لئے ایک نئی پولیس بھرتی کی جاتی، جس میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو جدید خطوط پر ٹریننگ دی جاتی۔ جب سے دنیا کو دہشت گردی کا سامنا ہوا ہے، دنیا بھر کی پولیس سروسز کو اس سے نپٹنے کی تربیت دی گئی ہے اور اس پولیس نے کامیابی کے ساتھ دہشت گردی کی وارداتوں کو روکا ہے۔ دنیا کے کئی ملک ایسے ہیں جہاں چند وارداتوں کے بعد ہی دہشت گردی پر قابو پالیا گیا اور ایسے اقدامات اٹھائے گئے کہ دہشت گردی کی وارداتیں کرنا آسان نہ رہا اور اگر کہیں واردات ہو بھی گئی تو پھر واردات کرنے والوں کو ملک میں کہیں چھپنے کے لئے جگہ نہ ملی، لیکن کراچی کے مخصوص حالات اور پس منظر میں دہشت گردوں کے سہولت کاروں نے ان پولیس افسروں کو قتل کر دیا جنہوں نے 1996ء کا آپریشن کامیاب بنایا تھا۔ یہ سہولت کار کوئی چھپے ہوئے لوگ نہ تھے اور اب تو محرمان راز ہائے درون خانہ خود ایک دوسرے کے چہرے پر پڑا ہوا نقاب الٹ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ سابق گورنر سندھ عشرت العباد کو بھرے پرے شہر میں رشوت العباد کہہ کر پکارا گیا۔ یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں ہے اور مزید چہروں سے نقاب اترنے والا ہے، لیکن اے ڈی خواجہ کا دکھ یہ ہے کہ پولیس نے جو کامیاب آپریشن اپنی جانوں پر کھیل کر کیا تھا، اسے سیاست کی نذر کر دیا گیا اور جو فوائد اس آپریشن سے حاصل ہونے تھے، وہ نہیں ہوسکے۔
اے ڈی خواجہ تو خود ذاتی طور پر سیاست کی نذر ہوتے ہوتے بچے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک ماتحت پولیس افسر سے کہا تھا کہ وہ ایک مخصوص شوگر ملز کو گنے کی سپلائی کے سلسلے میں کوئی خلاف قانون اقدام نہ کریں، اس ملز کی انتظامیہ یہ چاہتی تھی کہ گنے کے کاشتکاروں سے گنا خریدنے کے لئے پولیس ’’کردار‘‘ ادا کرے۔ یہ کردار اس کے سوا کیا ہوسکتا تھا کہ ملز کو اپنی پسند کے مطابق گنا خریدنے کی سہولت دی جائے۔ اس پر اے ڈی خواجہ کو دھمکیاں بھی ملیں اور ان دھمکیوں کا نتیجہ ان کی طویل رخصت تھی، ان سے یہ شکایت بھی تھی کہ وہ پولیس میں بھرتیاں میرٹ پر کر رہے تھے اور اس سلسلے میں بااثر حلقوں کی سفارشات رد کر دیتے تھے۔ حالانکہ نہ صرف سندھ کے وڈیرے اور جاگیر دار اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے پولیس میں بھرتیاں کراتے ہیں بلکہ ارکان اسمبلی کو تو باقاعدہ ’’کوٹہ‘‘ دیا جاتا ہے۔ اب یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ ایک نظم و ضبط کی پابند فورس میں اگر اس طرح بھرتیاں ہوں گی تو نظم و ضبط کہاں رہ جائے گا؟ جو لوگ رشوت دے کر بھرتی ہوں گے وہ سب سے پہلے تو وہ رقم واپس حاصل کرنے کی کوشش کریں گے جو انہوں نے بطور رشوت دی ہوگی۔ پھر پولیس کے اندر رہ کر وہ اپنے ان محسنوں کے مفادات کی نگرانی کو اولیت دیں گے جنہوں نے انہیں پولیس میں بھرتی کرایا۔ اسی طرح کراچی پولیس میں ایسے لوگوں کو بھرتی کیا گیا جو اپنے ادارے سے زیادہ اپنے محسنوں کے مفاد کی نگرانی کرتے تھے۔ ان سب عوامل نے مل کر پولیس کے ڈسپلن کو متاثر کیا اور حالات پر قابو پانے کے لئے پولیس کے اختیارات بھی رینجرز کو دینے پڑے۔ اب اگر سندھ کی حکومت یہ چاہتی ہے کہ اسے رینجرز پر انحصار نہ کرنا پڑے اور اختیارات کے مسئلے پر ہر بار جو تنازعہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے، وہ نہ اٹھے تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ پولیس کو جدید خطوط پر تربیت دے کر نئے زمانے کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کیا جائے۔ اے ڈی خواجہ نے بالکل درست کہا کہ 1861ء کے پولیس ایکٹ میں اکیسویں صدی کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں، لیکن اگر اکیسویں صدی کی حکومت ’’لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو‘‘ کی روش کا مظاہرہ کرے گی تو بھی مثبت نتائج نہیں نکلیں گے۔ سندھ حکومت نے شہر کو ’’سیف سٹی‘‘ بنانے کے لئے جو پراجیکٹ شروع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا وہ کیوں کامیاب نہیں ہوا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ کیمرے ’’اندھے‘‘ تھے اب ان اندھوں کے ذریعے تو شہر کی نگرانی ممکن نہ تھی، یاد آیا کہ ایک غیر ملکی حکومت نے سندھ حکومت کو پیشکش کی تھی کہ وہ کراچی کو سیف سٹی بنانے کے لئے منصوبہ بنا کر دے سکتی ہے جس کی فنڈنگ بھی وہ کرے گی، لیکن سندھ حکومت نے اس میں چنداں دلچسپی نہ لی، کیونکہ خریداری وغیرہ کے سارے مراحل اس حکومت کے نامزد لوگوں کی نگرانی میں ہونے تھے، چنانچہ اس پیشکش سے فائدہ نہ اٹھایا جاسکا۔