دہشت گرد، جرائم پیشہ کا کوئی قبیلہ اور مذہب نہیں، لسانیت سے گریز کریں


تجزیہ:چودھری خادم حسین

دُکھ اور افسوس ہے کہ ہمارے مُلک میں تیلی دکھا کر آگ لگانے والے ہر جگہ پائے جاتے اور ان کی اکثریت ہو چکی ہے،لیکن پانی ڈال کر آگ بجھانے والے بہت کم ہیں،پھر ہماری سیاست تو ذاتی،گروہی، لسانی اور فرقہ وارانہ تصورات کے سپرد ہو چکی ہے۔ اس میں اشتعال دلانے والا بڑا لیڈر بھی بن جاتا ہے اور اعتدال پسند مُنہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ میڈیا میں بھی یہی مسئلہ ہے کہ یہاں بھی اعتدال کی دال نہیں گلتی اور ان حضرات کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے جو سخت اور توہین آمیز طریقے سے بات کریں یا لکھیں۔ شاید قوم کا مزاج ہی ایسا بن چکا ہے۔اس حوالے سے کبھی قلم نہیں اٹھایا،لیکن اب مجبوری ہو گئی کہ خاموشی بھی جرم ہو گی، کیونکہ یہ مسئلہ مُلک و قوم کا ہے اور اگر اس آگ پر پانی نہ ڈالا گیا تو نہ جانے کیا کیا بھسم کر دے گی، پہلے ہی لسانیت کی بنیاد پر ہمارے مُلک کو بہت نقصان پہنچایا جا چکا ہے اب تو مسئلہ دہشت گردوں اور دہشت گردی کا ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک محترم ہیں وہ لاہور اور پنجاب کی تعریفیں کرتے بھی نہیں تھکتے تھے،لیکن گزشتہ روز اسی لاہور میں انہوں نے جو اندازِ گفتگو اپنایا وہ ان کو زیب نہیں دیتا۔ یوں بھی یہ الزام تراشی اور حقائق سے انحراف ہے اس سے پہلے وہ پشاور میں بھی اسی نوعیت کی بات کہہ چکے ہیں۔ پرویز خٹک نے اسی لاہور میں تقریر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کو مخاطب کیا اور کہا’’شہباز شریف ہوش کے ناخن لو، پشتونوں کو تنگ نہ کرو، ان کو گرفتار نہ کرو،ورنہ ہم بھی باغی ہو جائیں گے‘‘ پشاور میں محترم نے فرمایا: پنجاب والو! ہم(پٹھانوں) سے مہمان نوازی سیکھو، یہ بات انہوں نے پی ایس ایل کے حوالے سے کہی، حالانکہ اسی میچ کی وجہ سے لاہور والوں کی مہمان نوازی زیر بحث تھی اور دُنیا بھر میں تعریف ہو رہی تھی۔ شائقین میں بھی پٹھانوں کی بہت بھاری تعداد موجود تھی اور فائنل بھی پشاور زلمی نے جیتا اور محترم اس جیت میں ڈیرن سیمی اور کامران اکمل کا بڑا حصہ ہے دونوں میں سے کوئی پٹھان نہیں، لیکن یہ کھیل اور قوی سوال ہے اس لئے وہ دونوں پشاور ہی کا حصہ تھے اور شائد اب بھی ہیں۔
لسانیت کے حوالے سے ہم نے لکھنے سے ہمیشہ احتراز کیا، لیکن اب یہ سوال پوچھنا لازم ہے کہ آخر پنجابیوں نے کیا قصور کیا ہے؟ کہ ہر کوئی گالی دیتا ہے، حالانکہ اس ملک کا نظام ایسا ہے جس میں کسی خطے اور کسی قبیلے کا مسئلہ نہیں۔یہاں تو محروم اور استحصالی طبقات کا مسئلہ ہے۔ محترم جسے آپ نے مخاطب کیا وہ بھی وزیراعلیٰ اور آپ بھی وزیراعلیٰ ہیں۔ ان کا تعلق بھی اشرافیہ سے اور آپ کا بھی اسی طبقے سے ہے، پھر آپ پہلے پنجاب اور پنجابیوں کا ذکر کرتے ہیں پھر آپ کو خیال آتا ہے تو عوام کو اپنا بھائی کہہ دیتے ہیں، کیا یہ بات بار بار نہیں کہی جاتی کہ دہشت گرد اور جرائم پیشہ کا کوئی مذہب، کوئی وطن اور کوئی قبیلہ نہیں ہوتا، تو پھر اگر دہشت گردی کے خلاف مہم کے دوران تمام طبقات سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے تو اس میں قبیلے کا ذکر کہاں سے آ گیا۔کیا پنجاب میں پٹھان نہیں بستے۔ وہ امیر کبیر اور کاروباری نہیں ہیں؟ اور کیا یہاں ملازم اور مزدور نہیں؟ ذرا شہر میں گھوم پھر کر تو دیکھیں ، کس کس مارکیٹ میں اور کہاں کہاں پٹھان صاحبِ حیثیت اور برسر روزگار ہیں اور پھر محترم آپ یہ بھی جان لیں کہ سود کا کاروبار یہاں ہو رہا ہے تو اس میں پنجابی اور پٹھان دونوں شامل ضرور ہیں،لیکن بھاری اکثریت پٹھانوں کی ہے اور پھر منشیات اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اگر خیبر پختونخوا والے جرائم پیشہ ملوث ہیں اور پنجابی معاون ہیں تو اس میں صوبائیت اور نسل کہاں سے آ گئی؟ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جاری مہم میں لوگوں سے اس لئے پوچھ گچھ نہ کی جائے کہ وہ پٹھان ہیں تو محترم یہ بھی تو دیکھیں کہ یہاں پنجابیوں کے خلاف بھی ایسی کارروائی جاری ہے۔ آپ کو تو مجموعی طور پر بات کرنی چاہئے کہ جرائم پیشہ حضرات کے خلاف کارروائی کی جائے اور سخت ہاتھ ڈالا جائے،لیکن اس کارروائی کے دوران بے گناہ اور شریف شہریوں کو تنگ اور پریشان نہ کیا جائے چاہے ان کا تعلق کسی بھی قبیلے با صوبے سے ہو۔
محترم آپ کا یہ اندازِ گفتگو اگر سیاسی ضرورت ہے تو قومی مفاد کے خلاف ہے۔ پہلے ہی یہ قوم جنرل فضل حق(مرحوم) کے ایک شوشے کی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کے بے حد مفید اور کارآمد منصوبے ’’کالا باغ ڈیم‘‘ سے محروم ہو چکی ہے اور اب لسانیت کے نام پر آپ سب دہشت گردوں کو کھلی چھوٹی دینا چاہتے ہیں نہیں محترم، نہیں، یہ سیاست نہیں، اگر آپ اے این پی اور جماعت اسلامی والے حضرات کے کسی ایسے بیان سے متاثر ہو کر اتنی بڑی بات کہہ رہے ہیں تو اجتناب کیجئے اور جرائم پیشہ اور بے گناہ معصوموں کے حق کی بات کریں۔
یہ سب تحریر کرتے وقت افسوس ہوا،لیکن بات آگ کی ہے کہ یہ بھڑکے گی تو بہت کچھ جلا کر خاکستر کر دے گی، اس لئے احتیاط ضروری ہے۔ پی ایس ایل کے فائنل میں انتظامی لحاظ سے کریڈٹ حکومت اور آئینی اداروں کو جاتا ہے،لیکن ساتھ ہی پوری قوم، پورا مُلک بھی مبارکباد کا مستحق ہے، جس نے بیداری اور بہادری سے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ سنا دیا اور یہ پاکستانیوں کا فیصلہ ہے کسی صوبے، کسی قوم اور کسی قبیلے کا نہیں۔
یہاں ہم پنجاب حکومت سے بھی شکوہ کرتے ہیں کہ اس طرف توجہ نہیں دی، صرف سیاسی مفاد اور سیاست پر ہی اکتفا کیا جا رہا ہے، بہتر ہو گا کہ اب حکومتِ پنجاب باقاعدہ اعداد وشمار کے ساتھ وضاحت کرے کہ کتنی تعداد میں پوچھ گچھ کی گئی۔کتنے لوگ حراست میں لئے گئے، کتنے بے گناہ پائے اور چھوڑ دیئے گئے اور ابھی تک کتنے حضرات سے تفتیش جاری ہے اور کتنے دہشت گردی میں ملوث زیر حراست ہیں، پرویز خٹک، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حلیف اور حریف رہنماؤں اور جماعتوں کے بیانات کے باعث اس تفصیل کے ساتھ یہ بھی شامل کر دیں کہ کس کا کس نسل اور کس قبیلے سے تعلق تھا؟ پنجاب تو مظلوم ہو کر رہ گیا کہ عددی (آبادی) اکثریت کے باعث ستر سال سے الزام ہی برداشت کرتا چلا آ رہا ہے، حالانکہ محروم یہاں بھی بہت ہی بھاری اکثریت میں ہیں اور مراعات یافتہ طبقے کی تعداد بہت کم ہے۔