آصف علی زرداری نے جماعتی، سیاسی سرگرمیاں اپنے ہاتھ میں لے لیں!

تجزیہ:چودھری خادم حسین:

سیاست کے کھیل بھی نرالے ہیں اور یہ کہہ کر مزید انداز پیدا کیا جاتا ہے کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر اور حتمی نہیں ہوتی، شاید یہی وجہ ہے کہ سابق صدر مملکت اور پیپلز پارٹی (پارلیمنٹیرین) کے صدر آصف علی زرداری نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے جواب میں کہ تحریک انصاف سے بھی رابطہ یا اتحاد ہو سکتا ہے انہوں نے کہا عمران خان ہاتھ بڑھائیں تو دیکھیں گے، اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اب کپتان پر منحصر ہے کہ وہ پیپلز پارٹی سے اتحاد کے لئے پیش قدمی کریں، لیکن عمران خان کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں وہ تو ڈاکٹر طاہر القادری کے پاس بھی بعد میں چل کر گئے اور پہلے ڈاکٹر موصوف ہی ان کے کنٹینر پر آئے تھے ، اس کے بعد ہی عمران خان نے ادھر کا چکر لگایا تھا، جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو عمران خان کے معاونین میں سے تو کوئی بھی اتنا بڑا حامی دکھائی نہیں دیتا جو ایسے اتحاد کی وکالت اور سفارش کرے بلکہ اکثریت تو انفرادیت کی قائل ہے، ایک دو ہی راہنما ایسے ہوں گے جو سیاسی تعلق بحال رکھنے کے لئے رضا مند ہوں،ان میں شاہ محمود قریشی کو شامل کیا جاسکتا ہے لیکن اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنی جگہ پیپلز پارٹی کی اصل حریف تو تحریک انصاف ہی ہے کہ جو شاہ محمود قریشی سمیت جیالوں کی بڑی تعداد کو سموئے ہوئے ہے، بہر حال آصف علی زرداری کی بات حکمت سے خالی نہیں یہ بھی دو دھاری تلوار والا مسئلہ ہے کہ دونوں جماعتوں کے تعلقات بہتر ہونے سے حزب اختلاف مضبوط ہو سکتی ہے اور یہ بات مسلم لیگ (ن) کے لئے بھی سگنل بن سکتی ہے کہ اگر تعلقات میں دراڑ آئی تو ایسے کئی راستے کھلے ہیں؟
آصف علی زرداری دوبئی سے واپس آنے کے بعد کراچی میں متحرک رہے، کئی معززین (ایکٹ ایبل) کو پارٹی میں شامل کیا اور پھر اسلام آباد آ کر ڈیرہ جمالیا، کہ کراچی میں ایک ’’ ایکٹ ایبل‘‘ کی شمولیت نے اختلاف پیدا کردیا تھا، صاحبزادیوں نے کھلے بندوں اعتراض کردیا اور بلاول نے بہنوں کی حمائت کردی تھی اس کے بعد نہ صرف ’’مروت‘‘ کی آمدرکی بلکہ آصف علی زرداری نے مزید ایڈونچر سے ہاتھ کھینچ لیا اور اسلام آباد چلے آئے ، یہاں بہت مصروف ہیں اور اپنی تعریف کے مطابق سیاسی حکمت عملی کے تحت سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آصف علی زرداری کی بھرپور سیاسی سرگرمیوں میں پہلی تو کل جماعتی کانفرنس ہی تھی جو حاضری کے اعتبار سے بھرپور تاثر نہ دے پائی کہ متحدہ اور تحریک انصاف شامل نہیں تھی، تاہم انہوں نے فوجی عدالتوں کے حوالے سے حکومت کے سامنے 9نکات پر مشتمل مطالبہ پیش کردیا اب اس کا ’’مثبت‘‘ ردِ عمل سپیکر ایاز صادق کی طرف سے آیا کہ ان نکات میں سے بعض منظور کرلئے گئے ہیں یوں فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے آئینی ترمیم کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے اور توقع ہے کہ بعض ترامیم کے ساتھ توسیع کے لئے آئینی ترمیم منظور کرلی جائے گی۔
پیپلز پارٹی کی ان ساری سرگرمیوں کے دوران بلاول بھٹو زرداری بھی اسلام آباد میں تھے، لیکن منظر عام پر نہیں آئے شاید والد بزرگوار نے ان کو سیاسی سرگرمیوں میں شامل نہیں کیا کہ سیاسی حکمت عملی میں ان کا تجربہ ابھی کم ہے، تاہم بعض حلقے چہ میگوئیاں بھی کررہے ہیں، اور ان کے مطابق بلاول بھٹو کو پس منظر میں رکھا گیا ہے کہ ’’سیاسی ہنر مندی‘‘ زرداری صاحب ہی بہتر طور پر دکھا سکتے ہیں ، اگرچہ بعض حلقے اسے کچھ اور معنی پہنا رہے ہیں، اس کی نشان دہی اس خبر سے کرتے ہیں کہ زرداری ہاؤس اسلام آباد میں رہتے ہوئے بھی وہ والد کے ساتھ شریک نہیں اور اسی بلاول ہاؤس میں سابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے بلاول سے علیحدگی میں ملاقات کی، یہ خبر ریلیز بھی کی گئی، سیانے کہتے ہیں کہ یہ سب کسی نہ کسی امر کی تونشان دہی کرتا ہی ہے ایک معاصر کی خبر کے مطابق تو بلاول بھٹو زرداری آج (جمعہ) لاہور پہنچیں گے اور یہاں تنظیم نو کے حوالے سے شیخوپورہ، ساہیوال اور لاہور ڈویژن کے لئے متوقع امیدواروں کے انٹرویو کریں گے اور تنظیم نو کا فیصلہ ہوگا، اس خبر کے مطابق 13مارچ تک کا شیڈول بنایا گیا اور اگلا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا، بلاول اس بار لاہور میں کچھ زیادہ دن قیام کریں گے ، جیالے خوش ہیں تاہم یہ خبریوں بھی دلچسپ ہے کہ بلاول فی الحال ملکی سیاست سے بالاتر ہے اور اب جماعتی سیاست اور تنظیم سازی شروع کررہے ہیں وہ یہاں ملاقاتیں بھی کریں گے تاہم یہ نہیں بنایا گیا کہ کن حضرات سے ملیں گے، ہر صورت جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود، سیکرٹری شوکت بسرا اور وسطیٰ پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ جنرل سیکرٹری ندیم افضل حسین اور سیکرٹری اطلاعات مصطفی نواز معاونت کریں گے، قمر زمان کائرہ لاہور، اسلام آباد کے درمیان شٹل کاک بھی ہوں گے۔