ٹھٹہ کے جلسے نے سندھ میں نئی انتخابی صف بندی کے امکانات روشن کردیئے

تجزیہ: نصیراحمد سلیمی
 وزیراعظم نواز شریف نے ٹھٹھہ کے شیرازیوں کے علاقے میں عام جلسہ تو بڑا بھرپور کردیا لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ آصف علی زرداری کی اس جارحانہ پیش قدمی کے سامنے مضبوط بند باندھنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو وہ اندرون سندھ کے ان نمایاں سیاستدانوں کو اپنی پارٹی میں شامل کرکے کر رہے ہیں جن کی انتخاب میں کامیابی کا قوی امکان ہے۔ جو حلقے سندھ کی سیاست سے اچھی طرح باخبر نہیں ہیں وہ شاید یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اندرون سندھ پیپلز پارٹی کے سوا کوئی دوسری سیاسی قوت سرے سے موجود ہی نہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے، سندھ میں پیپلز پارٹی کے مقابلے کی سیاسی قوتیں موجود ہیں جو الیکشن میں بھی اپنی قوت کا بھرپور مظاہرہ کرسکتی ہیں اور بعض صورتوں میں جیت بھی سکتی ہیں۔ 2013ء کے الیکشن میں ضلع ٹھٹھہ سے قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی پانچ نشستیں تھیں جن میں سے ایک قومی اور تین صوبائی پر شیرازی گروپ کامیاب ہوا تھا جبکہ قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی کی دو نشستیں پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی تھیں۔ قومی اسمبلی کی حد تک تو پیپلز پارٹی اور شیرازی برابر تھے جبکہ صوبائی میں شیرازی گروپ کا پلڑا بھاری تھا، اب یہی ضلع دو اضلاع میں بٹ چکا ہے نیا ضلع سجاول ہے لیکن نشستیں اتنی ہی ہیں جتنی 2013ء میں تھیں۔ وزیراعظم کے جلسے کیلئے شیرازی برادران نے اپنی قوت کا بھرپور مظاہرہ کردیا ہے، وزیراعظم نے بھی ترقیاتی منصوبوں کیلئے دل کھول کر رقوم کا اعلان کیا ہے۔ اعلان کے مطابق اگر یہ ترقیاتی منصوبے شروع ہوتے ہیں اور اتنی ہی رقوم خرچ ہو جاتی ہیں جن کا اعلان کیا گیا ہے تو اس سے شیرازیوں کی سیاسی پوزیشن زیادہ مستحکم ہو جائے گی اور اگر آصف علی زرداری ضلع ٹھٹھہ کو دو اضلاع میں تقسیم کرکے یہ سمجھ رہے تھے کہ شیرازیوں کی سیاسی قوت بھی بٹ جائے گی تو یہ کوشش بظاہر کامیاب نہیں ہوئی۔ 2013ء کے الیکشن کے بعد مسلم لیگ (ن) نے سندھ کی سیاست میں زیادہ دلچسپی نہیں لی، جس کی وجہ سے اس کے نہ صرف ہارنے والے امیدوار مایوس ہوئے بلکہ جیتنے والوں کو بھی نظرانداز کئے جانے کی شکایت پیدا ہوگئی چنانچہ جو زیادہ مایوس ہوئے وہ پیپلز پارٹی کو پیارے ہوگئے اور جو یہ صدمہ سہار گئے وہ خاموش ہوکر بیٹھ گئے اور مسلم لیگ (ن) کی حمایت میں زیادہ متحرک نہیں رہے۔ عبدالحکیم بلوچ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے، اب وہ پیپلز پارٹی میں واپس جاچکے ہیں۔ 2013ء کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو چار لاکھ چوالیس ہزار ایک سو انتیس ووٹ پڑے تھے، اگر اس میں ان امیدواروں کے ووٹ بھی شامل کرلئے جائیں جن کی مسلم لیگ (ن) نے حمایت کی تھی تو یہ ووٹ 7 فیصد بن جاتے ہیں۔ مسلم لیگ (ف) کا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد تھا جس نے دس لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے، جو دس فیصد ووٹ بنتے ہیں۔ اگرچہ مسلم لیگ (فنکشنل) میں کافی توڑ پھوڑ ہوچکی ہے تاہم ٹھٹھہ کے جلسہ نے سندھ میں نئی انتخابی صف بندی کے امکانات کو روشن کردیا ہے یہ کتنا مؤثر ہوگا اس کا اندازہ ابھی چند دنوں یا ہفتوں کے بعد ہو جائے گا جب پاناما کیس کا فیصلہ منظر عام پر آ جائے گا۔
نئی صف بندی