عدالتوں میں مسلسل شکست کے بعدکیا صدرٹرمپ کا نگرس سے رجوع کریں گے ؟


تجزیہ: قدرت اللہ چودھری
 سات مسلمان ملکوں کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے کے صدر ٹرمپ کے حکم کا اب حتمی فیصلہ سپریم کورٹ میں ہی ہوگا کیونکہ سان فرانسسکو کی اپیل کورٹ نے بھی صدارتی حکم کی معطلی کو برقرار رکھا ہے۔ اب تک یہ معاملہ جس عدالت میں بھی گیا ہے وہیں انتظامیہ کے موقف کو شکست ہوئی ہے، صدر ٹرمپ ان فیصلوں کو سیاسی قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ عدالتیں بھی اب سیاسی ہوگئی ہیں۔ شروع میں جس فیڈرل جج نے صدر ٹرمپ کا حکم معطل کیا تھا انہیں ’’نام نہاد جج‘‘ کہا گیا تھا لیکن کسی انتظامی افسر کے بس میں نہیں کہ وہ جج کے فیصلے کو نافذ ہونے سے روک سکے چاہے وہ نام نہاد ہی کیوں نہ ہو۔ عدالتی فیصلوں کے خلاف اس طرح کے تبصرے عام طور پر تیسری دنیا کے ملکوں میں ہوتے تھے، ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا تھا لیکن غالباً پہلی مرتبہ ہے کہ ایک سپر طاقت کا صدر براہ راست اپنے ٹویٹس میں ایسے تبصرے لکھ رہا ہے جو صدر کے منصب سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔ اگرچہ انتخابی مہم کے دوران بھی ٹرمپ ایسے تبصرے کرتے رہتے تھے جنہیں عامیانہ کہا جاسکتا ہے لیکن اس وقت انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا تھا، پہلے پہل تو یہی سمجھا جا رہا تھا کہ وہ جو کہتے ہیں کہتے رہیں، انہوں نے کون سا ’’صدارتی امیدوار‘‘ نامزد ہو جانا ہے، یعنی صدر منتخب ہونا تو رہا ایک طرف، ان کی صدارتی نامزدگی ہی شکوک و شبہات کی زد میں رہی لیکن وہ اپنی ’’جگت بازیوں‘‘ میں سنجیدہ رہے اور انتخابی مہم آگے بڑھتی رہی یہاں تک کہ وہ ری پبلکن صدارتی امیدوار نامزد ہوگئے، پھر انتخابات کا دن بھی آپہنچا تو انہوں نے یہ کہہ کر صدارتی انتخابات کی ثقاہت پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا کہ وہ ایسے انتخاب کا نتیجہ تسلیم نہیں کریں گے جس میں انہیں صدر منتخب نہ کیا گیا، الیکشن کے دن سارے تجزیئے ان کے خلاف تھے لیکن وہ صدر منتخب ہوگئے اور اب جبکہ وہ انتخابی مہم کے وعدوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں تو پورے ملک میں ہیجان کی کیفیت ہے۔ سات ملکوں کے خلاف ویزوں کی پابندیاں لگانے کے بعد انہوں نے مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی سیاسی و سماجی تنظیم ’’اخوان المسلمون‘‘ کو بھی دہشت گرد قرار دینے کا عندیہ دیا ہے ایک سو سال کے لگ بھگ کی تاریخ رکھنے والی اخوان المسلمون کا سب سے بڑا مرکز مصر ہے اور اس تنظیم نے متعدد مواقع پر اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ ہے، اس کے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا فوج نے تختہ الٹ دیا تھا اور اس کے کئی رہنماؤں کو سزائیں بھی دی گئی تھیں لیکن اس تنظیم پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرنا بڑا مشکل ہے۔ کئی عشرے پہلے یہ تنظیم دہشت گردی کی مذمت کے راستے پر گامزن ہے، انتخابات میں حصہ لیتی ہے اور انتخابات جیت کر ہی اس کا صدر منتخب ہوا تھا۔ مصری فوج کے سربراہ جنرل السیسی نے ان کی حکومت کا تختہ تو الٹ دیا، لیکن مصر اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے ملکوں سے اخوان المسلمون کا اثر و رسوخ ختم کرنا جنرل السیسی کے بس کی بات بھی نہیں کیونکہ یہ تنظیم دعوت و عزیمت کی ایک شاندار تاریخ رکھتی ہے اور اس کے رہنماؤں نے حق و صداقت کا علم بلند رکھا ہے۔ عرب ملکوں میں اس تنظیم کے اثرات گراس روٹ سطح تک ہیں۔ ایسی تنظیم کو دہشت گرد قرار دے کر ٹرمپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ بجا طور پر امریکہ کے اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا ٹرمپ اس مشن پر ہیں کہ پوری دنیائے اسلام یک آواز ہوکر امریکہ کے خلاف ہو جائے؟ اب عدالتوں میں بھی یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ جن سات ملکوں کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے کی پابندی صدر ٹرمپ کے حکم پر لگی تھی اور جسے عدالتیں مسلسل معطل کرتی چلی آ رہی ہیں ان کے شہریوں نے کیا کوئی ایسی کوشش کی کہ امریکہ میں دہشت گردی کی جائے؟ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ میں اب دہشت گردی ہوئی تو اس کے ذمہ دار بھی جج ہوں گے۔ ایسے تبصرے بھی عام طور پر ہمہ مقتدر یا فوجی حکمران کیا کرتے ہیں جن کا خیال ہوتا ہے کہ وہ عقلِ کل ہیں اور عدالتیں ان کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرسکتیں، لیکن امریکہ جیسے ملک میں جہاں صدر، مقننہ اور عدالت کے اختیارات واضح، غیر مبہم اور متعین ہیں اور کوئی ادارہ ایک دوسرے کے اختیارات کی حدود میں ’’ٹریس پاسنگ‘‘ کا کوئی تصور نہیں کرسکتا، وہاں اس طرح کے تبصروں کو سنجیدگی کے منافی تصور کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کے قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کیلئے بہتر راستہ یہی ہے کہ اگر وہ ویزا قوانین سخت کرنا چاہتے ہیں تو نئے سرے سے قانون سازی کریں اور کانگریس سے اس کی منظوری لیں لیکن مسلسل کیس ہارنے کے بعد ٹرمپ اب یہ چاہیں گے کہ ان کی کچھ نہ کچھ فیس سیونگ ہو جائے لیکن جو مقدمہ فیڈرل اور اپیل عدالتوں میں پذیرائی حاصل نہیں کرسکا، سپریم کورٹ میں بھی اس کی کامیابی یقینی نہیں۔ سپریم کورٹ کے آتھ رکنی بنچ کے روبرو اپیل کورٹ کے فیصلے کے خلاف سماعت ہوگی اس میں ضروری ہے کہ آٹھ میں سے پانچ جج فیصلے کے خلاف یا حق میں رائے دیں۔ اگر ٹائی پڑگئی یعنی چار چار جج تقسیم ہوگئے تو اپیل کورٹ کا فیصلہ ہی برقرار رہے گا ایسی صورت میں یا تو ٹرمپ کو پابندیوں کے معاملے پر ہار ماننا پڑے گی یا پھر نئی قانون سازی کیلئے کانگریس سے رجوع کرنا پڑے گا۔ صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز چین کے صدر شی چن پنگ سے ٹیلیفون پر بات کی اور انہیں ’’ون چائنہ پالیسی‘‘ کی حمایت کا یقین دلایا۔ صدر منتخب ہونے کے بعد ٹرمپ نے جب تائیوان کے صدر سے پہلا ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا تو یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ امریکہ شاید ’’ون چائنہ پالیسی‘‘ کے خلاف مؤقف اختیار کرنے جا رہا ہے۔ چینی صدر سے بات چیت میں انہوں نے ایسے خدشات دور کردیئے، دونوں صدور نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے ملک کے دورے کی دعوت بھی دی۔ لگتا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری کا جو خدشہ پیدا ہوگیا تھا وہ ختم ہو جائے گا۔
کانگریس سے رجوع