پشاور زلمی کے کھلاڑیوں کیلئے 2کروڑ کی انعامی رقم خطرے میں پڑگئی


تجزیہ: قدرت اللہ چودھری
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے لاہور کا پی ایس ایل فائنل جیتنے پر پشاور زلمی کے لئے دو کروڑ روپے انعام دینے جو اعلان کی تھا وہ عمران خان کی ناراضی کا باعث بن گیا ہے اور اُنہوں نے اطلاع کے مطابق وزیراعلیٰ سے جواب طلبی ہے کہ اُنہوں نے عوام کے پیسے ایک پرائیویٹ کمپنی کے کھلاڑیوں کو دینے کا اعلان کیوں کیا؟ اگر یہ اطلاع درست ہے تو عین ممکن ہے کھلاڑیوں کو وزیر اعلیٰ نے ٹیم کی جیت پر جس انعامی رقم کا اعلان کیا تھا اب انہیں نہ مل سکے یہ اعلان اس لحاظ سے تو غیر معمولی نہیں تھا کہ پاکستان میں جیتنے والے کھلاڑیوں کی ہر ٹیم کو انعام دینے کی روایت موجود ہے یہاں تک کہ کھلاڑیوں کو بڑے بڑے قیمتی پلاٹوں سے بھی نوازا جاتا ہے، اس لئے اگر پرویز خٹک نے پشاور زلمی کی ٹیم کو انعام دینے کا اعلان کر دیا تھا تو اِس میں کیا بُرائی تھی؟ البتہ اِس نقطہ نظر سے دیکھا جائے کہ عمران خان تو فائنل کے لاہور میں انعقاد کے حق میں بھی نہیں تھے اور اُنہوں نے بڑا سخت بیان دیا تھا کہ یہ پاگل پن ہو گا۔ اِس کے باوجود پنجاب کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ فائنل لاہور ہی میں ہوگا۔ پرویز خٹک اپنے لیڈر کے خیالات سے پوری طرح آگاہ تھے اس کے باوجود انعام کا اعلان کرنے سے پہلے انہیں اپنے لیڈر سے پوچھ لینا چاہیے تھا لیکن اس سے بھی پہلے اُن سے غلطی یہ ہو گئی کہ اُنہوں نے اپنی کابینہ کے تین ارکان کو میچ دیکھنے لاہور بھیج دیا، غالباً وہ خود بھی آنا چاہتے تھے لیکن شاید کسی مصروفیت کی وجہ سے نہ آسکے، البتہ اُن کے شہر کی ٹیم جیت گئی تو سچی بات ہے انعام تو کھلاڑیوں کا حق تھا لیکن اب عمران خان کا یہ نکتہ بھی قابل لحاظ ہے کہ یہ عوام کی رقم ہے، اس لئے پرائیویٹ کھلاڑیوں پر یوں نچھاور نہیں کی جاسکتی، ویسے تو یہ سوال بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے پہلے جو حکمران اور حکومتیں کھلاڑیوں کو نقد انعام اور پلاٹ دیتی رہی ہیں وہ عوام کے پیسے نہیں ہوتے تھے ، کیا وہ رقوم حکمران اپنی جیب سے دیتے رہے؟ جو پلاٹ دئے جاتے ہیں کیا وہ کسی فر واحد کی ملکیت ہو تے ہیں؟ اور صرف کھلاڑیوں پر ہی کیا موقوف ہے یہ جو حکمران اور حکومتیں ہر قسم کے پرائیویٹ اداروں کے لئے گرانٹ کا اعلان کرتی رہتی ہیں کیا وہ عوام کے پیسے نہیں ہوتے، خود عمران خان نے میاں والی میں نمل کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ بنایا ہوا ہے یہ اُسی طرح کا پرائیویٹ تعلیمی ادارہ ہے جس طرح کا پشاور زلمی پرائیویٹ ادارہ ہے اگر کھلاڑیوں کو انعام دینا جائز نہیں تو نمل کو جو زمین دی گئی وہ کیسے جائز ٹھہر گئی، یہ زمین پنجاب حکومت نے دی تھی مزید براں فلاحی اداروں کو جو گرانٹس دی جاتی ہیں وہ بھی تو پرائیویٹ ادارے ہوتے ہیں عمران خان نے اس سے پہلے اپنے وزیر اعلیٰ کو کبھی روکا کہ وہ کسی فلاحی ادارے کو گرانٹ نہ دیں۔
بات یہ نہیں ہے کہ پشاور زلمی پرائیوٹ کمپنی ہے۔ اس لئے کھلاڑیوں کو انعام کا اعلان عمران خان کو پسند نہیں آیا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ خان صاحب نے پی ایس ایل کے بارے میں شروع ہی سے ایک عجیب و غریب رویہ اپنائے رکھا پہلے تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ فائنل لاہور میں ہونا چاہیے۔ ان کا یہ مطالبہ 21فروری کو سامنے آیا، جب لاہور میں خودکش دھماکے کا واقعہ ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھااگر وہ دھماکے کی وجہ سے لاہور کو غیر محفوظ مقام تصور کرتے تھے تو اُن کے مطالبے کی بات سمجھ میں نہیں آتی، بعد میں جب پنجاب حکومت نے فیصلہ کر لیا تو اُنہوں نے حسب عادت یوٹرن لے لیا کہ یہ تو ہے ہی پاگل پن، لیکن پنجاب کی حکومت،پولیس،فوج اور دوسرے سیکیورٹی اداروں نے لاہور ہی کے حق میں فیصلہ دیا، یہاں تک کہ خود آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ فائنل لاہور میں ہوگا اور دہشت گردوں کی واردات کے باوجود ہوگا۔ چنانچہ تمام اداروں نے مثالی نظم و ضبط اور رابطے کے ساتھ زبردست سیکیورٹی انتظامات کئے اور یوں فائنل بخیر و خوبی ہوگیا۔ پی ایس ایل نے بھی ڈھائی ملین ڈالر کما لئے تو غالباََ خان صاحب نے سوچا کہ اس کا کریڈٹ تو اُن کے مخالفوں کی جھولی میں جا گرے گا۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ جو کھلاڑی بیرون ملک سے آئے وہ "پھٹیچر"اور"ریلوکٹے"تھے اور افریقہ سے پکڑ کر لائے گئے تھے۔ وہ چونکہ خود کھلاڑی رہے ہیں۔ اس لئے وہ بہتر سمجھتے ہیں کہ پھٹیچر کون ہوتا ہے اور ریلوکٹا کون لیکن اس پر کھیل کے شائقین کا رد عمل زیادہ خوشگوار نہ تھا۔ ٹیم بھی پشاور کی جیت گئی تھی۔ اس لئے پرویز خٹک نے اس کے لئے انعام کا اعلان کر دیا جس پر خان صاحب معتر ض ہیں۔ اب انہیں چاہیے کہ پرویز خٹک نے وزیراعلی بننے کے بعد جن پرائیویٹ اداروں کو گرانٹیں دی ہیں وہ بھی واپس لیں کیونکہ یہ تو عوام کے پیسے تھے پرائیویٹ لوگوں پر خرچ نہیں ہو سکتے تھے۔ اب لگتا ہے کہ کھلاڑیوں کو انعامی رقم نہیں مل سکے گی۔ویسے عمران خان کو چاہیے کہ وہ نمل یونیورسٹی کے لئے پنجاب حکومت سے لی گئی زمین بھی واپس کر دیں کہ وہ بھی تو عوام کی ملکیت تھی کسی حکمران کی ذاتی جاگیر تو نہیں تھی۔