حدیبیہ پیپر ملز کیس ، شریف فیملی بنچ کی تشکیل پر اعتراض کر سکتی ہے

تجزیہ :۔سعیدچودھری

چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے شریف فیملی کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کیس "ری اوپن "کرنے کے لئے دائر نیب کی اپیل کی سماعت کے لئے جسٹس آصف سعید خان کھوسہ ،جسٹس مظہرعالم میاں خیل اور جسٹس دوست محمد خان پر مشتمل3رکنی بنچ تشکیل دے دیا ہے جو13نومبرکو اس کیس کی سماعت کرے گا ۔لاہور ہائی کورٹ کے 2014ء میں دیئے گئے فیصلے کے خلاف نیب نے یہ اپیل 20ستمبر کودائر کی تھی جبکہ قانون کے تحت یہ اپیل 11جون 2014ء سے قبل دائر ہونا چاہیے تھی ۔شریف فیملی کی طرف سے اپیل کے زائدالمعیاد ہونے کا اعتراض لازمی طور پرعدالت میں اٹھایا جائے گا۔سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اور ان کی اولاد کے خلاف پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے 5رکنی لارجر بنچ نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس خارج کرنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کا نوٹس لیا تھا اور اس بابت اس وقت کے چیئر مین نیب چودھری قمر الزمان کی جواب طلبی بھی کی تھی ،بعدازاں اس کیس کی سماعت کے دوران نیب کی طرف سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ لاہور ہائی کورٹ کے 11مارچ2014ء کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی جائے گی ۔پاناما لیکس کیس کا فیصلہ آنے کے بعد ایسی خبریں بھی سامنے آئیں کہ مبینہ طور پر ایک اعلیٰ عدالتی شخصیت نے اپیل دائر نہ کرنے کا سخت نوٹس لیا ہے ۔سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران عدالت کے دائرہ اختیارسمیت وزیراعظم نواز شریف اور دیگر مدعا علیہان کی طرف سے وہ اعتراضات نہیں اٹھائے گئے جو عام طور پر ایسے مقدمات میں اٹھائے جاتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں بہنوں او ربیٹیوں کی شادیاں اور طلاقیں مستقل دوستیوں اور دشمنیوں کا باعث بنتی ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے شادیوں اور طلاقوں کے شوق کے پس منظر میں بھی کوئی اعتراض ڈھونڈا جا سکتا تھا۔وزیراعظم سمیت شریف فیملی نیک نیتی ثابت کرنے کے چکر میں رہی اور مقدمہ میں اپنے دفاع کے کئی مواقع گنوا بیٹھی تاہم اس وقت میاں محمد نوازشریف اور مسلم لیگ (ن) نے جو رویہ اختیار کررکھا ہے ،اس کے بعد اس بات کی قوی امید ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس ری اوپن کرنے سے متعلق نیب کی اپیل کی سماعت کے لئے تشکیل دیئے گئے بنچ پر بھی اعتراض کیا جائے گا ۔اس 3رکنی بنچ کے سربراہ پاناما لیکس کیس کا فیصلہ کرنے والے 5رکنی بنچ کے بھی سربراہ تھے اور اس 5رکنی بنچ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کا نوٹس لیا تھا اور نیب سے اپیل دائر کرنے کی بابت یقین دہانی حاصل کی تھی جبکہ قانونی طور پر رٹ جیورسڈکشن میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف 90روز کے اندر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنا ضروری ہے ۔یہ اپیل لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے 3سال 6ماہ اور7دن بعد دائر کی گئی ہے ۔اگر کسی وجہ سے اپیل دائر نہ ہوسکے تو زائد المعیاد ہر ایک دن کا جواز پیش کرنا ضروری ہے کہ اس روز یہ اپیل دائر کیوں نہ ہوسکی جس کے بعد سپریم کورٹ اپیل کو قابل شنوائی قرار دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتی ہے ۔تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ پر اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران 5رکنی بنچ کے سربراہ کی حیثیت سے وہ پہلے ہی اپنی سوچ ظاہر کرچکے ہیں ۔اس پانچ رکنی بنچ نے حدیبیہ پیپر ملز کیس میں اپیل دائر نہ کرنے پر نیب کے چیئرمین کی گوشمالی بھی کی تھی ۔شریف فیملی کی طرف سے بنچ کے سربراہ پر اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ پاناما لیکس کیس میں حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کا معاملہ عدالت کے سامنے نہیں تھا اس کے باوجود حدیبیہ پیپرملز کیس میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کا نوٹس لیا گیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ فاضل جج کس نہج پر سوچ رہے ہیں،اس لئے مناسب ہوگا کہ وہ اس تین رکنی بنچ میں نہ بیٹھیں۔جسٹس آصف سعید خان کھوسہ خود بھی کیس کی سماعت سے خود کو الگ کرسکتے ہیں تاہم اس کا امکان اس لئے کم ہے کہ عام طور پر اعلیٰ سطح کے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچ کی تشکیل سے قبل چیف جسٹس متعلقہ ججوں سے رائے لیتے ہیں اورسماعت سے بوجوہ معذوری ظاہر کرنے والے ججوں کو ایسے بنچ میں شامل ہی نہیں کیا جاتا۔حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس 2000ء میں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں قائم کیا گیا تھا جس میں میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے علاوہ ان کے والدین اور خاندان کے دیگر افراد بشمول خواتین کو بھی ملزم نامزد کیا گیا تھا ،دسمبر2000ء میں شریف خاندان کی جلا وطنی کے بعد یہ ریفرنس داخل دفتر کردیا گیا تھا اور عدم شہادتوں کے باعث اس کی تفتیش روک دی گئی تھی۔یہ ریفرنس موجودہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے بیان کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا جوانہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے 25اپریل 2000ء کو دیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ 1990ء کی دہائی میں حدیبیہ پیپر ملز کو شریف خاندان نے منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کیا اس بابت قاضی فیملی کا نام بھی سامنے آیاتھا۔بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں بھی حدیبیہ انجینئرنگ اور حدیبیہ پیپر ملز کے حوالے سے شریف فیملی کے خلاف مقدمہ بنایاگیا تھا جس میں میاں شریف اور اس خاندان کے دیگر افراد کا نام بطور ملزم شامل کیا گیا تھا،اس مقدمہ میں میاں محمد شریف کو گرفتار بھی کرلیا گیا تھا تاہم اس مقدمہ میں میاں محمد نوازشریف کوملزم نامزد نہیں کیاگیا تھا۔بے نظیر بھٹو کے دور میں بننے والا یہ مقدمہ بھی لاہور ہائی کورٹ نے ختم کردیا تھا۔میاں محمد نوازشریف اور شریف خاندان کی جلا وطنی کے بعد اسحاق ڈار کی طرف سے کہا گیا کہ یہ بیان مشرف حکومت نے دباؤ ڈال کر حاصل کیا تھا۔2007ء میں میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد داخل دفتر کئے گئے اس ریفرنس کو ری اوپن کرنے کی کوششیں شروع ہوگئیں۔18اکتوبر 2011ء کو میاں محمد نواز شریف کی والدہ شمیم اختر اوردیگرکئی ملزموں نے اس ریفرنس کو بدنیتی ،عدم شہادتوں،بلاجوازاور سیاسی انتقام کی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا اور پہلی ہی پیشی پرلاہور ہائی کورٹ نے اس ریفرنس کے حوالے سے نیب کو کارروائی سے روک دیا ،اس کیس کی سماعت مسٹر جسٹس خواجہ امتیاز احمد اور مسٹر جسٹس فرخ عرفان خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کی۔دونوں ججوں نے یہ ریفرنس خارج کرنے کا حکم جاری کردیا تاہم مسٹرجسٹس خواجہ امتیاز احمد نے ریفرنس خارج کرنے کا حکم دینے کے ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی دیا کہ نیب کے پاس اگر شہادتیں موجود ہیں تو وہ اس معاملے کی دوبارہ انکوائری کرسکتا ہے جبکہ جسٹس فرخ عرفان خان نے قرار دیا کہ ریفرنس خارج ہونے کے بعد دوبارہ انکوائری نہیں ہوسکتی۔انکوائری کی حد تک ڈویژن بنچ کے اختلاف کے باعث یہ معاملہ ریفری جج کو بھیج دیا گیا ،فاضل ریفری جج نے نہ صرف ریفرنس خارج کرنے سے متعلق ڈویژن بنچ کے فیصلے سے اتفاق کیا بلکہ اپنے 11مارچ 2014ء کے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا کہ ریفرنس خارج ہونے کے بعد نیب کو دوبارہ معاملے کی تحقیقات کا اختیار حاصل نہیں ہے ،جس کے بعد27مئی 2014ء کو ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل محمد اکبر تارڑ نے تحریری طور پراپنی قانونی رائے دی کہ لاہور ہائی کورٹ کے 3ججوں کا حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس خارج کرنے پر اتفاق ہے اور اس بابت ان کا تفصیلی فیصلہ موجود ہے ،ان کی طرف سے قانونی طور پر نیب کے کمزور ہونے کی بنا ء پر اپیل دائرنہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ،پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ نے چیئر مین کے نام تحریری نوٹ میں یہ بھی کہا کہ اس کیس کے ایک ملزم میاں محمد شریف انتقال کرچکے ہیں ،اگر 15سال بعد اس معاملہ کی دوبارہ تحقیقات کی گئیں تو یہ کارروائی نیب کے لئے بدنامی کا باعث بنے گی اور اسے انتقامی کارروائی سے تعبیر کیا جائے گا۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر کی قانونی رائے سے اس وقت کے پراسیکیوٹر جنرل کے۔کے آغا (موجودہ جج سندھ ہائی کورٹ )نے اتفاق کیا اور اسے منظوری کے لئے اس وقت کے چیئرمین نیب چودھری قمرالزمان کو بھیج دیا۔اس قانونی رائے کی روشنی میں چیئرمین نیب نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کا حکم صادر کیا۔لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کے باعث قانونی طور پر بظاہر حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کا باب بند ہوچکا تھا تاہم یہ ایشو پاناما لیکس کیس میں سامنے آنے کی بناء پر نیب کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی فل بنچ کے سامنے اپیل دائر کرنے کی یقین دہانی کروانا پڑی ۔نیب نے اس بنا پر بھی پیل دائر نہیں کی تھی کہ ایک ملزم میاں محمد شریف انتقال کرچکے ہیں ،اب تو اس کیس کے اور دوسرے ملزم میاں عباس شریف بھی اس دنیا میں نہیں ہیں جبکہ ایک ملزمہ لندن میں اپنی زندگی کی بقاء کے لئے کینسر سے نبر د آزما ہیں ۔حالات و واقعات سے واضح ہورہا ہے کہ نیب نے یہ بند باب سپریم کورٹ کے کہنے پر دوبارہ کھولا ہے ،اب اگر یہ کیس دوبارہ کھلوانے کے لئے نیب کواپیل دائر کرنے کے لئے مجبورکرنے والے پانچ رکنی بنچ کے سربراہ نیب کی اس پیل کی سماعت کرنے والے تین رکنی بنچ کی سربراہی کرتے ہیں تو اس پر شریف فیملی کا سوال اٹھانا غیر منطقی نہیں ہوگا۔