’’سزا خطائے نظر سے پہلے ‘‘کھلاڑیوں کو سزا دے دی گئی ،تحقیقات بعد میں ہوں گی ؟

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری
پاکستان سپر لیگ کے دوران بک میکروں سے مشکوک رابطوں پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے دو کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف کو معطل کرکے وطن واپس بھیج دیا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ بورڈ نے سزا تو پہلے سنا دی ہے اور تحقیقات اب ہو ں گی، فیض احمد فیض یاد آئے جنہوں نے بہت پہلے کہا تھا، ع
سزا خطائے نظر سے پہلے، عتاب جرم سخن سے پہلے
کرکٹ بورڈ نے پانچ مزید کھلاڑیوں کو واچ لسٹ پر رکھا ہے، تو سوال یہ ہے کہ جن کھلاڑیوں کو واپس بھیجا گیا ہے کیا انہیں تحقیقات کے عرصے کے دوران واچ لسٹ میں نہیں رکھا جاسکتا تھا؟ اور انہیں عجلت میں سزا سنانا ضروری تھا؟ جس پھرتی کے ساتھ سزا سنائی گئی اس میں کرکٹ کا کیا مفاد پوشیدہ ہے؟ اگر سزا سنانے میں کچھ تاخیر ہو جاتی تو کیا آسمان گر پڑتا؟ اور اگر سزا سنانا اتنا ہی ضروری تھا تو کم از کم بک میکروں کے نام تو منظر عام پر لائے جاتے تاکہ پتہ چلتا کہ اس ساری سازش کا مقصد کہیں پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچانا تو نہیں تھا؟ ماضی میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچانے کیلئے بھارت طرح طرح کی سازشیں کرتا رہا ہے، اب بھی یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کہیں اس سارے کھیل کے پیچھے بھارت تو نہیں ہے؟ پاکستان کے کھیل کے میدانوں کو ویران کرنے کیلئے بھارت ماضی میں کیا کچھ نہیں کرتا رہا، اس لیے بعید نہیں کہ اب بھی بھارت ہی پس منظر میں بیٹھ کر ڈوریاں ہلا رہا ہو اور ایک بار پھر پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچانے کیلئے نکل کھڑا ہوا ہو۔ چند روز پہلے نجم سیٹھی نے کہا تھا کہ عین ممکن ہے سپر لیگ کا فائنل پاکستان میں ہو۔ یہ خوش خبری کی بات تھی جو بہت سے ان لوگوں کو ہضم نہیں ہوئی ہوگی جنہوں نے اپنے تئیں پاکستان کے کھیل کے میدان ہمیشہ کیلئے ویران کردیئے تھے‘ اب جب انہیں یہ ویرانی ختم ہوتی ہوئی نظر آتی تو انہوں نے وہی پرانا حربہ آزما لیا اور دو کھلاڑیوں کے بکیوں کے ساتھ رابطے ظاہر کردیئے۔ ہم اس وقت یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں کہ جن دو کھلاڑیوں کو واپس بھیجا گیا ہے وہ کوئی معصوم تھے یا ان کے بکیوں کے ساتھ رابطے نہیں تھے، ضرور ہوں گے لیکن اسی بات کی تو تحقیقات ہونی ہیں، تحقیقات سے پہلے انتہائی سزا تو دے ڈالی گئی، کیا اس سے کم سزا ممکن نہیں تھی؟ اگر پانچ کھلاڑیوں کو واچ لسٹ پر رکھا گیا تھا تو ان دونوں کو بھی اسی فہرست میں شامل کرلیا جاتا، اب اگر سزا دے ہی ڈالی گئی ہے تو پھر تحقیقات کس بات کی ہو رہی ہے؟ اس سارے معاملے کو خود کھلاڑیوں نے بھی مشکوک اور پراسرار بنا دیا ہے جو چپ چاپ گھر لوٹ آئے ہیں، انہیں اپنا موقف سامنے لانا چاہئے تھا، اگر تو وہ قصور وار ہیں تو بھی بہادروں کی طرح اپنا قصور تسلیم کریں اور ان لوگوں کے نام بھی بتا دیں جن سے انہوں نے پیسے لیے ہیں اور اگر وہ کسی سازش کا آلۂ کار بنے ہیں تو بھی سازشیوں اور سازش میں ملوث کرداروں کے نام سامنے آنے چاہئیں۔ بظاہر تو یہ عجیب رویہ ہے کہ پیسے لینے والوں کو تو سزا دیدی گئی اور دینے والوں کا نام تک نہیں لیا جا رہا، خود دبئی میں موجود میڈیا بھی منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھا ہے جو چھوٹی چھوٹی باتوں کو گلاسی فائی کرکے پیش کرتا ہے، اس معاملے میں میڈیا کی خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ وہ بھی سپانسروں کے یا تو دباؤ میں ہے یا ان کے مفادات کا محافظ ہے۔ دبئی میں سپورٹس صحافیوں کا جو مجمع لگا ہے کیا ان کا فرض نہیں ہے کہ وہ حقائق سامنے لائیں؟ ہم یہ نہیں کہتے کہ کھلاڑی قصور وار نہیں ہیں یا انہوں نے بکیوں سے ملاقاتیں نہیں کیں لاہور میں بیٹھ کر یہ بات نہیں کہی جاسکتی کہ انہوں نے پیسے نہیں لئے۔ وہ قصور وار ہیں تو بھی سارے معاملے کو سامنے آنا چاہئے اور اگر انہیں کسی نے خاموش کردیا ہے یا وہ خود مصلحتاً خاموش ہوگئے ہیں تو بھی میڈیا کا فرض ہے کہ وہ غیر جانبداری کے ساتھ ساری کہانی منظرعام پر لائے۔ میڈیا اگر بورڈ کے زیر اثر آکر خاموشی اختیار کرے گا تو اس سے بہت سی نئی کہانیاں بھی جنم لیں گی اور معاملہ زیادہ دنوں تک نہیں دبا رہے گا۔ کیا اس سازش کا مقصد کہیں اسلام آباد کی ٹیم کو شکست سے دوچار کرنا تو نہیں جو ان دونوں کھلاڑیوں کے ٹیم سے باہر ہوتے ہی آج ہار گئی جو کل تک جیت رہی تھی۔ دبئی میں موجود میڈیا کو ان سب باتوں کو منظرعام پر لانا چاہئے۔
کہا جاتا ہے کہ شرجیل خان کے ساتھ ڈیل کرنے والا بکی کوئی غیر ملکی نہیں بلکہ پاکستانی ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے کسی بڑے نقصان سے بچنے کیلئے خود کارروائی کی اب انکوائری کی جائے گی اور کھلاڑیوں کو صفائی کا موقعہ دیا جائے گا لیکن انکوائری تو سزا سنائے جانے سے پہلے ہونی چاہئے تھی۔ یہ فرض کرکے سزا دی گئی ہے کہ جرم ہوا ہے بہرحال اس سے ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کی ساکھ ضرور مجروح ہوئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا تحقیقات کے بعد کھیل اور دونوں کھلاڑیوں کی ساکھ بحال ہوگی یا نہیں؟
سزا خطائے نظر سے پہلے