غیر ملکی مغیوں کی بازیابی پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا مثبت لمحہ

تجریہ: قدرت اللہ چودھری

جو لوگ پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ پر نظر رکھتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ یہ ہمیشہ ہموار سمت میں سفر نہیں کرتے رہے۔ یہ امریکی اصطلاح میں رولر کوسٹر کا سفر کہا جاسکتا ہے جس میں اونچ نیچ بھی آتی رہتی ہے۔ تعلقات کبھی ڈھلوان کی جانب لڑھک جاتے ہیں اور کبھی بلندی کی طرف چڑھنا شروع کردیتے ہیں، ویسے بھی قوموں کے تعلقات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ حالات کے تقاضوں کے مطابق کبھی ان میں گرمجوشی آجاتی ہے تو کبھی سرد مہری، گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اگر تعلقات نیچے کی جانب لڑھک گئے تھے تو ایک ہی واقعہ کے بعد ان میں بہتری کے امکانات بھی پیدا ہوگئے ہیں، پاکستان کے سلامتی کے اداروں نے کینیڈا کے مغوی صحافی، ان کی امریکی بیوی اور بچوں کو جس انداز میں بازیاب کرایا ہے اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے کردار کو سراہنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا، پچھلے دنوں نئی افغان پالیسی اور صدر ٹرمپ کی ایک جذباتی تقریر کے بعد یہ حالات میں ایک خوشگوار موڑ اور مثبت لمحہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ میاں بیوی پانچ سال پہلے افغانستان میں اغوا ہوئے تھے اور اب تک طالبان کی تحویل میں تھے، جمعرات کو چار بچے کے قریب پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو اطلاع ملی کہ طالبان ان مغویوں کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس اطلاع پر کارروائی کرکے پاکستان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے دونوں میاں بیوی اور ان کے بچوں کو بازیاب کرالیا، جس پر وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری طور پر اظہار مسرت کیا اور پاکستانی اداروں کی کارکردگی کو سراہا، یہ کامیابی انٹیلی جنس شیئرنگ اور بروقت مفید اطلاع ملنے کی وجہ سے ممکن ہوئی اور یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ اداروں کے تعاون کا نتیجہ مثبت نکلتا ہے اور بدگمانی کی بنیاد پر کی جانے والی الزام تراشی سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ بات بھی پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ اگر امریکہ اور پاکستان اس شعبے میں تعاون سے آگے بڑھیں تو مزید کامیابیاں بھی حاصل ہوسکتی ہیں۔ دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان نے اب تک جو کردار ادا کیا ہے وہ اتنا نمایاں اور روشن ہے کہ اسکی تعریف کئے بغیر چارہ نہیں۔ امریکہ کے اندر بہت سے حلقے پاکستان کے اس کردار کے نہ صرف معترف ہیں بلکہ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی میں کچھ بھی نیا نہیں، بعض حلقے تو اس کو اس فرسٹریشن کا حاصل خیال کرتے ہیں جو امریکہ کو افغانستان میں ناکامی کی وجہ سے لاحق ہوئی۔
حسنِ اتفاق ہے کہ امریکی نائب وزیر خارجہ لیذا کرئس کی سربراہی میں امریکی وفد نے جس میں امریکی سفیر ڈیوڈ ھیل بھی شامل تھے راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا وفد نے آرمی چیف کو جنوبی ایشیاء سے متعلق امریکی پالیسی پر بریفنگ دی۔ ملاقات میں خطے میں امن اور پاکستان کا کردار بھی زیر بحث آیا۔ آرمی چیف نے وفد کو بتایا کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پاکستان نے خطے میں امن کیلئے بہت کچھ کیا اور ہم پاکستانی عوام کے عزم کے مطابق خطے میں امن کے لئے کردار ادا کرتے رہیں گے۔
چند روز قبل وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردوں کے کوئی ٹھکانے نہیں اور نہ ہی پاکستان کے اندر کوئی ایسے دہشتگرد موجود ہیں جو افغانستان میں کارروائیاں کررہے ہوں اور اگر امریکہ کے پاس ایسے کسی دہشتگرد کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو اسے پاکستان کے علم میں لایا جائیگا۔ تو کارروائی بھی ہوگی اور اس کا مثبت نتیجہ بھی نکلے گا۔ یہ تو اتفاق سے مغویوں کا معاملہ تھا اگر امریکی انٹیلی جنس دہشتگرد گروہوں کے متعلق بھی کوئی معلومات سامنے لاتی ہے تو اس کا بھی اچھا نتیجہ نکلے گا۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اس واقعہ کے بعد ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور امریکہ کا مقصد ایک ہی ہے دونوں اس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
2016ء میں اس مغوی جوڑے کی ایک وڈیو منظرِ عام پر آئی تھی جس میں انہوں نے خیال ظاہر کیا تھا کہ طالبان کی حراست کے دوران ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں اور کوئی کرشمہ ہی ان کی زندگیوں کو محفوظ رکھ سکتا ہے، آج ڈیڑھ سال کے بعد یہی کرشمہ رونما ہوگیا اور یہ جوڑا اپنے بچوں سمیت حفاظت کے ساتھ بازیاب کرالیا گیا۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو بھی ایک نئی نہج پر استوار کردے گا، اور تعلقات میں جو خرابی در آئی تھی یہ اس کو دور کرنے کا باعث بھی بنے گا۔ جو مغوی بازیاب ہوئے ہیں امریکی انٹیلی جنس ادارے 2012ء سے ان کی تلاش میں تھے اور انہیں کامیابی نہیں ہورہی تھی تاہم 11 اکتوبر کو امریکی خفیہ ادارے نے پاکستان کو مطلع کیا کہ مغویوں کو قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے راستے افغانستان سے پاکستان منتقل کیا جارہا ہے، یہ اطلاع مفید اور قابلِ عمل ثابت ہوئی اور آپریشن کرکے مغویوں کو بازیاب کرالیا گیا۔
مثبت لمحہ