سیکیورٹی کے حصار میں رہ کر تیسری سیاسی قوت تشکیل دینے کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا


تجزیہ: قدرت اللہ چودھری
سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف جب سے محروم اقتدار ہوئے ہیں انہیں یہ فکر لاحق ہے کہ ملک میں کوئی تیسری سیاسی قوت نہیں ہے اس لئے وہ اس قوت کا خلا پُر کرنے کیلئے کوششیں کرتے رہتے ہیں لیکن اب تک کوئی تیسری قوت ابھر کر سامنے نہیں آسکی، تحریک انصاف کو اگر تیسری قوت کہا جائے تو وہ ناراض ہو جاتی ہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ تیسری قوت کے بغیر جب بھی انتخابات ہوں گے نتیجہ کم و بیش وہی رہے گا جو 2013ء کے انتخابات میں نکلا تھا۔ لیکن جنرل (ر) پرویز مشرف کے خیال سے پیپلز پارٹی کو اتفاق ہے نہ تحریک انصاف کو، دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ اگلے وزیراعظم کا تعلق ان کی جماعت سے ہوگا بلکہ بلاول بھٹو زرداری تو یہ تک کہہ چکے ہیں کہ وہ اگلے وزیراعظم ہوں گے اور ان کے والد صدر کا عہدہ سنبھالیں گے اگر ایسا ہوا تو یہ بھی عالمی ریکارڈ ہوگا۔ تحریک انصاف نے البتہ یہ مہربانی کی ہوئی ہے کہ وہ عمران خان کو اگلا وزیراعظم تو سمجھتی ہے لیکن صدر کا عہدہ تاحال انہوں نے کسی کو الاٹ نہیں کیا۔ اس ماحول میں جب وزارت عظمیٰ کے دو مضبوط امیدوار موجود ہیں مسلم لیگ (ن) بھی یہ سمجھتی ہے کہ اگلا انتخاب وہی جیتے گی، لیکن جنرل (ر) پرویز مشرف تیسری قوت بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ دبئی میں ان کا مستقل قیام ہے، امریکہ اور یورپ بھی آتے جاتے رہتے ہیں۔ جن سیاسی رہنماؤں سے ملنا چاہتے ہیں یا جو سیاستدان ان سے ملاقات کے خواہاں ہوتے ہیں وہ تین گھنٹے کی فلائٹ کے بعد دبئی پہنچ جاتے ہیں، تبادلۂ خیال ہوتا ہے، اتحاد کی بات ہوتی ہے، مسلم لیگوں کو متحد کرنے کا تذکرہ بھی ہوتا ہے، سیاسی اتحاد بنانے کے معاملے پر بھی غور و خوض ہوتا ہے لیکن پھر تان اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ متحدہ مسلم لیگ کا سربراہ کون ہو اور اگر سیاسی اتحاد بنے تو اس کی سربراہی کا تاج کس کے سر پر سجایا جائے۔ دبئی میں سندھ کے سابق گورنر عشرت العباد بھی رہتے ہیں جو عہدے سے سبکدوش ہوکر کہیں رکے بغیر دبئی چلے گئے تھے، اب بھی وہیں سیاسی اور غیر سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آصف علی زرداری بھی دبئی میں ہیں گویا یہ کہا جاسکتا ہے کہ دو سابق صدور اور ایک سابق گورنر دبئی میں مستقل موجود ہیں، بہت سے سابق وزیر بھی آتے جاتے رہتے ہیں اس لئے سیاسی تبادلۂ خیال تو ہوتا رہتا ہے لیکن کبھی شاید دونوں سابق صدور کی ملاقات نہیں ہوئی۔ تیسری سیاسی قوت کا تصور سیاسی طور پر بہت اچھا ہے لیکن اس کیلئے عملاً تبھی کچھ ہوسکتا ہے جب جنرل (ر) پرویز مشرف پاکستان کے اندر موجود ہوں گے، یہاں سیاسی طور پر متحرک ہوں اور انہیں بھی متحرک کریں جنہیں وہ تیسری سیاسی قوت کے اندر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ ایک تو پاکستان کے اندر بہت سی عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہیں اور انہیں خوف ہے کہ اگر وہ پاکستان آئے تو گرفتار ہو جائیں گے۔ اپنے اس خوف کو وہ سکیورٹی کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انہیں وزارت داخلہ پر اعتماد نہیں، وزارت دفاع کو انہیں سکیورٹی دینی چاہئے حالانکہ جب وہ پاکستان میں تھے اور یہاں چند بار انہیں عدالتوں میں پیش ہونا پڑا تھا تو کیمرے شاہد ہیں کہ انہیں بھرپور سکیورٹی دی گئی تھی، ویسے بھی وہ صدر رہے ہیں، آرمی چیف رہے ہیں سکیورٹی ان کا حق بھی ہے لیکن اس معاملے میں بظاہر کبھی کوتاہی نہیں دیکھی گئی۔ وہ جہاں بھی گئے بھرپور سکیورٹی کے حصار میں رہے، کوئی رخنہ ان کی سکیورٹی میں کبھی نہیں دیکھا گیا، بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہیں اس وقت سے بھی زیادہ فول پروف سکیورٹی میسر رہی جب وہ صدر کے عہدے پر فائز تھے۔ جب وہ صدر تھے، ان کی گاڑی سے بارودی گاڑی ٹکرانے کا واقعہ ہوچکا تھا، جس کا تذکرہ انہوں نے ’’ان دی لائن آف فائر‘‘ میں کیا ہے، وہ بتاتے ہیں کہ ان کی گاڑی کے ٹائر بارود سے اڑ گئے اور گاڑی ’’رموں‘‘ پر چل کر آرمی ہاؤس پہنچی۔ بطور صدر ان پر اور بھی کئی حملے ہوچکے تھے تبھی انہیں اپنی کتاب کا نام ’’ان دی لائن آف فائر‘‘ رکھنا پڑا، اب جو صدر حملوں سے محفوظ نہیں تھا بطور سابق صدر تو اسے زیادہ خدشات لاحق ہوسکتے ہیں غالباً اسی لئے وہ سکیورٹی کے سلسلے میں بہت حساس ہیں البتہ انہیں سکیورٹی مہیا کرنے والوں کی داد دینی چاہئے کہ جب تک وہ پاکستان میں رہے وہ جہاں کہیں بھی گئے محفوظ و مامون رہے کسی نے ان کی ہوا کی جانب نہیں دیکھا لیکن لگتا ہے انہیں کوئی انجانا خوف لاحق ہے جس کی وجہ سے ہر وقت سکیورٹی کا ذکر لے کر بیٹھ جاتے ہیں ایسے میں ان کا سیاست کرنا تو بہت مشکل ہے کیونکہ سیاستدانوں کو تو عوام میں گھلنا ملنا پڑتا ہے، ان کے مداحین بھی بسا اوقات سکیورٹی کا حصار توڑ دیتے ہیں۔ بے قابو اور جذباتی ہجوم بھی اپنے محبوب لیڈر کی جانب بڑھتا ہے، اب اگر جنرل (ر) پرویز مشرف محبوبیت کے اس مقام پر فائز ہوگئے جب لوگ بے قابو ہوکر اپنے لیڈر کی قربت چاہتے ہیں تو خوفزدہ جنرل اس صورتحال میں خود پر کیسے قابو رکھیں گے لیکن اگر وہ تیسری قوت بننا اور اس کیلئے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں تو پھر یہ کام سکیورٹی کے اندر رہ کر نہیں باہر نکل کر کرنا پڑے گا بصورت دیگر وہ اس خیال کو ذہن سے جھٹک دیں تو زیادہ بہتر ہے۔