افغان حکومت سے جماعت الاحرار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ ،بمبار افغانستان سے آئے


تجزیہ، چودھری خادم حسین

کوئٹہ سے لاہور، پشاور اور مہمند ایجنسی تک خود کش حملوں اور بم دھماکوں سے درجنوں جانیں قربان ہوئیں اور سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔حکومتِ پاکستان کے دفتر خارجہ نے افغان نائب سفیر کو طلب کر کے احتجاج اور مطالبہ کیا کہ افغان حکومت جماعت الاحرار کے خلاف کارروائی کرے، جس کے بمبار افغانستان سے آ کر پاکستان کے اندر دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یہ احتجاج ہوا ہے تو اسی عرصہ میں پاکستان، افغانستان اور اقوام متحدہ کے نمائندے کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں جس کے تحت لاکھوں افغان مہاجر دسمبر تک پاکستان میں رہ سکیں گے۔ یہ معاہدہ یا قیام میں توسیع انسانی ہمدردی کے تحت کی گئی جو قانوناً رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے لئے ہے جو تین دہائیوں سے زیادہ یہاں مقیم ہیں۔ مقیم کہنا تو عجیب لگتا ہے وہ تو یہاں بس چکے، ان کی دو نسلیں یہاں پروان چڑھی ہیں اور ہم رجسٹر مہاجرین ہی گنتے رہتے ہیں،ہماری گنتی میں تو یہ رجسٹرڈ حضرات ہی آتے ہیں،لیکن جو حضرات غیر قانونی طور پر آ کر پاکستان میں کاروبار کر رہے ہیں، بڑی بڑی جائیدادوں کے مالک ہیں اور جن کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہیں اور وہ یوں پاکستانی شہری ہیں ان کا حساب کون کرے گا، کچھ عرصہ ہوا جب وزیر داخلہ کی ہدایت پر نادرا نے شناختی کارڈ بلاک کئے تھے اس پر تو مولانا فضل الرحمن اب تک احتجاج کر رہے ہیں اور حکومت سُن بھی رہی ہے۔
ایک طرف یہ صورتِ حال ہے تو دوسری طرف لاہور میں خود کش حملہ کے بعد جہاں دو سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا وہاں درجنوں مشکوک افراد بھی پکڑے گئے ہیں ان میں چار افغان باشندے بھی ہیں، اسی روشنی میں اب پاکستانی عوام نے مطالبہ شروع کر دیا کہ افغان مہاجرین کو اب واپس جانا چاہئے اور جو غیر قانونی ہیں یا جعلسازی سے قومی شناختی حاصل کر چکے ہیں ان کو تلاش کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔لاہور دھماکے کے بعد سے سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ باقاعدگی سے شروع ہو گیا اور تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے،لیکن حکومت کی طرف سے توسیع کے معاہدے پر دستخط کر دیئے گئے ہیں تاہم یہ معاہدہ غیر قانونی طور پر آنے اور رہنے والوں کو پکڑ کر ان کے خلاف کارروائی سے تو نہیں روکتا۔
افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی تو تھے ہی بھارت کے حمائتی،لیکن موجودہ صدر اشرف غنی تو ان سے بھی بڑھ گئے ہیں،جنہوں نے مودی کے ساتھ کھڑے ہو کر پاکستان کے خلاف الزام تراشی کی اور اب بھی تہمت سے گریز نہیں کرتے، ایسے میں عوام بجا طور پر یہ پوچھتے ہیں کہ اتنے بڑے نقصان کے بعد صرف یہ عمل کافی ہے؟
سنجیدہ فکر اور اہل الرائے حضرات کا کہنا ہے کہ ہمارے سیاسی رہنماؤں کو تفکر سے کام لینا چاہئے۔ ہماری مشرقی اور اب شمال مغربی سرحدیں غیر محفوظ ہو گئی ہیں، ایسے میں سخت اقدامات کی ضرورت ہے اور اس کے لئے قومی اتفاق رائے اور ملی اتحاد کی ضرورت ہے۔ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں مُلک کو درپیش خطرات پر بھی مل بیٹھ کر مشاورت نہیں ہوسکتی اور ہر روز پانامہ پانامہ کھیلتے رہتے ہیں، کیا اب بھی کوئی اور بڑا حادثہ مل بیٹھنے پر مجبور کرے گا؟حکمران کیوں نہیں سوچتے کہ اقتدار یا حکمرانی کے لئے مُلک کی ضرورت ہے اور یہ ہے تو سب کچھ ہے، پھر کیوں نہیں ایسا ماحول بنایا جاتا کہ دُنیا کو مثبت پیغام جائے۔ حکومت سے اب تو گول میز کانفرنس کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، تاخیر مناسب نہیں!
بھارت کی اشتعال انگیزی کے جواب میں اکٹھے بھی ہوئے، کچھ فیصلے ہوئے،لیکن عمل درآمد نہ ہوا اس سے بے اعتمادی بڑھی۔ ان دِنوں کچھ وفود بھی بیرون مُلک بھیجے گئے تھے۔ ان میں مناسب حضرات نہ ہونے کی وجہ سے کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہوا، اب پھر وقت آ گیا ہے کہ ایک ایسا موثر وفد تیار کیا جائے جو قومی مفاہمت کا آئینہ دار اور تجربہ کار حضرات پر مشتمل ہو، اس وفد کو بیرونی دُنیا میں بھیجا جائے یہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین والے ممالک میں جا کر پاکستان کے مسائل اور مداخلت کی صورتِ حال سے آگاہ کرے، اس کے ساتھ ہی اسلامی کانفرنس کو ہر حال میں متحرک کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ اس فورم کے ذریعے آپس کے اختلافات ختم کئے جا سکیں اور اس وقت جو خطرات درپیش ہیں ان کی روشنی میں مسلمان ممالک سے بات کر کے لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔
ایک امر پر مسلمان ممالک کو غور کرنا چاہئے کہ امریکہ کا نیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ منافق نہیں اس کے دِل میں جو کچھ ہے کہے جا رہا ہے۔ اب اس نے اسرائیل کی کھلی حمایت اور ایران کو دھمکی دی ہے۔ کیا یہ ٹرمپ اپنے پیشرو سے مختلف نہیں؟ ہاں یہ ہے اور یہ ڈپلومیسی سے کام نہیں لے رہا اِس لئے اس کے اقدامات اور ارادوں کے حوالے سے غور کر کے متفقہ اور متحدہ قومی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے کام ہونا چاہئے۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہید ہونے والے پولیس ملازمین کے اہلِ خانہ سے تعزیت کے لئے گئے اور ایک ایک کروڑ روپے کے امدادی چیک بھی دے کر آئے ہیں، جبکہ مسلم لیگ(ن) کے اراکین اسمبلی عہدیدار متاثرہ شہریوں کے گھروں میں جا کر امدادی چیک دے رہے ہیں یہ اچھا اقدام ہے،لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ شہید شہریوں کے پسماندگان کے لئے کتنی امدادی رقم دی جا رہی ہے اور زخمیوں کو کیا دیا گیا ہے۔یہ بہتر ہے تاہم سول حضرات بھی گوشت پوست ہی کے ہیں ان کی دلجوئی بھی ضروری ہے۔