آپریشن ضرب عضب کو منطقی انجام تک پہنچانے کا دھواں دھار آغاز ہو گیا


تجزیہ : قدرت اللہ چودھری
 جمعہ کے روز ملک کے مختلف حصوں میں جس طرح ایک سو سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا اس کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کو منطقی انجام تک پہنچانے کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ 15 جون 2014ء کو جس آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا، اس کے نتیجے میں شمالی اور جنوبی وزیرستان سے دہشت گردوں کا صفایا کرکے ان کے ٹھکانے تباہ کر دئے گئے اور ان علاقوں میں ان کی کمین گاہیں ختم ہوگئی تھیں۔ تاہم جو لوگ کسی نہ کسی طریقے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے انہوں نے افغانستان میں جاکر ٹھکانے بنا لئے اور وہیں سے اپنی مذموم کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ کالعدم تحریک طالبان وہاں مختلف ناموں سے کام کر رہی ہے۔ آرمی پبلک سکول پشاور اور چارسدہ یونیورسٹی میں دہشت گردی کی وارداتیں افغانستان سے آنے والوں نے ہی کی تھیں۔ تاہم ان کے بعض سہولت کاروں کا بھی سراغ ملا اس وقت بھی افغان حکام کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی تھی اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور دوسرے اعلیٰ حکام نے اس کے ثبوت بھی افغان حکام کے حوالے کئے تھے۔ یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ دہشت گردوں کو افغانستان سے کنٹرول کیا جا رہا تھا اور ان کے پاس افغان ٹیلی فون سمیں تھیں، اس کے بعد پاکستان نے بارڈر مینجمنٹ سخت کر دی اور ایسے انتظامات کئے کہ افغان موبائل فون پاکستانی علاقے میں نہ چل سکیں۔ اس کے بعد کافی عرصے تک حالات معمول پر آتے ہوئے محسوس ہوئے۔ اب گزشتہ چند دنوں سے دہشت گردی کی جو نئی لہر آئی ہوئی ہے اس میں دہشت گردی کے سارے ڈانڈے افغانستان سے ملتے ہیں۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اپنی پریس کانفرنس میں بھی کہا کہ افغانستان پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا مرکز ہے۔ جب شہباز شریف لاہور میں یہ بات کہہ رہے تھے، راولپنڈی کے جی ایچ کیو میں افغان ناظم الامور کے حوالے ایک فہرست کی جاری کی جا رہی تھی، جن میں ان 76 دہشت گردوں کے نام درج تھے جو پاکستان کو مطلوب ہیں۔ افغان ناظم الامور سے کہا گیا کہ افغانستان ان دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کرے یا انہیں افغانستان سے نکال دے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی غیر ملکی سفارت کار کو اس طرح جی ایچ کیو میں طلب کیا گیا ہے۔ اس سے افغان حکام کو یہ احساس ہو جانا چاہئے کہ معاملہ بہت سنگین ہے اور اگر سنجیدگی سے اس مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو حالات مزید پیچیدہ ہو جائیں گے، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ طورخم اور چمن سے ملحقہ سرحد بند ہے اور افغان تجارتی سامان پاکستان نہیں آرہا۔ اس کا افغانستان کے تاجروں کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے اور جتنے دن سرحد بند ہوگی، انہیں مزید نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ افغان تاجر جو مال لے کر آتے تھے، ان کی طلب پاکستان میں ہے اور یہاں ان کا مال اچھی قیمت پر بک جاتا ہے۔ اب اگر دہشت گردوں کی حوالگی کے معاملے نے طول کھینچا تو جتنے دن سرحد بند رہے گی افغان تاجروں کو یہ نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان ان دہشت گردوں کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کر دے گا جو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، افغان حکام اگر نیک نیتی سے کارروائی کریں تو ان دہشت گردوں کے ٹھکانے افغان سرزمین سے ختم کئے جاسکتے ہیں لیکن لگتا یوں ہے کہ یا تو افغان فورسز ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتیں یا نیم دلانہ اقدامات کے ذریعے ان دہشت گردوں کو ٹھکانے بدلنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے لیکن اب جس انداز میں افغان حکام سے ان دہشت گردوں کو طلب کیا گیا ہے اب افغانستان کے پاس کسی لیت و لعل کا جواز نہیں ہوگا۔ یہ دہشت گرد یا تو پاکستان کے حوالے کرنا پڑیں گے یا پھر انہیں افغانستان سے نکالنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو دونوں ملکوں میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور اس کا رخ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ ان وارداتوں کا سخت سزاؤں سے بھی بہت قریبی تعلق ہے۔ فوجی عدالتیں دو سال تک کام کرتی رہیں ان میں جو مقدمات چلائے گئے وہ عام سول عدالتوں کی نسبت تیزی سے نپٹائے گئے۔ فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں پر عملدرآمد بھی ہوا اور اس طرح دہشت گردوں کو ملنے والی سزاؤں سے عوام الناس نے سکھ کا سانس لیا۔ ادھر یہ عدالتیں ختم ہوئیں ادھر دہشت گرد بلوں سے دوبارہ نکل آئے، کیا یہ محض اتفاق ہے؟ نئے سرے سے ایک بحث شرع ہوگئی کہ کیا فوجی عدالتوں کو توسیع ملنی چاہیئے۔ حالانکہ فوجی عدالتوں کے قیام کے وقت یہ سب بحث ہوچکی تھی، اگرچہ اس وقت چیئرمین سینیٹ کے آنسو بھی نکل آئے تھے۔ پشاور میں سول ججوں کی گاڑی پر خود کش حملے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جن سول عدالتوں میں دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت ہوتی ہے ان کے جج ہر وقت خطرات میں گھرے رہتے ہیں۔ ایک ہی گاڑی میں سول ججوں کو غالباً سکیورٹی کے نقطہ نظر سے لے جایا جا رہا تھا لیکن اس گاڑی کو بھی دہشت گرد نے نشانہ بنایا اگرچہ معجزانہ طور پر جانی نقصان نہیں ہوا تاہم جج زخمی ضرور ہوئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت بھی آسان نہیں ہوتے۔ اس وجہ سے فوجی عدالتوں کی بات کی جاتی ہے کیونکہ ان میں فوجی افسر بطور جج خدمات انجام دیتے ہیں جن کی حفاظت کا نظام نسبتاً زیادہ بہتر ہے۔
وزیراعلیٰ شہباز شریف نے بھی فوجی عدالتوں کی حمایت کر دی ہے، اس لئے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اب جلد ہی فوجی عدالتوں کا قیام دوبارہ عمل میں آجائے گا، ملک کے اندر ایسے ضروری اقدامات اپنی جگہ، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان میں امریکی جنرل نکلسن دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کرنے کے سلسلے میں کوئی موثر کردار ادا کرسکیں گے، جنہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فون کرکے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے کہا۔
منطقی انجام