پاکستان مخالف تقریریں کرنے والے ملک میں آنے کا حوصلہ نہیں رکھتے

تجزیہ: قدرت اللہ
ایم کیو ایم کی شکل و صورت اب وہ تو نہیں ہے جو اس کے قیام کے وقت تھی، بلکہ بعض اوقات تو اس کی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی۔ پارٹی کے ایک بڑے حصے نے اس کے بانی سے لاتعلقی کا اعلان کردیا، ایم کیو ایم پاکستان وجود میں آگئی، پاک سرزمین پارٹی نے بھی اس خاک سے جنم لے لیا، مہاجر قومی موومنٹ پہلے سے موجود ہے جو حقیقی کے نام سے بھی جانی جاتی ہے اس میں اب صرف آفاق احمد رہ گئے ہیں جو ایم کیو ایم کی تاسیس کے وقت جائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے تھے، دوسری جائنٹ سیکرٹری عامر خان تھے جو اب ایم کیو ایم پاکستان کا حصہ ہیں۔ بعض مخالفین اب تک یہ ماننے کیلئے تیار نہیں کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنا راستہ مستقل طور پر لندن سے الگ کرلیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ وقتی حکمت عملی ہے ورنہ اندر سے سب ایک ہیں۔ آج جب یوم تاسیس منایا گیا تو یار لوگ دلیل لائے کہ ایم کیو ایم پاکستان تو قائم ہی 23 اگست 2016ء کوہوئی تھی، اس لئے اس کا یوم تاسیس اگر منایا جانا ہے تو 23 اگست کو منایا جائے کیونکہ جس تنظیم کا یوم تاسیس ڈاکٹر فاروق ستار منا رہے ہیں اس تنظیم سے تو وہ علیحدگی اختیار کرچکے ہیں جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ اصل ایم کیو ایم ہم ہیں جس کے ساتھ پاکستان کا اضافہ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ اسے لندن سے الگ پہچان دی جاسکے، ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کے اصل وارث ہم ہیں اس لئے ہم یوم تاسیس مناتے ہیں۔ جو پاکستان کے خلاف باتیں کرتے تھے انہیں ہم نے اپنی تنظیم سے الگ کردیا۔
ڈاکٹر فاروق ستار کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا یا نہیں، یہ معاملہ ذرا گھمبیر ہوگیا ہے وہ اس توڑ پھوڑ کے مقدمے میں نامزد ہیں جو 22 اگست کی تقریر کے بعد ہوئی تھی، عدالت نے انہیں اشتہاری قرار دے رکھا ہے لیکن ان کی گرفتاری نہیں ہو رہی اور اگر تھوڑی دیر کیلئے ہوتی ہے تو پھر ساتھ ہی رہائی ہو جاتی ہے گویا پتہ ہی نیں چلتا ’’کیا اسیری ہے، کیا رہائی ہے‘‘۔ فاروق ستار کیا کوئی واحد سیاستدان ہیں جو عدالت سے اشتہاری ہیں لیکن انہیں گرفتار کرکے پیش نہیں کیا جاتا، عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے خلاف بھی اسی نوعیت کے مقدمات درج ہیں۔ سوال کیا جاتا ہے اور کیا جاسکتا ہے کہ اگر اسی نوعیت کے مقدمات میں عمران خاں اشتہاری ہیں تو انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا؟ جبکہ وہ روزانہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہیں۔ پاناما کیس میں وہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں تقریباً ہر پیشی پر پیش ہوتے رہے، انہوں نے خود کہا کہ وہ اتنی باقاعدگی سے کبھی سکول نہیں گئے جتنی باقاعدگی سے عدالت جاتے رہے لیکن انہیں احاطۂ عدالت سے بھی کسی نے گرفتار نہیں کیا۔ اس سے بھی پہلے وہ اسلام آباد بند کروانے کے مشن پر نکلے تھے اور جب یہ بھاری پتھر چوم کر رکھنا پڑا تو انہوں نے ایک جلسے سے خطاب پر اکتفا کیا۔ جلسے کی باقاعدہ اجازت دی گئی لیکن کسی نے انہیں گرفتار نہیں کیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری تو کئی گھنٹے تک ایک جہاز کے اندر مسافروں سمیت بیٹھے رہے اور انہیں باہر نہیں جانے دیا جا رہا تھا، اس کا مقدمہ بھی ان پر درج ہوا تھا لیکن پھر معلوم نہ ہوسکا کہ اس کا کیا بنا وہ بھی عمران خان کے ساتھ دھرنے کے دنوں کی توڑ پھوڑ کے ایک مقدمے میں اشتہاری ہیں، انہیں بھی کسی نے گرفتار نہیں کیا اس لئے فاروق ستار کا یہ کہنا تو بنتا ہے کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کو کیوں گرفتار کرکے عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا۔ فاروق ستار نے یوم تاسیس کے سلسلے میں جو خطاب کیا اس میں ان کا مؤقف تھا کہ اصل ایم کیو ایم ہم ہیں، اس لئے یوم تاسیس منانے کا حق بھی ہمارا ہے۔ عامر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے اور نہ سن سکتے ہیں جو لوگ پاکستان کے خلاف بات کرتے ہیں ان میں ہمت ہے تو پاکستان آئیں اور یہاں بات کریں ان کا واضح اشارہ بانی ایم کیو ایم کی طرف تھا جنہوں نے کارکنوں کو مشکل حالات میں چھوڑ دیا اور اب ان کے ساتھی بھی لندن سے پاکستان کا رخ نہیں کرتے جنہوں نے 22 اگست کو ایسی متنازعہ تقریر کی جو ایم کیو ایم پاکستان کے قیام کا باعث بن گئی۔ عامر خان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایم کیو ایم پاکستان بنائی ہے لیکن پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم لندن سے محبت ہے کیونکہ پلاٹوں پر قبضے اور چائنہ کٹنگ اسی ایم کیو ایم نے کرائی تھی۔ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ہم کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں مہاجروں کی سیاست ہی کر رہے ہیں اور اس سیاست کی طرف واپس چلے گئے ہیں جب ایم کیو ایم کا نام ہی مہاجر قومی موومنٹ تھا لیکن اس کے ساتھ ہی ہم دوسری برادریوں کو بھی ساتھ ملائیں گے۔