سپریم کورٹ کے باقاعدہ اعلان تک کسی کو معلوم نہ ہو سکا فیصلہ کب کیا جائیگا ؟

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

منگل کو جب تک سپریم کورٹ کی ضمنی کازلسٹ منظر عام پر نہیں آگئی، اس وقت تک باخبری کے دعویدار اینکروں میں سے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ پاناما کیس کا محفوظ فیصلہ کب سنایا جانے والا ہے۔ البتہ 23 فروری کے بعد جب سے فیصلہ محفوظ ہوا تھا، ان تقریباً دو مہینوں میں کیلنڈر کی کوئی تاریخ ایسی نہ تھی جس کے بارے میں دعویٰ نہ کیا گیا ہو کہ ’’فیصلہ آج سنایا جائے گا‘‘ یہ دعویٰ صرف اینکروں تک محدود نہیں تھا، بعض سیاستدان بھی اپنے اپنے انداز میں یہ اعلان کرتے رہتے تھے، فرزند راولپنڈی نے تو گویا یہ فریضہ اپنے ذمے لے لیا تھا کہ وہ ہر ہفتے فیصلے کی تاریخیں دیتے تھے اور ساتھ ہی یہ بھاشن دینا بھی نہیں بھولتے تھے کہ قانون کا جنازہ نکلے گا یا نون کا۔ ویسے اگر ان کی سیاسی پیش گوئیوں کی جانب جائیں تو وہ گزشتہ پونے چار سال سے موجودہ حکومت کے جانے کی پیش گوئی اتنے تواتر سے کر رہے ہیں کہ اب جب وہ کوئی پیش گوئی کرنے لگتے ہیں یا کوئی نئی تاریخ دیتے ہیں تو سننے والے بھی شرمسار ہوتے ہیں۔ البتہ ان کے اپنے ماتھے پر عرق انفعال کا کوئی قطرہ نمودار نہیں ہوتا۔ 2014ء کے دھرنے کے دنوں میں جب وہ کنٹینر پر آتے تو جوش جذبات میں ایسی ایسی باتیں کر جاتے، جن پر قانونی طور پر گرفت بڑی آسانی سے کی جاسکتی تھی۔ وہ جلاؤ گھیراؤ کی ترغیب بھی دیا کرتے تھے اور مرنے مارنے کا اشتعال بھی دلایا کرتے تھے۔ البتہ کسی نے ان سے تعرض نہیں کیا، اب انہیں جوش تو کم آتا ہے، البتہ پیش گوئیوں کا شوق مدہم نہیں ہوا۔ اشتعال انگیز تقریر کے بعد ایک نئی تاریخ دے کر کنٹینر سے اتر جاتے۔ عموماً وہ حکومت کی روانگی کی تاریخ ایک مہینے کی دیا کرتے تھے لیکن مہینے برسوں میں تبدیل ہوگئے، حکومت اب تک موجود ہے اور اب اپنا آخری بجٹ بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ 2018ء عام انتخاب کا سال ہے، اس لئے یہ بجٹ بھی انتخابی بجٹ ہوگا۔ فرزند راولپنڈی کو جن تاریخوں میں فیصلہ سنائے جانے کی امید تھی وہ تو سب گزر گئیں، ان کے آخری بیان میں کہا گیا تھا کہ فیصلہ 17 یا 18 کو سنا دیا جائے گا۔ اب وہ کہہ سکتے ہیں کہ دو دنوں کے فرق سے فیصلہ سنایا جا رہا ہے، ویسے یہ بات تو روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے سینئر تجزیہ نگار سعید چودھری نے اپنے تجزئیے میں 9 اپریل کو لکھ دی تھی کہ فیصلہ 17 اپریل سے شروع ہونے والے ہفتے میں سنا دیا جائے گا۔ اب آپ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ جن اینکروں کو یہ تک نہیں معلوم تھا کہ فیصلہ کب آرہا ہے وہ اتنے یقین کے ساتھ متوقع فیصلے پر اظہار خیال کیوں کر رہے ہیں۔ بعض قانون دانوں کو بھی چینلوں پر اپنی مہارتوں کے اظہار خیال کا موقع ملا ہوا ہے اور وہ ایسی ایسی بقراطیاں جھاڑ رہے ہیں کہ اگر خود بقراط بھی زندہ ہو کر آجائے تو حیران و ششدر رہ جائے۔ اس سلسلے میں ہم نے اپنے ایک قانون دان دوست سے استفسار کیا تو ان کا جواب تھا کہ یہ قانون دان قانون کے تقاضوں سے تو زیادہ باخبر نہیں لگتے۔ البتہ میڈیا سکرینوں پر موجود رہنے کا ہنر ضرور جانتے ہیں۔ سپریم کورٹ محفوظ فیصلہ سنانے کے لئے کسی مدت کی پابند نہیں ہے، لیکن یار لوگ اس تمام عرصے کے دوران اس پر بھی اظہار خیال کرتے رہے کہ فیصلہ اتنے عرصے سے کیوں محفوظ ہے وغیرہ وغیرہ۔ اب جب سے سپریم کورٹ نے فیصلہ سنانے کی تاریخ دی ہے۔ اینکروں نے طویل لائیو ٹرانسمیشن شروع کر دی ہے اور متوقع فیصلے کو اپنی خواہشات کی عینک سے دیکھ کر اس پر ایسے ایسے تبصرے کئے جا رہے ہیں جو نہ صرف قانونی تقاضوں بلکہ عدالتی طریق کار سے بھی مکمل بے خبری کا پتہ دیتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ جن کے کانوں میں دو ماہ کے عرصے میں یہ بھنک تک نہیں پڑ سکی کہ فیصلہ کب آرہا ہے، اب وہ ایسے تبصرہ کر رہے ہیں جیسے فیصلہ ان کے سامنے پڑا ہو۔ ان میں سے ایک صاحب وہ ہیں جنہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت جنرل راحیل شریف کو ان کے دورۂ امریکہ کے دوران برطرف کر دے گی۔ کئی روز تک ٹیلی ویژن چینل پر یہ دعویٰ دہرایا گیا، لیکن اس کا حشر کیا ہوا، بے خبری کا اس سے اچھا مظاہرہ کبھی آپ نے دیکھا؟ جن دنوں سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت ہو رہی تھی، ان دنوں پر سماعت کے فوری بعد سپریم کورٹ کے احاطے میں میڈیا عدالتیں لگ جاتی تھیں اور عدالتی کارروائی سے ہٹ کر من پسند تبصرے کئے جاتے تھے، یہاں تک کہ سیاسی جماعتوں کے رہنما اس بات پر آپس میں الجھ پڑتے تھے کہ میڈیا کے سامنے سب سے پہلے کون بات کرے گا۔ اس دوران ان کے منہ سے کوثر و تسنیم میں دھلی ہوئی زبان بھی سننے کو ملتی تھی اور یہ وہ لوگ تھے جو دوسروں کو آداب گفتگو کی تلقین کیا کرتے تھے۔ مقدمے کی کارروائی کے دوران بعض وکلاء نے اپنے کیس کے حق میں جس انداز سے دلائل دئیے، انہیں سن کر خود جج صاحبان کی ہنسی بھی چھوٹ گئی، اب اگر اس طرح کا مقدمہ لڑنے والے بھی سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ مقدمہ جیت جائیں گے تو پھر ان کے حق میں دعائے خیر ہی کی جاسکتی ہے، لیکن آپ حیران ہوں گے کہ انہیں بھی مقدمہ جیتنے کی امید ہے، جن حضرات نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا عدالتیں لگائیں، اگر وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اس طرح ان کے مقدمے پر کوئی مثبت اثر پڑے گا تو وہ قانون اور قانونی تقاضوں سے مکمل طور پر بے بلد ہونے کا ثبوت دے رہے تھے، کیونکہ عدالتیں جو فیصلہ بھی کرتی ہیں، عدالت کے اندر دئیے جانے والے دلائل کی روشنی میں کرتی ہیں، انہیں اس بات سے غرض نہیں ہوتی کہ کوئی باہر جاکر کیا کہتا ہے، مثلاً سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو جب ملک کی سب سے بڑی عدالت نے یہ حکم دیا کہ وہ سوئس حکام کو خط لکھیں تو انہوں نے عدالت کے فیصلے کے بعد بھی اپنی گفتگوؤں اور انٹرویوز میں ہوبہو وہی موقف اختیار کیا جسے سن کر عدالت مسترد کرچکی تھی اور یہ حکم دے چکی تھی کہ وہ آصف علی زرداری کے بارے میں سوئس حکام کو خط لکھ دیں، انہوں نے اعلان کیا کہ وہ خط نہیں لکھیں گے، کیونکہ ایسا کرنا خلاف آئین ہوگا۔ انہوں نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی۔ چنانچہ ان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلا جس پر انہیں تابرخواست عدالت سزا ہوگئی۔ اس سزا کے نتیجے میں ان کی وزارت عظمیٰ گئی اور اگلے پانچ سال کے لئے وہ الیکشن لڑنے کے لئے نااہل ہوگئے۔ پاناما کیس میں یوسف رضا گیلانی کی نظیر کا حوالہ ’’تیلی رے تیلی، تیرے سر پر کولہو‘‘ کے مترادف ہے لیکن اچھے اچھے قانون دان اس پر ایسے ایسے تبصرے کرتے سنے جا رہے ہیں، جو ایک معمولی سمجھ بوجھ والا قانون دان بھی نہیں کرسکتا۔ اس پر ٹیلی ویژن چینلوں کی ریٹنگ کا انحصار ہو تو ہو، عدالتی فیصلے پر اس سے کوئی روشنی نہیں پڑتی۔