عالم خیال میں غالب کے پرزے اڑتے دیکھنے کے خواہش مند مایوس

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان خوش فہموں کو تو بہرحال مایوسی ہوئی جو فیصلے کی آمد سے پہلے گھڑیاں گن رہے تھے اور نامعلوم وجوہ کی بنا پر جن کا خیال تھا کہ اِدھر فیصلہ سنایا گیا اور اُدھر وزیراعظم کی کرسی خالی ہوگئی۔ ان میں قانون دان اور غیر قانون دان سبھی شامل تھے‘ تھڑے پر بیٹھنے والے بھی تھے اور جدید دور کے تھڑے انٹرنیٹ سے استفادہ کرنے والے بھی، سابق جج بھی تھے اور سابق اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل بھی ان سب کا خیال تھا کہ اِدھر فیصلہ آیا اور اُدھر لوگ غالب کے پرزے اڑتے ہوئے دیکھیں گے لیکن فیصلہ تو سب نے سنا، پرزے اڑتے ہوئے کسی نے نہ دیکھے، البتہ ان اخباروں کو ردی بنتے ضرور دیکھا گیا جن میں بعض نامور لوگوں کے نام لے لے کر ان کی رائے کو شہ سرخی بنایا گیا تھا، ان سرخیوں میں ویسے تو بڑی بو قلمونی تھی لیکن ایک قدر مشترک تھی کہ بس دو بجنے دیں اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہیں رہے گی لیکن سب نے دیکھا اور سنا لیکن پھر کیا ہوا سیاہ چشمہ پہنے ہوئے لوگ گردن جھٹکتے ہوئے کسی گوشۂ عافیت کی جانب لپکے کہ وہاں سے ریلیکس ہوکر اور منہ ہاتھ دھو کر میڈیا کے سامنے آنے کے قابل ہوسکیں۔ فیصلے پر اظہار خیال تو آپ دو بجے کے بعد اب تک سن رہے ہوں گے لیکن ذرا جمعرات کے اخبارات کی سرخیاں ذہن میں ضرور تازہ کرلیں جن میں ایک فکاہی کالم کی سی چاشنی ہے۔ یہ بھی غنیمت ہے کیونکہ اخبارات سے فکاہیہ تو مدتیں ہوئیں غائب ہوچکا، یار لوگ آج کل جو تحریر لکھتے ہیں اسے کھینچ تان کر مضمون یا جواب مضمون تو کہا جاسکتا ہے، فکاہیہ لکھنے والے رہے نہ پڑھنے والے، اس ماحول میں یہی غنیمت ہے کہ انجانے میں کسی خبر میں ہی فکاہیے کے جراثیم نظر آ جائیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا ہے جو رقم قطر جانے کے متعلق امور کی تحقیقات کرے گی اس تحقیق کی ضرورت بھی تھی۔ آپ کو یاد ہوگا ایک مرحلے پر سپریم کورٹ میں فاضل عدالت نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا تھا کہ وہ اپنے موکل سے پوچھ کر بتائیں کہ تحقیقاتی کمیشن کیوں نہ بنا دیا جائے تو وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تحریک انصاف نہ صرف تحقیقاتی کمیشن بنانے کے حق میں نہیں بلکہ اگر بنایا گیا تو اس کا بائیکاٹ کردے گی اب عدالت نے کمیشن تو نہیں بنایا البتہ جی آئی ٹی بنانے کا حکم دیا ہے۔ جوہری طور پر ایک کمیشن اور جی آئی ٹی میں یہ فرق ہے کہ کمشن اگر بن جاتا تو زیادہ سے زیادہ دو رکنی ہوتا جبکہ یہ جے آئی ٹی چھ رکنی ہوگی اور اس میں مختلف ایجنسیوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ اس جے آئی ٹی کے روبرو وزیراعظم پیش ہوں گے اور ان کے دونوں صاحبزادے بھی، اب تحریک انصاف چاہتی ہے کہ یہ اچھا نہیں لگتا کہ ایک وزیراعظم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو اس لئے انہیں استعفا دینا چاہئے جبکہ اس سے پہلے یہ مثالیں دی جا رہی تھیں کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف کرپشن کی تحقیقات ہوسکتی ہیں تو پاکستان کے وزیراعظم کے خلاف کیوں نہیں ہوسکتی۔ اب اگر ایسی تحقیقات کا حکم دیدیا گیا ہے تو انہیں وزیراعظم کی ’’سبکی‘‘ کا خوف کھانے لگا ہے، حالانکہ اگر وزیراعظم کو ٹیم کے سامنے پیش ہونے پر کوئی اعتراض نہیں تو کسی دوسرے کو کیا پڑی ہے کہ وہ وزیراعظم کی ہمدردی میں ہلکان ہوتا پھرے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم تحقیقات کے دوران اپنے عہدے پر موجود ہیں اور وہ تحقیقات یا تحقیقاتی کمیٹی پر اثرانداز نہیں ہوسکتے تو کسی دوسرے ملک میں ایسا ہونا کیوں ضروری ہے؟ ویسے اسرائیل کی مثال پر کئی لوگ ناراض بھی ہوسکتے ہیں کہ یہودیوں کے ملک کی مثال کیوں دیدی۔ پھر جے آئی ٹی سے تو ہمارے ڈاکٹر طاہرالقادری کے بھی تحفظات ہیں۔ بہرحال سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جن چہروں پر فوری طور پر مردنی چھاگئی تھی وہ دو فاضل ججوں کے اختلافی فیصلے میں اپنے لئے اطمینان کے پہلو ڈھونڈ رہے ہیں حالانکہ عدالتوں کے فیصلے ہمیشہ متفقہ نہیں ہوتے اکثریتی بھی ہوتے ہیں اور اسی طرح نافذ العمل ہوتے ہیں جس طرح متفقہ فیصلے ہوتے ہیں، کوئی بتائے کیا ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ متفقہ تھا؟ اور کیا اس پر عملدرآمد نہیں ہوا، البتہ سپریم کورٹ کے موجودہ فیصلے کو اس لحاظ سے ’’عبوری‘‘ کہا جاسکتا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد درخواست گزاروں کی استدعاؤں پر غور ہوگا۔ اس وقت تو درخواستوں میں جتنی بھی استدعائیں کی گئی تھیں ان میں سے ایک بھی نہیں مانی گئی۔ جے آئی ٹی بنانے کی درخواست کسی درخواست گزار نے نہیں کی تھی۔ یہ عدالت کا اپنا فیصلہ ہے اب عدالتی فیصلے کے تحت جے آئی ٹی سات دن میں تشکیل ہوگی اور دو ماہ میں رپورٹ دے گی۔ اس رپورٹ کا جائزہ لے کر ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا، اس وقت تک وزیراعظم اپنے عہدے پر قائم ہیں۔ جن لوگوں کو انہیں گھر بھیجنے کی بڑی جلدی تھی، اب انہوں نے اپنی ساری امیدیں جی آئی ٹی کی رپورٹ سے وابستہ کرلی ہیں‘ اب اس رپورٹ کا انتظار رہے گا۔ اسی دوران فیصلے کے اندر اطمینان کیلئے بہت سے پہلو ہیں اور عدم اطمینان کا بھی بندوبست ہے، آپ جس پلڑے میں اپنا وزن ڈالنا چاہیں ڈال لیں۔
غالب