پانامہ کا عذاب ، وزیر اعظم سے خطرہ ٹل گیا ، مریم نواز تفتیش سے باہر

تجزیہ : سہیل چودھری
بالآخر 57دنوں کے کرب ناک انتظار کے بعد پانامہ کیس کا فیصلہ تو سامنے آگیا لیکن عملاًقوم سے پانامہ کا عذاب نہیں ٹلا ، اگرچہ قانونی لحاظ سے فیصلہ کی جو بھی تعبیر ہو لیکن تمام فریقین اس فیصلہ کی سیاسی تشریح اپنی اپنی فتح کے طورپر گردان رہے ہیں ، یہ اہم فیصلہ جس کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ تاریخی ہوگا اور صدیوں تک یاد رکھا جائیگا ، اس میں یہ گنجائش موجود ہے کہ ہرکوئی اس کو اپنی مرضی کا پہناوا پہنا رہاہے ، فیصلہ میں اس گنجائش کی وجہ سے تمام فریقین نے اسے خوش دلی یا بد دلی سے قبول تو ہر صورت کرلیا ہے لیکن اپنی توقعات اور خواہشات کے ٹوٹنے کی دل شکستگی کو اپنے چہرے پر نہیں آنے دے رہے اگرچہ سپریم کورٹ قوم کو شائد دو ٹوک انداز میں تو پانامہ کے عذاب سے نجات نہیں دلا سکی لیکن 18کروڑ جمہور کے حق حکمرانی اور جمہوری نظام کے تسلسل کو قائم رکھنے میں سپریم کورٹ کا کردار تاریخی نظر آتا ہے ایک ایسے وقت میں جب پانامہ کی آڑ میں ملک میں دھرنوں اور ایجی ٹیشن سے جمہوری نظام اور عوام کے حق حکمرانی پر خطرات کے بادل منڈلانے لگے تو سپریم کورٹ نے آگے بڑھ کر اسے بچانے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی ، سپریم کورٹ کی اس پہل پر کپتان کا جوش ہوش میں بدل گیا تاہم وزیراعظم محمد نوازشریف کو بھی یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے خوش دلی کے ساتھ اور رضاکارانہ طورپر سپریم کورٹ کے آگے سر تسلیم خم کردیا ۔جبکہ سپریم کورٹ نے اس دانش کے ساتھ پانامہ لیکس کو ہینڈل کیا کہ تمام فریقین نے اسلام آباد کے ایک گرم ترین دن میں بھی اس کے فیصلہ کو تسلیم کرنے میں اپنی دلی خواہشات اور جذبات کو آڑے آنے نہیں دیا ،کپتان نے دن کا آغاز ڈنڈ بیٹھکیں لگا کر کیا اور اس کی تصویری جھلکیاں بھی جاری کی گئیں تاکہ ان کے کارکنوں کا مورال بلند ہوسکے دوسری جانب حکومت قدرے دباؤ کا شکارضرور تھی لیکن بظاہر یہی تاثر دیا جارہا تھاکہ امور مملکت معمول کے مطابق چل رہے ہیں لیکن یہ امر خوش آئند ہے کہ سپریم کورٹ کے اندر اور باہر احاطے میں ہلکی پھلکی دھکم پیل کے علاوہ کوئی بڑا نا خوش گوار واقع نہیں ہوا اس کا کریڈٹ بہت حد تک کپتان عمران خان کو جاتاہے جو فیصلے کے اعلان سے تھوڑا وقت پہلے مختصر قافلے کے ساتھ سپریم کورٹ پہنچے اور فیصلے کے فوراًبعد ہی وہاں سے رخصت ہوگئے واقفان حال کا کہنا ہے کہ چند روز قبل ان کی ایک اہم شخصیت سے ملاقات کے نتیجے میں ان کے طرز عمل میں تبدیلی آئی ، اگرچہ پاکستان کے تمام بڑے سیاسی کھلاڑی پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئر مین سابق صدر آصف علی زرداری ، پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سمیت بعض دیگر رہنماؤں نے بھی وزیراعظم محمد نوازشریف سے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تناظر میں اخلاقی بنیادوں پر مستعفی یا تفتیش کے دورانیے تک وزارت عظمیٰ کے عہدے سے الگ ہونے کا مطالبہ کیا ہے ، لیکن ان فریقوں کو بھی اندازہ ہے کہ وزیراعظم میاں محمدنوازشریف مزاحمتی سیاست کی خصوصیات بھی رکھتے ہیں اور وہ موجودہ مشکل صورتحال میں بھی بھرپورسیاسی مقابلہ کی صلاحیت رکھتے ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کااعتراف سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں کیا ہے انہیں اندازہ ہے کہ سیاسی اور مزاج کے لحاظ سے وزیراعظم نوازشریف تر نوالہ ثابت نہیں ہوسکتے فیصلہ سے قبل ملک بھر میں اہم شاہراہوں پر انکی حمایت میں جذباتی نعروں کے بینرز ان کے اس رویہ کے غماز ہیں ، جبکہ فیصلہ کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکنان ملک بھر میں نہ صرف جشن منارہے ہیں بلکہ مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں راولپنڈی شہر میں مسلم لیگ ن کے اہم مراکز بالخصوص لیاقت باغ ، ن لیگ سیکرٹریٹ اقبال روڈ، ولایت پلازہ ، رحمان آباد اور مری روڈ پر ن لیگی کارکنان ڈھو ل کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے ہوئے نظرآئے ۔اگرچہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو قانونی لحاظ سے دیکھا جائے تو درخواست دھندگان شریف خاندان پر الزامات ثابت کرپائے اور نہ ہی وزیراعظم نوازشریف کے وکلاء ان کی مکمل صفائی دے پائے ، ایسا لگتاتھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوجائیں گی لیکن یہ فیصلہ پانامہ ایشو کا انٹی کلائمکس کے طورپر نظر آتاہے ، کیونکہ 60دنوں میں جے آئی ٹی کی جانب سے تفتیشی عمل سے قوم مزید انتظار کی سولی پر لٹکی رہے گی اگرچہ وزیراعظم نوازشریف سے فوری خطرہ ٹل گیا ہے لیکن پھر بھی ملکی سیاست پر قدرے بے یقینی کے سائے منڈلاتے رہیں گے ، سپریم کورٹ کے فیصلہ سے بظاہر تمام فریقین جیت گئے ہیں لیکن اگر خطے کی معروضی سنگین صورتحال اور داخلی طورپر معاشی چیلنجز اور بجلی کے بحران کو دیکھا جائے تو اس فیصلہ سے شائد ملک مکمل طورپر بے یقینی کے سمندر سے باہر نہیں آیا لیکن بحران ضرور ٹلا ہے، جب 18کروڑ عوام کا منتخب وزیراعظم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوا کرے گا تو یہ عمل اس عہدہ کے وقار سے شائد مطابقت نہ کرے اس سے جہاں حکومت کی حکمرانی کی قوت میں کمی واقع ہوگی وہیں داخلی و خارجی سنگین چیلنجزکو نپٹنے میں دشواری نظر آتی ہے جبکہ یہ بھی ایک سوال ہے کہ کیا تفتیش کا ر تفتیش کے عمل کو سپریم کورٹ کی مقرر کردہ مدت میں پوری کرسکتے ہیں کہ نہیں ، سپریم کورٹ نے پانامہ کے ایشو کے منطقی حل کیلئے ایک قانونی راستہ تو طے کردیا ہے ، لیکن اس کے ملک پر سیاسی مضمرات کیا ہونگے ؟تاہم ہوسکتاہے کہ حکومت اس فیصلہ پرعمل درآمد کے طے شدہ طریقہ کار کو ریویوپٹیشن میں چیلنج کرئے اس طرح ریویوپٹیشن کا حق مخالف فریقین کے پاس بھی ہے اب دیکھنا ہے کہ شریف خاندان یا ان کے مخالف فریقین میں سے کوئی اس آپشن کو بروئے کار لاتا ہے کہ نہیں ۔ابھی یہ بھی فیصلہ کرنا باتی ہے کہ جے آئی ٹی کے ٹی او آرز حکومت بنائے گی یا سپریم کورٹ ؟فیصلہ کے فوری بعد وزیراعظم محمد نوازشریف کے ساتھ ان کی بیٹی مریم نوازشریف اور بھائی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے علاوہ ان کے انتہائی قابل بھروسہ اور قریبی رفقاء کار کے ساتھ تصویری جھلکیاں بھی نظر آئیں جس میں خوشی کے جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے ،دوسری طرف کپتان عمران خان نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بنی گالہ میں ایک مختصر پریس کانفرنس میں اپنی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ،تاہم سپریم کورٹ کے فیصلہ میں عمران خان کو جے آئی ٹی کی شکل میں کامیابی ملی لیکن شریف خاندان کے حصہ میں زیادہ کامیابیاں نظر آتی ہیں ، وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کوکلین چٹ تو نہیں ملی لیکن انہیں نااہل بھی قرار نہیں دیا گیااوران کے صادق اور امین ہونے کا ایشو بھی دم توڑ گیا ہے جبکہ ایک بڑی کامیابی یہ ہے کہ عدالت نے محترمہ مریم نوازشریف کو مبینہ پانامہ سکینڈل کا حصہ قرار نہیں دیا، اگرچہ اس کیس میں انہیں خصوصی ہدف بنایا گیا تھا لیکن اسے چنداں اہمیت نہیں دی گئی ۔جبکہ جے آئی ٹی کی تفتیش کے بعد سپریم کورٹ کا ایک دوسرا بنچ اس کی رپورٹ پر کوئی آرڈر کر سکتاہے بالفرض محال اگر یہ منفی ترین آرڈر بھی آئے تو سپیکر کی وساطت سے ہی الیکشن کمیشن کو انکے خلاف ریفرنس بھیجا جاسکتاہے اس صورت میں بھی یہ سارا عمل اتنا طویل ہوسکتاہے کہ 2018ء کے عام انتخابات کا وقت آجائیگا جبکہ تفتیش کی رپورٹ وزیراعظم کے حق میں آجاتی ہے تو پھر ان کیلئے کوئی خطرہ نہیں اس لئے قرین ازقیاس ہے کہ اگر کوئی بڑی احتجاجی تحریک نہیں چلتی تو یہ حکومت اپنی مدت پوری کرئے گی تاہم اگر وزیراعظم محمدنوازشریف خود چاہیں تو شائدقبل ازوقت انتخابات کی طرف جاسکتے ہیں ۔
پانامہ کا عذاب