کیا جنرل پرویز مشرف اچھے سیاستدانو ں کی تلاش میں کامیاب ہو جائیں گے ؟


تجزیہ : قدرت اللہ چودھری
سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ اچھے سیاستدانوں کو ساتھ ملا کر تیسری قوت کے طور پر کام کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ اگرچہ انہوں نے یہ وضاحت تو نہیں کی کہ اچھے سیاستدانوں سے ان کی مراد کون سے سیاستدان ہیں، لیکن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران انہوں نے دبئی میں جن سیاستدانوں سے ملاقاتیں کی ہیں، ان کے خیال میں وہ اچھے ہی ہوں گے۔ کیونکہ انہی کے ساتھ مستقبل میں آگے بڑھنے کی باتیں ہوئی ہیں، اب معلوم نہیں یہ سفر کس شکل میں ہوتا ہے۔ اس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں، بالآخر یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ یہ تو اس وقت پتہ چلے گا جب اونٹ بیٹھے گا، ابھی تک تو نہ کسی سیاسی اتحاد کی شکل سامنے آئی ہے نہ ہی یہ معلوم ہوسکا ہے کہ مسلم لیگیں کسی ایک سربراہ کی چھتری تلے متحد ہوں گی یا اپنا الگ الگ وجوہ برقرار رکھتے ہوئے کسی نئے سیاسی اتحاد کی داغ بیل ڈالیں گی۔ ویسے یہ دونوں کام ہی خاصے مشکل ہیں، مسلم لیگوں کا اتھاد اس لئے نہیں ہوسکتا کہ بعض کے سربراہ اگر اپنی مسلم لیگ کو کسی وسیع تر مسلم لیگ میں ضم کر دیں گے تو پھر اس قطرے کی دریا میں کیا حیثیت رہ جائے گی؟ متحدہ مسلم لیگ کے قیام کا کرشمہ اگر ہو بھی جائے تو سربراہ تو کسی ایک رہنما کو ہی بنانا ہوگا۔ باقی تمام رہنما تو زیادہ سے زیادہ سینئر نائب صدر ہی بن پائیں گے۔ اس لئے عملاً مسلم لیگوں کا اتحاد ممکن نہیں، البتہ کھینچ تان کر کوئی چھوٹا موٹا سیاسی اتحاد بن سکتا ہے۔ ویسے بھی جنرل (ر) مشرف تیسری سیاسی قوت بنانا چاہتے ہیں۔ پہلی اور دوسری پر ان کی نظر ہی نہیں۔ اس وقت ملک میں جو سیاسی جماعتیں پہلی اور دوسری صف میں موجود ہیں، ان میں پہلا نمبر تو مسلم لیگ (ن) ہی کا ہے۔ وفاق، پنجاب، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں اس کی حکومتیں ہیں۔ دوسرے نمبر پر اس لحاظ سے پیپلز پارٹی کو رکھا جاسکتا ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا تعلق اس جماعت سے ہے، سینیٹ کے چیئرمین بھی اس پارٹی سے آئے ہیں۔ سندھ میں اس کی حکومت ہے اور مستقبل کے متعلق دعوؤں کی کوئی حیثیت ہے تو پیپلز پارٹی کا یہ دعویٰ ہے کہ اگلے وزیراعظم اور اگلے صدر کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہوگا۔ تیسرے نمبر پر تحریک انصاف کو رکھا جاسکتا ہے جس کی ایک صوبے میں حکومت ہے اور اگلے انتخابات کے بعد پارٹی وزارت عظمیٰ پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہے۔ ویسے تو پارٹی قیادت کو قوی امید تھی کہ 2014ء کا سورج غروب ہونے سے پہلے ملک بھر میں اس کی حکومت قائم ہو جائے گی، کیونکہ اسے بڑی پختہ یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن برا ہو مخدوم جاوید ہاشمی کی جمہوریت پسندی کا، جنہوں نے اقتدار کی اس ساری خانہ ساز منصوبہ بندی کا بھانڈہ شاہراہِ دستور کے چوراہے میں یوں پھوڑا کہ خود بھی قومی اسمبلی کی نشست سے محروم ہوئے اور اس جماعت کو جس میں انہوں نے بڑے ارمانوں سے شرکت کی تھی، شب وصل سے دور بلکہ بہت دور کر دیا۔ اب اگر جنرل (ر) پرویز مشرف تیسری سیاسی قوت بنانا چاہتے ہیں تو یہ لازمی ہے کہ وہ تحریک انصاف کو تیسری قوت نہیں سمجھتے، انہوں نے چند ماہ پہلے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ 2002ء کے الیکشن میں انہوں نے عمران خان کو یقین دلایا تھا کہ وہ اگر چودھری شجاعت حسین کی پاکستان مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد کرلیں تو انہیں آٹھ دس نشستیں مل سکتی ہیں، لیکن عمران خان کا خیال تھا کہ وہ ایک سو نشستیں جیت جائیں گے جبکہ عملاً وہ صرف ایک نشست جیت سکے۔ اب جس سیاستدان کے دعوے اور معروضی حقائق میں اتنا بعدالمشرقین ہو، ان کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے، دعویٰ سو کا اور کامیابی ایک نشست پر۔ یاد رہے کہ ان انتخابات پر عمران خان نے دھاندلی کا الزام نہیں لگایا تھا، حالانکہ ان کا حق تو بنتا تھا۔ اس زمانے میں عمران خان چودھری شجاعت حسین کو بھی اپنے معیار دیانت سے بہت نیچے تصور کرتے تھے اور ان کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے تھے، لیکن جنرل (ر) پرویز مشرف کو تو سب کچھ معلوم تھا، وہ جانتے تھے کہ کون سی جماعت کو کتنی نشستیں ملیں گی۔ انہوں نے جس شخصیت کو وزیراعظم بنانا تھا اس کا پورا نقشہ بھی ان کے سامنے تھا، مسلم لیگ (ق) کو تو وہ اپنے کھیل کے لئے استعمال کر رہے تھے۔ وہ شوکت عزیز کو عالمی بینک کی نوکری چھڑا کر اس لئے لائے تھے کہ انہیں وزیراعظم بنایا جائے گا، لیکن مشکل یہ تھی کہ شوکت عزیز قومی اسمبلی کا الیکشن جیت نہیں سکتے تھے، چنانچہ انہیں ’’محفوظ‘‘ رکھا گیا اور الیکشن کے بعد ظفراللہ جمالی کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔ پھر ان سے استعفا لے لیا گیا اور چودھری شجاعت حسین وزیراعظم بن گئے، انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ اس عرصے میں شوکت عزیز کو قومی اسمبلی کا ضمنی انتخاب لڑوائیں اور منتخب کروائیں۔ چنانچہ چودھری شجاعت حسین نے اپنے ایک عزیز کو اٹک سے اپنی نشست چھوڑ دینے کے لئے کہا، دوسری نشست وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام ارباب رحیم کے کسی عزیز نے چھوڑی اور یوں شوکت عزیز قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوکر وزیراعظم بن گئے۔ مسلم لیگ (ق) کی حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں ملک کو تین وزرائے اعظم دئیے، یہ سب اچھے لوگ تھے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف ایسے ہی اچھے لوگوں کو ساتھ لے کر تیسری سیاست قوت بنانا چاہتے ہوں گے، اس وقت وفاق اور صوبوں میں جن جماعتوں کی حکومت ہے انہیں چھوڑ کر اگر سب جماعتیں متحد ہوکر ایک اتحاد بنا لیں تو عین ممکن ہے یہ اتحاد موثر سیاسی قوت بن سکے، لیکن یہ وہ منزل ہے جو ابھی بہت دور ہے، اگر جنرل صاحب سیاست میں موثر کردار کی خواہش رکھتے ہیں تو انہیں پہلا کام یہ کرنا چاہئے کہ فوری طور پر ملک میں واپس آئیں اور سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کریں۔ بیرون ملک بیٹھ کر محلاتی توڑ جوڑ کے ذریعے عوام الناس میں پذیرائی ملنا تو مشکل ہوگی۔