غلام مصطفے کھرعوامی تحریک کو چھوڑ کر تحریک انصاف کو رونق بخشیں گے

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری
ایک خبر کے مطابق پنجاب کے سابق گورنر شیر پنجاب غلام مصطفی کھر نے تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں باقاعدہ اعلان جلد کریں گے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ خبر کس حد تک مصدقہ ہے لیکن اگر انہوں نے ایسا فیصلہ کیا ہے تو لگتا ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً جن پارٹیوں میں شامل رہے، ان سب سے یا تو وہ مایوس ہوگئے یا یہ پارٹیاں ان کی توقعات پر پورا نہیں اترسکیں، غلام مصطفی کھر کوئی نصف صدی سے سیاست میں سرگرم عمل ہیں لیکن ان کی سیاست کی معراج غالباً وہ دور تھا جب وہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی کہکشاں میں جگمگاتے تھے۔ پارٹی برسر اقتدار آئی تو انہیں پنجاب کا گورنر بنا دیا گیا، یہ ملک کی سیاست کا ایک ہنگامہ خیز دور تھا۔ پیپلز پارٹی کو اقتدار ایسے وقت میں ملا تھا جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن چکا تھا، ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالتے ہی بعض ایسے اقدامات کرنا شروع کردیئے تھے جن کے نتائج تو اچھے نہیں نکلے، لیکن اس وقت پارٹی ہوا کے گھوڑے پر سوار تھی۔ نہ صرف بینک، انشورنس کمپنیاں اور بڑی صنعتیں قومیائی جا رہی تھیں بلکہ آٹا پیسنے کی چکیاں اور چاول چھڑنے کی مشینیں بھی قومی تحویل میں لی جا رہی تھیں۔ ان قومیائی گئی ’’صنعتوں‘‘ میں پارٹی کارکنوں کو بطور منتظم بٹھایا جا رہا تھا، سیاسی مخالفین یا تو جیلوں میں تھے یا تھانوں میں ان کے ساتھ بدسلوکی ہو رہی تھی، ان حالات میں مصطفی کھر بطور مرد آہن اور شیر پنجاب کے طور پر ابھرے، پھر نہ جانے کیا ہوا کہ وہ اپنے ہی لیڈر کے مدمقابل آگئے۔ گورنری کو خیر باد کہہ کر حزب اختلاف کی سیاست کرنے لگے، لاہور میں تاج پورے کا مشہور الیکشن لڑا اور شیر محمد بھٹی سے ہار گئے، 77ء کے الیکشن کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک کے آخری ایام میں ان کی اپنے لیڈر سے صلح ہوگئی اور وہ دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے، انہیں قومی سلامتی کا مشیر بنایا گیا۔ دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد ابھی انہوں نے اپنے کمالات دکھانے شروع ہی کئے تھے کہ 5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا لگا دیا اور مصطفی کھر کی مشاورت اور ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت عظمیٰ اپنے اختتام کو پہنچی۔
بعد کے ایام میں مصطفی کھر نے کئی سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیارکی، پیپلز پارٹی میں بھی آتے جاتے رہے۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں انہیں بجلی اور پانی کا وزیر بنا دیا گیا۔ ہمیں یاد ہے کہ وہ اس وقت کے چیئرمین واپڈا شمس الملک کے ساتھ کالا باغ ڈیم کے حق میں فضا ہموار کرنے نکلے تھے کہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم ہوگئی اور ان کی سیاسی مسافرت کا ایک نیا دور شروع ہوگیا۔ وہ مسلم لیگ (ن) میں بھی گئے اور غالباً اپنی پیپلز پارٹی بھی بنائی لیکن کہیں بھی ان کے پاؤں نہ جم سکے، ان کے ساتھی تو ایک ایک کرکے اللہ کو پیارے ہوگئے اور ایک وقت وہ بھی آیا جب انہوں نے پاکستان عوامی تحریک میں شمولیت اختیار کرلی۔ معلوم نہیں وہ باقاعدہ طور پر پارٹی میں شامل ہوئے تھے یا ڈاکٹر طاہرالقادری کی محبت میں دھرنے کے دنوں میں سرگرم عمل ہوگئے تھے۔ اس کے بعد انہیں زیادہ سرگرم عمل نہیں دیکھا گیا۔
ہمارے ملک میں سیاستدان ریٹائر نہیں ہوتے بس اتنا ہوتا ہے کہ جب حالات سازگار نہ ہوں تو منظر سے غائب ہو جاتے ہیں اور جونہی موقع ملتا ہے دوبارہ سیاست شروع کردیتے ہیں لیکن بہت سے سیاستدانوں کے ساتھ یہ ہوا کہ وہ اگر منظر سے ہٹ گئے تو انہیں دوبارہ ابھرنے کا موقع نہیں ملا۔ بے نظیر دور کے بعد غلام مصطفی کھر کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے، وہ جس بھی سیاسی پارٹی میں گئے غیر نمایاں ہی رہے۔ غالباً اسی لئے اب انہوں نے تحریک انصاف میں جانے کا فیصلہ کیا ہے، ان کا خیال ہوگا کہ پنجاب سے پیپلز پارٹی کی پسپائی کے بعد اب تحریک انصاف ہی ایک ایسی جماعت رہ گئی ہے جس کے سیاسی منظر پر ابھرنے کے امکانات ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ایئر مارشل (ر) اصغر خان بھی تحریک انصاف میں اپنی جماعت کو ضم کرچکے ہیں اور خورشید محمود قصوری سمیت دوسرے کئی سیاستدان بھی اس جماعت میں شامل ہیں، لیکن کیمروں کی روشنیوں کے سامنے عمران خان کے ساتھ جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی، عبدالعلیم خان، اسد عمر یا پھر دو چار دوسرے لیڈر ہی نظر آتے ہیں۔ چودھری محمد سرور بھی بڑی امیدیں لے کر تحریک انصاف میں گئے تھے لیکن لگتا ہے کہ ان کی تمام سرگرمی ایک آدھ اخباری بیان پر سمٹ کر رہ گئی ہے۔ ان بیانات کو بھی جمع کیا جائے اور ان میں سے تکرار نکال دی جائے تو اب تک شائع ہونے وال بیانات کو چند سطروں میں سمیٹا جاسکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پارٹی کے بعض ہمدرد انہیں پنجاب کا اگلا وزیراعلیٰ سمجھے بیٹھے ہیں، ان حالات میں غلام مصطفی کھر کا پارٹی میں کیا مستقبل ہے یہ وہی بہتر جانتے ہوں گے لیکن اتنا تو ضرور ہے کہ تحریک انصاف اگلے الیکشن میں سرگرمی سے حصہ لے گی۔ عوامی تحریک کے متعلق تو یہ بات بھی یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ وہ الیکشن لڑے گی بھی یا نہیں کیونکہ اس پارٹی کے قائد انتخابات کے سلسلے میں کبھی یکسو نہیں رہے، جب وہ الیکشن لڑنے پر آتے ہیں تو یہ دیکھے بغیر کہ کامیابی کا امکان کتنا ہے سینکڑوں حلقوں سے امیدوار کھڑے کردیتے ہیں، لیکن ریکارڈ کی بات یہ ہے کہ عوامی تحریک اب تک کے انتخابات میں صرف ایک ہی نشست جیت سکی ہے اور یہ اکلوتی نشست 2002ء میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے حصے میں آئی تھی، وہ چند ماہ تک رکن اسمبلی رہے پھر انہیں یہ ماحول پسند نہیں آیا اور وہ اسمبلی سے استعفا دے کر بیرون ملک چلے گئے، طویل عرصے تک وہ زیادہ تر بیرون ملک ہی رہے البتہ سال کے سال شہر اعتکاف میں معتکف ہوتے یا پھر عید میلاد النبیؐ کے اجتماع سے آن لائن خطاب ضرور کرتے رہے، پیپلز پارٹی کے دور میں انہوں نے اسلام آباد میں چار دن دھرنا دیا اور پھر بیرون ملک چلے گئے۔ 2013ء کے الیکشن سے پہلے آئے اور سپریم کورٹ سے الیکشن کے التوا کی درخواست کی چونکہ ان کی جماعت کا کچھ سٹیک پر نہیں لگا ہوا تھا اس لئے انہیں کوئی ریلیف نہ ملا۔ الیکشن کے کوئی سوا سال بعد انہوں نے اور عمران خان نے مل کر دھرنا دیا جس کی جزئیات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ان حالات میں غلام مصطفی کھر نے تحریک انصاف کو رونق بخشنے کا فیصلہ کیا ہے، دیکھیں ان کا قیام کب تک رہتا ہے؟
غلام مصطفی کھر