عرفان اللہ مروت کی پیپلز پارٹی میں شمولیت بختاور اور آصفہ کو پسند نہیں آئی


تجزیہ : قدرت اللہ چودھری
 پاکستانی سیاست میں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنا کبھی معیوب نہیں سمجھا گیا، سیاستدان اور سیاسی کارکن ہمیشہ ہی سے یہ شغل کرتے رہے ہیں اور آج تک جاری ہے، ایک زمانے میں تو راتوں رات ایک پوری پارٹی نے نام بدل لیا تھا۔ 77ء کے الیکشن سے پہلے بھی ہر روز اخبارات میں یہ خبر چھپتی تھی کہ فلاں صاحب اپنے ہزاروں ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں، اس زمانے میں تو کراچی کے بعض نامور شاعروں اور ادیبوں نے بھی پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی، جن کے بارے میں ذرا سا بھی شبہ تھا کہ وہ الیکشن جیت سکتے ہیں، انہیں پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، اگر وہ غالب کے الفاظ میں عجز و نیاز سے راہ پر نہ آئے تو ان کے دامن کو حریفانہ کھینچا گیا اور انہیں پارٹی میں لایا گیا، الیکشن جیتنے کی ’’سائنس‘‘ کے ماہرین کو بھی جماعت میں جمع کرلیا گیا، حالانکہ ستر کے الیکشن میں ایسے بہت سے ماہرین کو پارٹی کے تقریباً گم نام یا پہلی مرتبہ الیکشن لڑنے والے ٹکٹ ہولڈر ہرا چکے تھے۔ یہ حکمت عملی تو شاید کامیاب ہو جاتی لیکن ان انتخابات کے ساتھ دھاندلی کی چڑیل ایسی چمٹی کہ حکومت کا خون پی کر ہی ٹلی۔ 7 مارچ کو قومی اسمبلی کے الیکشن ہوئے جن پر دھاندلی کا الزام لگاکر قومی اتحاد نے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کردیا، تاہم حکومت نے قومی اور صوبائی اسمبلیاں تشکیل دے کر کام شروع کردیا، ارکان نے حلف بھی اٹھا لیا، لیکن جو تحریک دس مارچ (77ء) کو شروع ہوئی وہ 5 جولائی کو مارشل لا کے نفاذ پر ختم ہوئی‘ اس کی یاد یوں آئی کہ انتخابات میں تو ابھی ایک سال سے زیادہ پڑا ہے لیکن پیپلز پارٹی میں آنے (اور اس سے نکل جانے) کا سلسلہ تیزی کے ساتھ شروع ہوچکا ہے۔ قومی اسمبلی کی سابق سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور ان کے صاحبزادے صوبائی اسمبلی کے رکن حسنین مرزا کو بلیک لسٹ کیا جاچکا ہے۔ انہیں پارٹی سے نکالنا مقصود ہے یا پھر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ساتھ اس معاملے میں کوئی مصالحت ہو جائے گی یہ تو ابھی وقت بتائے گا، لیکن ان کے بارے میں خبریں آ رہی ہیں کہ وہ تحریک انصاف میں جانے والے ہیں۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے جب سے آصف علی زرداری سے ٹکر لی ہے وہ سیاسی طور پر اپنے ضلع (بدین) میں محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے بارے میں ایسی خبریں ہیں کہ وہ بھی تحریک انصاف میں جانے والی ہیں، ان کے چچا کے بارے میں تو یقین ہوچکا ہے کہ وہ باقاعدہ طور پر چند دنوں تک یہ اعلان کرنے والے ہیں۔ تحریک انصاف کے سابق صوبائی صدر نادر لغاری اپنی جماعت کو خیرباد کہہ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں۔ اب تک کی تازہ ترین انٹری عرفان اللہ مروت کی ہے، جنہوں نے گزشتہ روز بلاول ہاؤس میں آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی اور پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس وقت بلاول بھٹو زرداری گھر میں موجود تھے یا نہیں، اگر تھے تو ان کی عرفان اللہ مروت سے ملاقات ہوسکی یا نہیں لیکن ان کی شمولیت پر جس طرح بختاور بھٹو زرداری اور آصفہ زرداری نے ردعمل دیا ہے لگتا ہے وہ پہلے سے اس معاملے سے بے خبر تھیں ورنہ وہ بیان دینے کی بجائے عرفان اللہ مروت کا راستہ روکنے کی سعی کرتیں، دونوں بہنوں کے بارے میں یہ اطلاعات آتی رہی ہیں کہ آصفہ زرداری سیاست میں حصہ لیں گی البتہ بختاور کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زمینوں اور جائیدادوں کے معاملات دیکھیں گی کیونکہ انہیں اپنی خالہ صنم بھٹو کی طرح عملی سیاست سے زیادہ دلچسپی نہیں لیکن دونوں بہنوں کا جو مشترکہ بیان میڈیا کے ذریعے سامنے آیا ہے اس میں تو انہوں نے عرفان اللہ مروت کے بارے میں خاصا سخت رویہ اختیار کیا ہے، نہ صرف پارٹی میں ان کی شمولیت کی شدید مخالفت کی ہے بلکہ یہ تک کہہ دیا ہے کہ ایسے لوگوں کو تو جیل میں سڑنا چاہئے، اس بیان سے لگتا ہے کہ انہیں علم نہیں تھا کہ عرفان اللہ مروت کو پارٹی میں شامل کیا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین تو بلاول بھٹو زرداری ہیں، ان کا کوئی بیان اس سلسلے میں سامنے نہیں آیا، یہ بھی معلوم نہیں کہ بختاور اور آصفہ نے بیان دینے سے پہلے اپنے والد صاحب سے کوئی مشاورت کی یا نہیں، گمان تو یہی ہے کہ وہ یہ معاملہ ان کے علم میں ضرور لائی ہوں گی اور بعید نہیں کہ والد صاحب نے ان کی رائے سے اتفاق نہ کیا ہو اور انہیں سمجھایا ہو کہ وہ ابھی سیاسی توڑ جوڑ کا حقیقی ادراک نہیں رکھتیں، یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے مفاہمت کا وہ فلسفہ بھی ان کے سامنے رکھا ہو جسے کام میں لے کر پیپلز پارٹی نے پانچ سال تک وفاق میں حکومت کی اور ایم کیو ایم کو دونوں حکومتوں میں شامل رکھا۔ یہ بھی بعید نہیں کہ انہوں نے مستقبل کی سیاست کا نقشہ اپنی بیٹیوں کے سامنے رکھا ہو اور بتایا ہو کہ اس کے تقاضوں کے تحت ان لوگوں کو بھی پارٹی میں شامل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں جو ماضی میں پارٹی کے مخالف رہ چکے ہیں دونوں بہنوں نے اگر اپنے والد کے سامنے اپنا نقطہ نظر بیان کردیا تھا تو یہ بات یقینی ہے کہ میڈیا میں بیان دینے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ والد صاحب بیٹیوں کو مطمئن نہیں کرسکے، چنانچہ انہوں نے ایک سخت بیان کے ذریعے عرفان اللہ مروت کی پارٹی میں شمولیت کی مخالفت کردی۔ اب کیا ہوگا؟ کیا بیٹیوں کے اطمینان کی خاطر عرفان اللہ مروت سے معذرت کرلی جائے گی یا انہیں سمجھا بجھا کر خاموش کردیا جائے گا۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ بلاول نے بھی مروت کی شمولیت کی مخالفت کی ہو اور جب ان کی بات نہیں مانی گئی تو انہوں نے خود کچھ کہنے کی بجائے اپنی بہنوں سے وہ بات کہلوا دی ہو جو وہ خود کسی وجہ سے نہ کہہ سکتے ہوں مگر کسی نہ کسی شکل میں اپنی ناراضی کا اظہار بھی کرنا چاہتے ہوں۔ اب دو صورتیں ہیں یا تو عرفان اللہ مروت خاموش رہیں اور آصف علی زرداری بھی بچوں کو سمجھا لیں یا پھر یہ ہوگا کہ بچوں کی خوشنودی کی خاطر مروت کو واپسی کا راستہ دکھا دیا جائے گا کیونکہ اس معاملے میں وہ شاید بچوں کو ناراض کرنا پسند نہ کریں لیکن بختاور اور آصفہ کے مشترکہ بیان سے یہ بات تو واضح ہے کہ پارٹی کے اندر تمام امور پر اتفاق رائے نہیں ہے لیکن جس معاملے پر پارٹی کی ساری سینئر قیادت خاموش ہے، اس پر دونوں بہنوں نے بیان دے کر پوری قیادت کو حیران و ششدر کردیا ہے اور وہ سوچ رہے ہیں کہ اس معاملے میں وہ آصف زرداری کا ساتھ دیں یا ان کے بچوں کا، بلاول بھٹو کے موقف کا انتظار رہے گا۔