سینیٹر سعید غنی پیپلز پارٹی میں عرفان اللہ مروت کا راستہ روکنا چاہتے ہیں


تجزیہ : قدرت اللہ چودھری
 پیپلز پارٹی کے قائد آصف علی زرداری نے تو اپنے تئیں بڑا درست فیصلہ کیا تھا کہ جو سیاستدان قومی یا صوبائی اسمبلی (سندھ) کے رکن رہ چکے ہیں، انہیں پیپلز پارٹی میں شریک کیا جائے، ہر سیاسی جماعت ایسے امیدواروں کیلئے چشم براہ رہتی ہے جو اپنے مضبوط حلقے رکھتے ہوں اور اپنے زور بازو پر الیکشن جیت سکیں، پارٹی بھی اگر ایسے امیدواروں کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو کامیابی یقینی ہو جاتی ہے، آصف علی زرداری جب سے دبئی سے آئے ہیں، کراچی میں ایسی ہی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ عرفان اللہ مروت سے بھی ملاقات تو اسی لئے ہوئی تھی کہ انہیں بھی پیپلز پارٹی میں لایا جائے، لیکن آصف علی زرداری کی صاحبزادیوں نے اس پر کھلے عام اعتراض کر دیا اور ٹویٹ کے ذریعے اپنا بیان پورے ملک میں پھیلا دیا جس پر میڈیا میں بھی حاشیہ آرائی ہوئی، لطف کی بات یہ ہے کہ اس معاملے پر پیپلز پارٹی کے کسی سینئر یا جونیئر رہنما نے لب کشائی کی جرأت اب تک نہیں کی، حالانکہ جو بات بختاور بھٹو زرداری اور آصفہ نے کہی ہے وہ کوئی ایسی تو نہ تھی جو صرف انہیں معلوم تھی پوری پارٹی قیادت اس سے اچھی طرح باخبر تھی۔ اصولاً تو یہ پارٹی رہنماؤں کا فرض تھا کہ وہ آصف علی زرداری کو ایسے کسی فیصلے سے روکتے، جو پارٹی کے لئے بہتر نہ تھا۔ اب ردعمل دیکھ کر عرفان اللہ مروت نے بھی اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ تو پارٹی میں شامل ہوئے ہی نہیں وہ تو صرف ملاقات کے لئے گئے تھے۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے خلاف بختاور اور آصفہ کے بیان کے پس منظر میں سینیٹر سعید غنی ہیں، کیونکہ وہ اس حلقے سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں، جہاں سے وہ پہلے بھی جیت چکے ہیں، وہ 2002ء اور 2008ء میں بھی اس حلقے سے جیتے تھے۔ سعید غنی کو یہ خوف لاحق ہے کہ اگر عرفان اللہ مروت پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے تو پارٹی ٹکٹ بھی وہی لے اڑیں گے اور ان کا چانس ختم ہوکر رہ جائیگا۔ اب ایک دلچسپ صورت حال درپیش ہوگی اگر تو سعید غنی واقعی ایسی کوئی کوشش کر رہے تھے کہ پیپلز پارٹی میں عرفان اللہ مروت کی آمد روکی جائے اور انہوں نے اس مقصد کے لئے بختاور اور آصفہ سے بیان دلوا دیا اور عرفان اللہ مروت بھی اپنے اس بیان پر قائم رہتے ہیں کہ وہ تو صرف زرداری صاحب سے ملاقات کے لئے گئے تھے ان کا پارٹی میں شمولیت کا کوئی ارادہ نہیں تو پھر یہ طے ہے کہ عرفان اللہ مروت اور پیپلز پارٹی کے امیدوار کے درمیان انتخابی جوڑ پڑے گا۔ عین ممکن ہے سعید غنی اور عرفان اللہ مروت میں مقابلہ ہو جائے۔
سعید غنی سینیٹر مشاہد اللہ کی طرح ٹریڈ یونین کے راستے سے سیاست میں آئے ہیں، ان کے والد عثمان غنی ایم سی بی یونین میں سرگرم تھے، سعید غنی نے بھی بطور ٹریڈ یونین ورکر اس میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ سعید غنی کا الیکشن لڑنے کا تجربہ البتہ کونسلر تک محدود ہے، 2005ء کے بلدیاتی الیکشن میں وہ کونسلر منتخب ہوئے تھے۔ عین ممکن ہے کہ انہوں نے عرفان اللہ مروت کا راستہ روکنے میں کوئی کردار ادا کیا ہو، اور اگر ایسا نہیں بھی کیا تو بھی اگر ان کا الیکشن میں مروت سے مقابلہ ہوتا ہے تو وہ ایک سخت مقابلہ ہوگا۔ مروت اس وقت مسلم لیگ (ن) میں ہیں لیکن صوبہ سندھ میں یہ شکایت عام ہے کہ مسلم لیگ (ن) سندھ پر توجہ نہیں دے رہی اور اس کی اعلیٰ قیادت نے لاتعلقی کا رویہ اختیار کرکے سندھ کو عملاً پیپلز پارٹی کے لئے واک اوور دے رکھا ہے، حالانکہ اندرون سندھ بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں پیپلز پارٹی کا سخت مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں، ممتاز علی بھٹو نے اپنا سیاسی محاذ مسلم لیگ میں ضم کر دیا تھا لیکن جب انہیں سیاسی امور میں نظر انداز کیا گیا یا انہوں نے ایسا تاثر لیا تو انہوں نے بھی اپنا سیاسی محاذ بحال کرلیا۔
عرفان اللہ مروت کے معاملے پر پوری پیپلز پارٹی میں کسی دوسرے رہنما نے کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا، یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی رہنما آصف علی زرداری کے فیصلوں پر کسی قسم کی رائے زنی اس لئے نہیں کرنا چاہتا مبادا وہ ناراض ہو جائیں۔ اگر بختاور اور آصفہ بھی اس معاملے پر اظہار خیال نہ کرتیں تو پھر سوال یہ ہے کہ پارٹی میں وہ کون تھا جو عرفان اللہ مروت کا راستہ روکتا؟ یہی نظر آتا ہے کہ ساری لیڈر شپ اس فیصلے کو بلا چون و چرا تسلیم کرلیتی۔ یہاں تک کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اب تک اس معاملے پر کوئی اظہار خیال نہیں کیا۔ پارٹی کے بعض متحرک رہنما بھی اس معاملے پر مہر بلب ہیں۔ حالانکہ پیپلز پارٹی ایک جمہوری جماعت ہے اور اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کا فرض اور حق ہے کہ وہ ان امور پر کھل کر اظہار خیال کریں جو پارٹی پر اثر انداز ہوسکتے ہیں جس مسئلے پر بختاور اور آصفہ نے اپنے والد کی ناراضی کی پروا کئے بغیر کھل کر اظہار خیال کر دیا ہے اس پر پوری پارٹی کیوں خاموش رہی اور اب تک اس کی زبان پر تالے کیوں پڑے ہیں؟
مروت کا راستہ