یوٹرن کی روایت برقرار ، عمران خان نے 21فروری کو کہا فائنل لاہور میں ہونا چاہیے

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری
 عمران خان نے یہ فیصلہ منظر عام پر آتے ہی کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا فائنل لاہور میں ہوگا کوئی وقت ضائع کئے بغیر اپنا ردعمل ظاہر کردیا اور کہا کہ فائنل لاہور میں کرانا پاگل پن ہوگا کیونکہ اگر کوئی واقعہ ہوگیا تو پاکستان کی کرکٹ دس سال پیچھے چلی جائے گی۔ ان کے اس بیان پر ان حلقوں کو خاصی حیرت ہوئی جو 21 فروری کو ان کا یہ بیان پڑھ اور سن چکے تھے کہ فائنل لاہور میں ہونا چاہئے۔ جب عمران خان نے یہ کہا تھا اس وقت مال روڈ لاہور پر خودکش دھماکہ ہوچکا تھا جس میں دو اعلیٰ پولیس افسروں سمیت 13 قیمتی جانیں ضائع ہوچکی تھیں۔ اسی وقت یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ دھماکہ پی ایس ایل کے فائنل کے لاہور میں انعقاد کو روکنے کی سازش ہے لیکن آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ فوج اس ایونٹ کو بھرپور سکیورٹی دے گی اور فائنل لاہور میں ہی ہوگا۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھی اس رائے کا اظہار کیا، خود لاہور اس معاملے میں یک آواز تھا کہ دھماکے سے جو نقصان ہونا تھا وہ ہوگیا اب کرکٹ کے اس ایونٹ کو اگر لاہور میں منعقد نہ ہونے دیا گیا تو اس سے عالمی ٹیموں اور کھلاڑیوں کو غلط پیغام جائے گا، اس لئے فائنل لاہور میں ہی ہونا چاہئے۔ عمران خان نے بھی اس رائے کا ساتھ دیا اگرچہ اس وقت تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ پیر کے روز جونہی پنجاب حکومت کا یہ اعلان سامنے آیا کہ فائنل لاہور میں ہوگا تو عمران خان نے اپنا مؤقف بدل لیا۔ ہمارا خیال تھا کہ وہ صرف سیاسی معاملات ہی میں یو ٹرن لیتے ہیں لیکن انہوں نے خود ثابت کردیا کہ وہ کرکٹ پر بھی یو ٹرن لے سکتے ہیں۔ پی ایس ایل کے مقابلے ابھی گزشتہ برس ہی شروع ہوئے ہیں اور یہ اس کا دوسرا سال ہے۔ گزشتہ سال ہی اعلان کردیا گیا تھا کہ آئندہ کے مقابلے حسب سابق دبئی میں ہوں گے البتہ فائنل لاہور میں ہوسکتا ہے۔ اسی وقت سے یہ امید چلی آ رہی تھی کہ فائنل کیلئے لاہور کا انتخاب ہوگا۔ نجم سیٹھی بھی اس سلسلے میں پرامید تھے البتہ لاہور دھماکے کے بعد یہ خدشات ضرور پیدا ہوئے کہ اب شاید ایسا نہ ہوسکے لیکن وزیراعظم اور آرمی چیف کے بیانات کے بعد یہ امید ہوچلی تھی کہ فائنل لاہور ہی میں ہوگا۔ جب سے پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ سامنے آیا ہے لاہور میں جشن کا سماں ہے۔ لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر حملے کے بعد پہلی مرتبہ کوئی ٹیم اگر پاکستان میچ کھیلنے کیلئے آئی تو وہ زمبابوے کی ٹیم تھی۔ اگرچہ اس ٹیم کو بھی روکنے کی پوری کوشش کی گئی، کھلاڑیوں کو ڈرایا دھمکایا گیا، تاہم ٹیم اور زمبابوے کی حکومت اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے اور کئی دن تک لاہور میں کرکٹ کا میلہ سجا رہا۔ اس کے بعد پھر کوئی ٹیم پاکستاں نہیں آئی اور پاکستان کو اپنی ہوم سیریز بھی دبئی میں کرانی پڑتی ہے البتہ اس دوران یہ ضرور ہوا کہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں نمبر ون ہوگیا حالانکہ عالمی ٹیموں کے نہ آنے کی وجہ سے ٹیم کو پریکٹس کے زیادہ مواقع نہیں ملے تھے۔ اس موقع پر یہ بتانا ضروری ہے کہ جب آخری مرتبہ سری لنکا کی ٹیم لاہور آ رہی تھی تو بھارت نے ٹیم کو دورۂ پاکستان سے منع کیا تھا۔ ٹیم جب اپنے فیصلے پر ڈٹی رہی تو اسے خوفناک نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ لاہور میں ٹیم کو وی وی آئی پی سکیورٹی دی جائے گی لیکن یہ سکیورٹی کی ناکامی تھی کہ لبرٹی چوک لاہور میں ٹیم پر حملہ ہوگیا البتہ اس میں اطمینان کا پہلو یہ تھا کہ سری لنکا کے کھلاڑیوں میں سے کوئی زخمی نہیں ہوا اور ٹیم بخیر و عافیت واپس گئی البتہ اس کے بعد کرکٹ کے میدان اجڑ گئے، کرکٹ کیا دوسری کھیلوں کے بین الاقوامی کھلاڑیوں نے بھی پاکستان کا رخ نہیں کیا اور یوں بھارت کی یہ دھمکی کارگر ہوگئی کہ اگر سری لنکا کی ٹیم پاکستان کھیلنے کیلئے گئی تو اس کیلئے اچھانہیں ہوگا۔ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) اگرچہ ڈومیسٹک کرکٹ ہے تاہم ٹیموں میں بین الاقوامی کھلاڑی بھی شامل ہیں اس لئے ان میچوں کو بھی انٹرنیشنل حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ دبئی میں دوسری مرتبہ بھی میچ بڑی دلچسپی سے دیکھے گئے ہیں اور آغاز ہی سے شائقین کو امید تھی کہ فائنل لاہور میں ہوگا اس لئے اس فیصلے کا مجموعی طور پر خیرمقدم کیا گیا ہے یہاں تک کہ شیخ رشید احمد نے جو آج کل سیاست میں عمران خان کا دم بھرتے ہیں اس معاملے میں ان کے مؤقف کو عملاً مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عوامی سیاستدان ہیں اور عوامی انکلوژر کی ٹکٹ خرید کر میچ دیکھنے لاہور جائیں گے۔
لاہور میں دھماکے کے باوجود زندگی کا کارواں معمول کے مطابق چل رہا ہے اور لاہوریوں کے حوصلے پست کرنے کیلئے افواہوں کا جو بازار گرم رکھا گیا چند گھنٹے کے بعد وہ اپنی موت آپ مرگیا تھا۔ ڈیفنس میں سلنڈر گیس کے دھماکے کے بعد میڈیا پر افواہوں کا جو طوفان بدتمیزی اٹھا اس میں بعض چینلوں کی پھیلائی ہوئی افراتفری کو خاصا دخل حاصل تھا تاہم اس کے نتائج ان طاقتوں کے حسب منشا نہیں نکلے جو افواہیں پھیلا کر عام لوگوں کے حوصلے پست کرنا چاہتی تھیں۔ ایک ریستوران میں بم کی افواہ اڑا کر اس کمپنی کے باقی ریستوران بھی ضرور بند کرا دیئے گئے لیکن رات گئے تک لوگ ان ریستورانوں کا رخ کرتے رہے اور انہیں بند دیکھ کر لوٹ جاتے رہے۔ دھماکوں سے ڈر کر فائنل کا انعقاد لاہور میں نہ کرنا دہشت گردوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے مترادف ہوتا ہے۔
روایت برقرار