ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 32

سیرناتمام

استنبول کا آخری نظارہ

ایک دن کی اس فری وی آئی پی مہمانی کے مزے لینے کے بعد ہم ائیرپورٹ پہنچے ۔ الحمداللہ فلائٹ آن ٹائم تھی۔ مگر ہمیں سیٹیں الگ الگ ملیں کہ جہاز بالکل بھرا ہوا تھا۔ ہم نے کیبن کریو سے جہاز میں جاتے ہی درخواست کی تو اس نے ہمیں خود ایک جگہ لے جا کر ایک ساتھ بٹھادیا۔ باقی آنے والوں کو وہ خود سیٹ کرتا رہا۔

جہاز اڑ ا تو استنبول کا خوبصورت شہر ایک دفعہ پھر ایک حسین نظارہ پیش کرتے ہوئے سامنے آ گیا۔استنبول میں مکانوں کی چھتیں سرخ ہوتی ہیں ۔ آسمان سے نیچے زمین پر ہر طرف سرخ چھتوں کا منظر سامنے تھا۔کچھ دیر بعد جہاز ا سکودر کے اوپر پہنچا ۔ میں نے کھڑ کی سے نیچے جھانک کر دیکھا تو وہ سارا منظر نگاہ کے سامنے آ گیا جس کو میں اس سفرنامے میں جگہ جگہ بیان کرتا رہا ہوں ۔ آبنائے باسفورس کا پانی ایشیا اور یورپ کو جدا کرتا ہوا ایک طرف بحیرہ مرمرہ سے مل رہا تھا اور دوسری طرف گولڈن ہارن کی سمت مڑ رہا تھا۔گلاطہ ٹاور اور ٹیکسم نظر تو نہیں آ رہے تھے ، مگر وہ جس جگہ تھے وہ علاقہ بھی نظر کے سامنے تھا۔گولڈ ہارن کے دوسرے کنارے پرایوبیہ سے لے کر سلطان احمد کا سارا علاقہ بھی نظر کے سامنے آ گیا۔یہاں سے بالکل صاف نظر آیا کہ استنبول کی پہلی پہاڑ ی جس پر آیا صوفیہ اور توپ کاپی واقع ہیں ، سمندر میں خشکی کے ایک مستطیل ٹکڑ ے کی شکل میں اصل زمین سے آگے نکلی ہوئی ہے ۔اس سے آگے بحیرہ مرمرہ پھیلا ہوا تھا۔ ہم ذرا آگے بڑ ھے تو پرنسز آئی لینڈ بھی نظر آ گئے ۔ میں نے آج تک کسی فضائی سفر میں زمین کا نقشہ اتنے واضح اندا ز میں نہیں دیکھا۔ میں نے اس منظر کو اپنے کیمرے میں بھی محفوظ کر لیا۔

میں جس دن سفر کے لیے روانہ ہوا تھا اس سے ایک دن پہلے تک اتنا تھک چکا تھا کہ ایک صفحے کا مضمون لکھنا بھی مشکل ہو چکا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس سفر سے میری توانائیاں بحال کر دی تھیں ۔ ابن آدم ذریت شیطان سے جنگ کے لیے ایک دفعہ پھر تیار تھا۔

اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آسٹریلیا کا سفر

 میں نے جہازکی کھڑ کی کا شٹر(Shutter) اوپر کیا اور چالیس ہزار فٹ نیچے نظر ڈالی۔ نیچے کے منظر نے میرے اندر ایک عجیب کیفیت پیدا کر دی۔یہ بظاہر کوئی خاص منظر نہ تھا۔ سمندر ختم ہورہا تھا اور زمین شروع ہورہی تھی۔یہ زمین براعظم آسٹریلیا کی تھی جو اس وقت دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک کے لوگوں کے لیے مواقع کی سرزمین بنی ہوئی ہے ۔مگر میرے لیے اس منظرکو خاص بنادینے والی چیز یہ نہ تھی بلکہ خدا کی عظمت کا یہ احساس تھا کہ میرے رب نے زمین کو کس طرح پھیلارکھا ہے ۔ ایشیا، امریکہ اور یورپ کے بعد یہ ایک نیا براعظم تھاجہاں میں جا رہا تھا۔ میں زندگی میں پہلی دفعہ دھرتی کے جنوبی حصے میں داخل ہورہا تھا۔ اللہ رب العالمین کی دھرتی کے ایک بالکل مختلف حصے میں جہاں زمین کے شمالی کے برعکس چاند بھی الٹا ہوکر نکلتا ہے اور موسم بھی الٹ کر آتے ہیں ۔ اس نئی جگہ پرایک عاجز مطلق کو قادرمطلق کے حضور سرجھکانے اور اس کی کبریائی کے اظہار کا موقع مل رہا تھا۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 31

میں نے برابر والی نشست پر نظر ڈالی۔ میرے برابر میں بیٹھی ہوئی سارہ بہت اطمینان کے ساتھ سورہی تھی۔اس کے ابا بھی سورہے تھے ۔ اس کی اماں اور باقی بہنیں پچھلی نشست پر تھیں ۔یہ ایک یہودی خاندان تھا جو انگلینڈ سے آسٹریلیا جا رہا تھا۔ اس بچی کے چہرے کی معصومیت میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد صاف لکھا نظر آ رہا تھا۔ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔ پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں ۔

کھڑ کی سے آنے والی روشنی سے سارہ کے ابا کی نیند ڈسٹرب ہوئی تو انھوں نے مجھ سے کھڑ کی کا شٹر بند کرنے کے لیے کہا۔میں نے شٹرگرادیا۔ روشنی ختم ہوگئی۔میں نے دل میں سوچا۔لوگ دن کی روشنی میں غفلت کی نیند سورہے ہیں ۔جن کے پاس روشنی ہے ، انھیں اس روشنی میں خداکی عظمت کو دیکھنے میں خود کوئی دلچسپی نہیں وہ کسی اور کو عظمت خداوندی سے کیا متعارف کرائیں گے ۔

سارہ اوراس کے ابا نے دوپہر کے کھانے میں کوشر (یہودی حلال کھانا) کھایا تھا۔سیدناعیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ میں یہودی آج کے دن تک مچھروں کو چھان رہے ہیں اور اونٹوں کو سالم نگل رہے ہیں ۔ یہود نے مسیح کا کفر کیا۔ خدا نے فیصلہ کر دیا کہ قیامت تک کے لیے اب وہ مسیح کے پیروکاروں سے مغلوب رہیں گے ۔پھر سرکارِدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت بھری ہستی کے ذریعے سے پروردگار نے ان کو سنبھلنے کا ایک موقع دیا۔انھوں نے یہ موقع بھی ضائع کر دیا۔مگر افراد تو ابھی بھی نکلتے رہتے ہیں ۔ لیوپولڈویز( علامہ محمد اسد) کو کون صاحب علم نہیں جانتا۔ وہ یہودی پیدا ہوئے لیکن اپنی اہلیہ سمیت اسلام قبول کر کے مفسر قرآن اور عظیم مسلم دانشور بن گئے ۔

میں نے سارہ کو ایک دفعہ پھر دیکھا۔ وہ چھوٹی سی بچی تقریباًمیرے بیٹے کی عمرکی تھی۔ مجھے اس پر بہت پیارآیا۔ میں نے سوچا کہ خدا کو بھی اپنے بندوں پر بہت پیار آتا ہو گا۔اس وقت تو شاید سب سے زیادہ آ رہا ہے ۔ اسی لیے اس نے آج کے انسان کو وہ سب کچھ دے دیا ہے جو کبھی بادشا ہوں کو بھی نہیں دیا تھا۔ بحر وبرمسخر ہوگئے ۔ فاصلے سمٹ گئے ۔انفارمیشن ایج شروع ہوگئی ہے ۔ وقت آ گیا ہے کہ انسانیت کو رحمت اللعالمین کا پیغام پہنچایا جائے ۔ خدا نے اس زمین کو ابتدائی درجے میں جنت بنایا تھا۔ میں مغرب میں پہلے بھی دیکھ چکا تھا اور اس سفر میں دوبارہ دیکھا کہ خدا نے انڈسٹریل ایج کا آغاز کیا اور اہل مغرب نے اس کا فائدہ اٹھا کر اس جنت کو مزید بہتربنادیا ہے ۔ اب خدانے انفارمیشن ایج شروع کر دی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اپنی کامل جنت کی مکمل اور عالمی منادی کرادے ۔تاکہ کل جب قیامت کا دن آئے تو کوئی ’’سارہ ‘‘یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے اگر آپ کی کریم ہستی کا مکمل تعارف مل جاتا تو میں تڑ پ کرآپ کی حمد کرتی اور بہشت بریں کی امیدوار ہوتی۔کوئی انسان یہ نہ کہہ سکے کہ مالک آپ نے سائنس اور سماج کا پورا علم تو کھول کر رکھ دیا، مگر اپنی عطا اور رضا کا مکمل علم نہیں کھولاکہ ہم آپ کی عظمت کے احساس میں ڈوب کر آپ کی تسبیح کرتے اور جنت الفردوس کے امیدوار ہوتے ۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں پر کلک کریں

میں نے ایک نظر بند کھڑ کی کو دیکھا اورپھر ایک نظرمعصوم سارہ پر ڈالی ۔میرے دل نے کہا: اب وقت آ گیا ہے کہ صدیوں سے بند کھڑ کیاں کھولی جائیں ۔ ہدایت کی روشنی ہر انسان تک پہنچے ۔ خدا کی عظمت کا وہ منظرجو آج چندعارفوں کی نگا ہوں تک محدود ہے ، آنے والے کل میں ہر عام و خاص تک جاپہنچے ۔ خدا کی حمد جیسے آسمان پر ہوتی ہے ۔ ایسے زمین پر بھی ہو۔ اور جیسے زمین پر ہوتی ہے ، ویسے ہی دلوں کی زمین میں بھی کی جائے ۔کھڑ کی کھلے گی۔روشنی ہو گی۔ یہی اٹل فیصلہ ہے ۔(جاری ہے)

 ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 33 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں