ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 7

سیرناتمام

توپ کاپی پیلس میوزیم

اگلے دن پیر 30مئی کو ہم نے توپ کاپی پیلس دیکھنے کا پروگرام بنایا۔ کباتش پہنچ کر پہلی دفعہ میٹرو بس میں بیٹھے ۔ یہ بجلی سے چلنے والی انتہائی آرام دہ بس تھی۔ہمارے پاس نقشہ تھا۔ اس میں توپ کاپی کے اسٹیشن کا ذکرتھا اور یہ کافی دور تھا۔ ہم وہاں جا کر اترگئے ۔ پتہ چلا کہ یہ تو صرف نام کا توپ کاپی ہے ۔ اصل توپ کاپی پیلس تو سلطان احمد اسٹیشن پر واقع ہے ۔ خیر واپس لوٹے اور سلطان احمد پہنچ گئے ۔ یہاں ساری جگہ جانی پہچانی تھی کیوں کہ اسریٰ اور فلس کے ساتھ پرسوں ہی یہاں خوب گھومے تھے ۔ بلومسجد اور آیا صوفیہ کو باہر سے دیکھتے ہوئے ہم توپ کاپی میوزیم کے صدر دروازے سے اندر داخل ہوئے ۔ دور دور تک ایک وسیع و عریض باغ کا منظر تھا۔ اس کے بعد محل کے داخلی دروازے سے قبل ٹکٹ گھر آیا۔ چالیس لیرا کا ایک ٹکٹ تھا جسے خرید کرہم اندر داخل ہوگئے ۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 6  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

توپ کاپی محل ایک عمارت پر مشتمل معروف معنوں میں ایک محل نہ تھا۔ بلکہ یہ متعدد حصوں ، عمارتوں اوربیٹھکوں پر مشتمل گویا کہ ایک قلعہ تھا۔سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کو فتح کرنے کے بعد اس جگہ پر اپنے لیے ایک محل تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔یہاں آیا صوفیا کا چرچ اور بازنطینی دور کی بعض تعمیرات پہلے سے موجود تھیں ، مگر کوئی محل یا قلعہ نہ تھا۔ سلطان محمد فاتح کا محل 1459ء میں بنا اور اگلی چار صدیوں تک عثمانی سلاطین کی رہائش گاہ رہا۔سلاطین اوران کے وزرا اپنے ذوق کے مطابق عمارات میں تبدیلی یا اضافہ کرواتے رہے ۔یہاں تک کہ 1856میں سلطان عبدالحمیدنے ڈولمبا محل کے نام سے مغربی طرز تعمیر کا ایک محل اس جگہ بنالیا جہاں اب کباتش موجود ہے ۔

تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ جگہ کے لحاظ سے سلطان محمد فاتح کا انتخاب بہترین تھا۔ توپ کاپی محل استنبول کی سات مشہور پہاڑ یوں میں سے پہلی پہاڑ ی کے اختتامی حصے پر اس جگہ موجود تھا جہاں یہ پہاڑ ی سمندر کی سمت ایک دم سے اس طرح ختم ہوتی ہے کہ اوپر پہاڑ ی اور نیچے گہرائی میں سمندر ہے ۔آیا صوفیا اور بلو مسجد دونوں اس سے پہلے آتے ہیں ۔ اس جگہ سے کھڑ ے ہوکر بیک وقت بحیرہ مرمرہ، گولڈن ہارن اور باسفورس یعنی تین سمت میں سمندرکے تین مختلف حصے دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اس جگہ سے یہ منظر اتنا خوبصورت ہے کہ ہم لوگ بہت دیر تک اس آخری حصے پر بیٹھے بلندی سے سمندر کا نظارہ کرتے رہے ۔

توپ کاپی :ایک علامت

توپ کاپی صرف ایک محل کا نام نہیں ہے ۔ یہ انسانی تاریخ کی عظیم ترین سلطنت کانام بھی ہے جس نے چھ صدیوں تک دنیا پر راج کیا اور جس کی حکومت دنیا کے تین بر اعظموں یورپ، ایشیا اور افریقہ میں قائم تھی۔اس عظمت کو جاننے کے لیے عثمانی خلافت کی تاریخ کو مختصر سمجھنا ہو گا۔

عثمانی سلطنت کا آغازعثمان اول(1281-1326) سے ہوتا ہے جب 1299ء میں انھوں نے زوال پذیر سلجوقی سلطنت سے الگ ہوکر اپنی باقاعدہ خودمختار ریاست قائم کرنے کا اعلان کیا۔ان کا علاقہ موجودہ ترکی کے شمال مغرب میں واقع ایک چھوٹا ساشہر تھا جس کا نام ’’ا سکی شہر‘‘ ہے ۔عثمانی خاندان میں پے در پے اولعزم سلاطین پیدا ہوئے جو بتدریج سلطنت کا رقبہ بڑ ھاتے چلے گئے ۔ عثمانیوں نے 1453میں سلطان محمد فاتح (1432-1481)کی قیادت میں قسطنطنیہ پر قبضہ کر کے بازنطینی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔یوں گویا کہ وہ رومی سلطنت کے جانشین ہوگئے ۔ سلطان سلیم(1465-1520) کے زمانے میں مصر ومشرق و سطیٰ پر ان کا اقتدار قائم ہوا ۔ خلافت عباسیہ کا خاتمہ 1258میں تاتاریوں کے ہاتھو ں ہو چکا تھامگر ان کی آل واولاد مصر میں مقیم تھی۔سلیم نے مصر میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیا سے منسوب تبرکات حاصل کیے اور اس روحانی نسبت کے بعد خلافت کا اعلان کر دیا۔ یوں ڈھائی سو برس کے بعد سلطان سلیم مسلمانوں کا مرکزی خلیفہ بن گیا۔ اس نے حجاز پر قبضے کے بعد وہاں کا حاکم کہلانے کے بجائے خود کو خادم الحرمین کہلوایا۔

سلیم کے بیٹے (1494-1566)سلیمان عالیشان کے زمانے میں عثمانیوں کا اقتدار اپنے عروج پر جاپہنچا۔خلیج فارس سے لے کر بحیرہ روم تک، شمال میں قفقاز سے لے کر جنوب میں موجودہ الجزائر تک ، مغرب میں آسٹریا سے لے کر مشرق میں ایران تک عثمانیوں کا اقتدار قائم ہو گیا۔ آج کے دور میں جنوب مشرقی یورپ، مغربی ایشیا، مشرق وسطیٰ ، شمالی افریقہ اور روس کی سمت قفقاز تک کے جس علاقے میں درجنوں ممالک قائم ہیں وہ عثمانی سلطنت کا حصہ تھا۔ سیاسی، جغرافیائی، فوجی اور معاشی اعتبار سے یہ دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑ ی، مستحکم، مرکزی سلطنت تھی۔ تاہم اس کے بعد عثمانی خلافت کو بتدریج زوال شرو ع ہوا۔ انیسویں صدی تک یہ زوال تیز ہو گیا اور تقریباً چھ صدیوں تک ایک طاقتور ریاست اور مسلمانوں کی مرکزی خلافت کی حیثیت قائم رکھنے کے بعد پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر 1922میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہو گیا۔

توپ کاپی محل کے اثرات

میں اس تاریخ سے مختصراً اپنی اہلیہ کو آگاہ کر رہا تھا۔ وہ ترکی کے بعض تاریخی ڈراموں کی وجہ سے کچھ نہ کچھ اس سے واقف بھی تھیں ۔ہم کئی گھنٹے وہاں رکے ۔ اور وہاں درودیوار کو دیکھتے ہوئے بڑ ے گہرے تاثرکا شکار ہوئے ۔ایک طرف اس محل کے ساتھ عظمت کے ایسے افسانے وابستہ تھے اور دوسری طرف محل کے خالی اور ویران درودیوار جن میں چند لیرا دے کر کوئی بھی جا سکتا تھا۔ایک طرف خلافت، بادشاہت ، سلطنت کا وہ جاہ حشم کہ ادنیٰ گستاخی پر ایک اشارے پر کسی کا سرتن سے جدا ہوجاتا تھا اور آج یہ حال تھا کہ لوگ اپنے پاؤں تلے عظمت کے نشانوں کو روندتے ہوئے محل کے اندر ہرطرف دندناتے پھر رہے ہیں ۔ ایک طرف یہ حال تھا کہ دنیا بھر کی حسین ترین عورتوں سے بادشا ہوں کا حرم بھرا رہتا تھا اور جہاں خواجہ سرا کے علاوہ کسی مرد کا سایہ بھی نہیں جا سکتا تھا، آج اس حرم میں ہر شخص ٹکٹ خرید کر جا سکتا تھا۔ ایک وقت تھاکہ دنیا بھر کے سفیر شرف بازیابی کے منتظر رہتے تھے اور آج دنیا بھر کے سیاح اپنی مرضی کے مطابق جہاں چاہتے اطمینان سے چلے جاتے ۔ توپ کاپی محل میں پہاڑ ی کے کونے میں بنی مسجد کے سائے تلے بیٹھ کر میں یہ دیر تک سوچتا رہاکہ یہ دنیا اس کی بادشاہت، اس کی رونق، اس کی لذت، اس کی شان و شوکت، اس کا مال، اس کا جمال، اس کی قوت، اس کی طاقت کتنا بڑ ا دھوکہ ہے ۔ ہم دونوں میاں بیوی پر یہاں آ کر گہرا اثر ہوا۔ تاریخی عظمت کا بھی اور اس عبرت کا بھی جو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔

یہاں اس بات کا ذکر بھی مفید ہو گا کہ ایک اجنبی جب اس تاریخی عظمت سے اتنا متاثر ہوتا ہے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ترک قوم پر اس کا کیسا اثر ہو گا۔ یہ اثر پہلی جنگ عظیم کے موقع پر پوری طرح یوں ظاہر ہوا کہ جب ترکوں کے اپنے اصل علاقے یعنی موجودہ ترکی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ترکوں نے متحدہ یورپی قوت کو بھرپور شکست دی۔یہ اثر دوبارہ اس وقت ظاہر ہوا جب سیکولر طاقتوں نے تقریباً پون صدی تک اسلام کی روح کو یہا ں سے نکالنے کی کوشش کی۔ مگر انھیں اس میں شدید ناکامی ہوئی۔ لباس اور ثقافت کے بعض مظاہر اور آزادی کی روایت کے کچھ پہلوؤں کو چھوڑ کر ترک آج بھی انتہائی گہرے مسلمان ہیں ۔بدیع الزماں نورسی، فتح اللہ گولن، طیب اردگان اسی اسلامی روح کے مظاہر ہیں ۔تاہم ان کے باہمی معاملات، ترکی کی موجودہ بغاوت وغیرہ پر اگر یاد رہا توکہیں آگے چل کر بات ہو گی۔

میوزیم اور تبرکات

جیسا کہ عرض کیا کہ یہ محل بہت سی عمارات پر مشتمل ہے ۔ پہلے ایک بڑ ا صدر دروازہ ہے ۔ اس کے بعد ایک بڑ ا قطعہ ارضی ہے جو اب ایک پارک کا سا منظر پیش کرتا ہے ۔ پھر دوسرا دروازہ آتا ہے جو کہ اصل محل میں داخلے کا دروازہ ہے ۔یہاں شاہی دیوان ہے جہاں بادشاہ امرا سے ملتا تھا۔ یہ خوبصورت نقش ونگار سے مزین ایک ہال نما عمارت ہے ۔ اسی طرف ایک ہال میں مختلف زمانوں کا قدیم اسلحہ نمائش کے لیے موجود ہے جبکہ اس کے مقابل کے ہال میں مختلف قیمتی اشیا اور خلفاء کا شاہی خزانہ نمائش کے لیے رکھا گیا ہے ۔

اس کے بعد تیسرے دروازے سے بادشاہ کی ذاتی رہائش شروع ہوتی ہے جہاں اُس دور میں دوسروں کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔اس جگہ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں وہ متبرکات موجود ہیں جن کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، انبیائے بنی اسرائیل اور خلفائے راشدین سے ہے ۔

ہم یہاں پہنچے تو دیکھا کہ الگ الگ کمروں میں مختلف متبرکات رکھے ہوئے ہیں ۔ پہلے حصے میں انبیائے بنی اسرائیل سے منسوب چیزیں ہیں ۔ جیسے حضرت داؤد کی تلوار ، حضرت یوسف کا عمامہ اور حضرت موسیٰ کا عصا وغیرہ۔ دوسرے کمرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین سے متعلق متبرکات موجود ہیں ۔ تیسرے میں موئے مبارک، حضرت حسین اور حضرت فاطمہ سے منسوب لباس موجود ہیں ۔

یہاں پر ایک قاری خوبصورت انداز میں قرآن مجید کی تلاوت کر رہا تھا۔ جس سے ماحول میں تقدس کا احساس زندہ تھا۔ یہاں آ کر ایک سب سے بڑ ا احساس یہ زندہ ہوا کہ ایک ایمپائر وہ تھی جس کو بادشا ہوں نے قائم کیا۔ بادشا ہوں کی بنائی ہوئی ایمپائر آخر کار ختم ہوجاتی ہے ۔ دوسری ایمپائر انبیا علیھم السلام نے قائم کی۔ یہ دعوہ ایمپائر تھی۔ یہ وہ ایمپائر جس نے پوری کی پوری قومیں پیدا کر دیں ۔ اس کے نتیجے میں سلطنتیں قائم ہوئیں ۔اور یہ وہ ایمپائر جو کل قیامت کے دن جنت میں لوگوں کی بادشاہت قائم کرنے کا باعث بنے گی۔

یہاں کا اصل سبق میرے لیے یہ تھا کہ مسلمانوں کو دنیا کی سلطنت کے بجائے دعوہ ایمپائر قائم کرنے کی جدوجہد کرنا چاہیے ۔ کیونکہ دنیا اور آخرت کی ہر خیر اسی دعوہ ایمپائر سے جنم لیتی ہے ۔مسلمان جس سیاسی اقتدار کے پیچھے لگے ہیں ، اس کا راستہ بھی یہیں سے کھلتا ہے ۔ (جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 8 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں